ایران امریکہ مذاکرات حتمی معاہدے تک کیوں نہیں پہنچ پائے؟

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ حالیہ مذاکرات میں کچھ امور پر پیش رفت ضرور ہوئی، تاہم چند اہم نکات پر اختلاف برقرار رہنے کے باعث کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے مذاکرات کی میزبانی پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت ایک اہم سفارتی کوشش تھی، جس میں مختلف حساس اور اہم معاملات زیرِ بحث آئے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام، جنگی ہرجانے اور پابندیوں کے خاتمے جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور مکمل امن کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی ترجمان کے مطابق دو سے تین اہم نکات پر اختلافات برقرار رہے، جو معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اس سفارتی عمل کی کامیابی کا دارومدار مخالف فریق کی سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے، اور ضروری ہے کہ غیر ضروری مطالبات سے گریز کیا جائے اور ایران کے جائز مفادات کو تسلیم کیا جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ مذاکرات مکمل طور پر ناکام نہیں ہوئے، لیکن اہم اختلافات کے باعث فی الحال کسی بڑے بریک تھرو کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

Back to top button