عمران پاکستان مخالف طالبان کا ایجنڈا کیوں آگے بڑھا رہے ہیں ؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان مخالف افغان طالبان اور تحریک طالبان کے علاوہ اب یورپی طاقتوں کو بھی عمران خان کی صورت میں پاکستان کے اندر ایک ایسا شخص مل گیا ہے جو ان کے ایجنڈے کو پورا کرتے ہوئے ملک کو اندرونی طور پر کھوکھلا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک جانب عمران خان اندر سے سسٹم کو چیلنج کر رہا ہے،  جبکہ دوسری طرف افغان سرحد پر طالبان اور ٹی ٹی پی بیٹھے ہیں جو روزانہ درجنوں فوجی جوانوں کو شہید کر رہے ہیں۔

2024 میں تحریک طالبان کے دہشت گرد حملوں میں پاک فوج کے 380 جوان شہید ہوئے جو کوئی چھوٹی تعداد نہیں۔ تیسری طرف بھارت ہماری مشرقی سرحد پر بیٹھا ہے اور یہ کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے چناں چہ آپ صورت حال کی نزاکت دیکھ لیجیے۔

اپنے تازہ تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ پاکستان نے دسمبر 2024 میں دو سال کے تعطل کے بعد طالبان کے ساتھ رابطے اور مذاکرات شروع کیے، اس سے قبل ہمارے وزیرخارجہ نے دو سال میں افغان ناظم الامور سے ملاقات تک نہیں کی ، 24دسمبر کو محمد صادق خان کی سربراہی میں ہمارا وفد کابل گیا، یہ وفد نائب صدر کے ڈنر میں بیٹھا تھا کہ 25 دسمبرکی رات پاک فوج نے پکتیا کے علاقے میں ٹی ٹی پی کے چار ٹھکانوں پر فضائی حملہ کر دیا جس میں 24 خودکش حملہ آور بھی مارے گئے اور ٹی ٹی پی کے بارود کا ذخیرہ بھی اڑ گیا، یہ طالبان اور ٹی ٹی پی دونوں کا بڑا نقصان تھا۔

دراصل اب پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات بھی جاری رہیں گے اور اس کے خلاف فوجی آپریشن بھی چلتے رہیں گے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک ٹی ٹی پی ختم نہیں ہو جاتی۔ انکے مطابق افغان طالبان حکومت اور تحریک طالبان دونوں چاہتے ہیں کہ فاٹا کا پرانا سٹیٹس بحال کر دیا جائے اور وہاں ان کی رٹ بحال ہو جائے۔ اسی طالبان دہشت گرد حملوں کے ذریعے پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں پاکستان نے افغانستان کے لیے بہت قربانیاں دیں، ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے لے کر سوویت یونین کے خاتمے تک پہلے افغان کمانڈرز کی پرورش کی، ہم پھر طالبان کی مدد میں جت گئے اور آخر میں ہم حامد کرزئی کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ تاہم امریکی فوجوں کے کابل سے انخلا کے بعد سے افغانستان کی طالبان حکومت ایک دوست کی بجائے دشمن ہمسائے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس وقت پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستان مخالف تحریک طالبان کے جنگجوؤں کو بھرپور مدد فراہم کر رہی ہے جس سے اب تک سینکڑوں فوجی جوان اور سویلینز اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

 جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ امریکا یا نیٹو فورسز نے 2021 میں افغانستان چھوڑ دیا تھا، پاکستان اور امریکا دونوں افغانستان میں کولیشن حکومت چاہتے تھے لیکن اشرف غنی کے فرار کی وجہ سے طالبان پورے ملک پر قابض ہو گئے اور انھوں نے عارضی حکومت بنالی، امریکا نے اس حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، یہ آج بھی طالبان کے خلاف ہے لیکن اس کے باوجود امریکا اب تک تین برسوں میں افغانستان پر 21 بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے، یہ رقم کہاں کہاں خرچ ہوئی اس کی تفصیل طویل ہے، ہم سردست آپ کو دو حقیقتیں بتاتے ہیں۔

جاوید چوہدری کے مطابق پہلی حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے یو این کے ذریعے افغانستان میں تعلیم، انسانی حقوق اور صنفی آزادیوں کے چند ادارے بنارکھے ہیں، یہ ادارے نام کے ہیں اور افغان معاشرے میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے لیکن امریکا یو این کے ذریعے ہر ہفتے افغانستان کو 40 ملین ڈالر دیتا ہے، یہ رقم کینیا کے ذریعے کابل پہنچائی جاتی ہے، ہر منگل کے دن نیروبی سے یو این کا خصوصی جہاز کابل آتا ہے، اس سے 40 ملین ڈالر کے باکس اتارے جاتے ہیں اور یہ رقم افغانستان کے ریزرو بینک میں جمع کرا دی جاتی ہے، یو این بعدازاں ریزرو بینک سے افغانی کرنسی نکال کر این جی اوز کو دے دیتا ہے اور یہ طالبان حکومت کے لیے امریکا کی سیدھی سادی مدد ہے، ہم اگر افغانستان کی اکانومی کو دیکھیں تو یہ شیخوپورہ کی معیشت سے بھی چھوٹی ہے۔ اس چھوٹی سی معیشت میں 160 ملین ڈالر ماہانہ اور تقریباً دو بلین ڈالر سالانہ کا اضافہ ایک بہت بڑی مدد ہے اور یہ سلسلہ پچھلے تین برسوں سے چل رہا ہے۔

