ایپسٹین فائلز میں عمران خان اور شاہ محمود کے نام کیوں آ گئے؟

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی بدنامِ زمانہ ایپسٹین فائلز میں دنیا بھر کی معروف شخصیات کے نام سامنے آنے کے بعد تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں، ان دستاویز کے اجرا کے بعد یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ عالمی سطح پر طاقتور حلقوں کے درمیان روابط، غیر رسمی سفارت کاری اور ذاتی نیٹ ورکس کس حد تک پالیسی سازی اور عالمی منصوبوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایپسٹین فائلز سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے جڑے مالی، سماجی اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک، روابط، ملاقاتوں اور ای میل خط و کتابت پر مشتمل ہیں۔ ان دستاویز میں سینکڑوں سیاستدانوں، بزنس مینوں اور عالمی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے نام شامل ہیں، لیکن امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تمام ناموں کو ایک ہی زاویے سے دیکھنا درست نہیں کیونکہ ہر حوالہ کسی غیر قانونی سرگرمی کی نشاندہی نہیں کرتا۔

ایپسٹین فائلز میں پاکستان سے متعلق حوالہ جات محدود، سرسری اور ای میل خط و کتابت تک محدود ہیں۔ ان میں نہ تو کسی براہِ راست مالی لین دین کا ذکر ہے اور نہ ہی کسی فوجداری نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں، تاہم عالمی سطح پر ان دستاویزات کے اجرا کے باعث پاکستان کا نام بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
ایپسٹین فائلز میں عمران خان سے متعلق جو ای میلز اور حوالے سامنے آئے ہیں ان میں زیادہ تر پس منظر عالمی سفارتی، سماجی اور صحت کے منصوبوں سے جڑا ہوا ہے۔ ایک ای میل میں بتایا گیا ہے کہ ایپسٹین نے عمران خان کو ترک صدر اردوان، ایران کے خامنہ ای، چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر پیوٹن سے بھی زیادہ بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ خصوصاً اسرائیلی اور مغربی مفادات کے تناظر میں۔

مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اور جیفری ایپسٹین سے منسلک ٹیموں کے درمیان ہونے والی بعض ای میلز میں پاکستان میں پولیو کے خاتمے سے متعلق پروگراموں کا ذکر ملتا ہے۔ ان ای میلز میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے سابق مشیر بورس نیکولک کا نام بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک ای میل میں ایک نامعلوم شخص ایپسٹین کو آگاہ کرتا ہے کہ پاکستان اور نائیجیریا میں پولیو ٹیموں پر حملے ہو رہے ہیں اور اس تناظر میں ممکنہ کردار یا ردِعمل پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ ایک اور ای میل میں، جو بورس نیکولک اور جیفری ایپسٹین کے درمیان بتائی جاتی ہے، اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بل گیٹس پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی اس خبر پر خوش نہیں تھے جس میں عمران خان سے فون پر ممکنہ گفتگو کا ذکر سامنے آیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس قسم کی خبریں پاکستان میں پولیو مہم کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ یہ تمام حوالہ جات ذاتی آراء اور اندرونی خط و کتابت کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔

اسی طرح ستمبر 2018 کی ایک ای میل میں گولڈمین سیکس سے وابستہ جیڈ زیٹلِن نے جیفری ایپسٹین کو لکھا کہ ان کے خیال میں بطور وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان اس سست رفتار کار کی طرح چل رہا ہے جو کہ حادثے کا شکار ہو چکی ہو۔

ایپسٹین فائلز میں شامل ایک اور اہم حوالہ 2013 کی ایک اندرونی سفارتی ای میل سے متعلق ہے، جس میں اقوامِ متحدہ کی سابق عہدیدار نصرہ حسن نے ناروے کے سفارت کار تیرژے رود لارسن کو لکھا کہ عمران خان لندن کی اشرافیہ میں ایک نمایاں اور مؤثر شخصیت ہیں۔ اس ای میل میں کہا گیا کہ عمران خان کے عالمی روابط اور مغربی دارالحکومتوں تک رسائی انہیں اُس وقت کے نو منتخب وزیر اعظم نواز شریف کے مقابلے میں بعض حساس سفارتی اور صحت سے متعلق معاملات، خصوصاً پولیو کے خاتمے جیسے منصوبوں میں، زیادہ مؤثر رابطہ ذریعہ بنا سکتی ہے۔
یہ خط و کتابت اُس وقت کی ہے جب عمران خان اپوزیشن لیڈر