سینیئر صحافی کے مطابق دوسری حقیقت یہ ہے کہ امریکی سی آئی اے بھی افغانستان میں فنڈنگ کر رہی ہے، سی آئی اے کا ڈائریکٹر اور اس کا سٹاف کابل میں موجود ہے، یہ لوگ القاعدہ اور داعش کے کنٹرول کے نام پر طالبان کی اکانومی کو سپورٹ کر رہے ہیں، کابل میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں افغانستان کے وزیردفاع ملا یعقوب کے بھارت سے تعلقات استوار ہو چکے ہیں اور بھارت بھی اب ٹی ٹی پی کے لیے افغانوں کو رقم دے رہا ہے چناں چہ طالبان اس وقت حامد کرزئی کے فارمولے کے مطابق امریکا اور بھارت کے لیے کرائے پر دستیاب ہیں حتیٰ کہ یہ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے مجاہدین دکھا کر چین سے بھی رقم اینٹھ رہے ہیں، یہ سی آئی اے کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں کہ آپ ہمیں اتنی رقم دے دیں تا کہ ہم القاعدہ کو سرحدوں سے دور ہلمند میں آباد کر دیں، چنانچہ سی آئی اے رقم دے دیتی ہے۔

 جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ یہ القاعدہ کو ہلمند بھجوا دیتے ہیں لیکن چند ماہ بعد یہ سب واپس کابل آ جاتے ہیں اور اس کے بعد وصولیوں کا نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، چین کے ساتھ بھی تین سال سے یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے، رقم لیتے ہیں، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے مجاہدین کو چین کی سرحد سے دور بھجواتے ہیں اور چند ماہ بعد یہ دوبارہ چین کی سرحد پر ہوتے ہیں،امریکا اس جعل سازی سے پوری طرح واقف ہے لیکن جان بوجھ کر خاموش ہے، کیوں؟

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ طالبان نے 2022 میں پاکستان کو بھی آفر کی تھی، آپ ہمیں 20 ارب روپے دے دیں ہم ٹی ٹی پی کو کنڑ، پکتیا اور خوست سے نکال کر وسطی افغانستان یا پھر ازبکستان کی سرحد پر شفٹ کر دیں گے، پاکستان راضی ہو گیا لیکن پھر کسی نے سمجھایا آپ ایک نیا کھاتا کھولنے لگے ہیں جس میں آپ کو ہر چند ماہ بعد مزید رقم ڈالنا پڑے گی لہٰذا پاکستان پیچھے ہٹ گیا۔

کیا فیض احمد فیض اور جنرل فیض حمید کے جرائم ایک جیسے ہیں؟

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ آپ کے ذہن میں یقینا اب یہ سوال پیدا ہو رہا ہو گا طالبان اور ٹی ٹی پی آخر پاکستان سے کیا چاہتے ہیں؟ ان کے دو مقاصد ہیں، اول پاکستان نے فاٹا ریفارمز کے ذریعے 2018 میں فاٹا کا اسٹیٹس ختم کر دیا تھا، طالبان اور ٹی ٹی پی اس فیصلے کی واپسی چاہتے ہیں، اس کی وجہ ان کے ٹھکانے ہیں، یہ ماضی میں قبائلی علاقے میں آ کر چھپ جاتے تھے، یہ علاقے اب کیوں کہ سیٹل ایریاز بن چکے ہیں چناں چہ طالبان کو خطرہ ہے کل جب افغانستان سے ہماری حکومت ختم ہو جائے گی تو پھر ہم کہاں جائیں گے لہٰذا یہ فاٹا کی واپسی چاہتے ہیں اور دوسرا بیرونی طاقتیں ان کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ بھارت ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان میں افراتفری پھیلانا چاہتا ہے تاکہ پاکستان معاشی طور پرآزاد نہ ہو سکے جب کہ امریکا اور اسرائیل پاکستان کو جوہری طاقت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے طالبان اور ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف ان دونوں کاموں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ اگر کوئی کسر باقی تھی تو یہ بانی پی ٹی آئی نے پوری کر دی۔

Back to top button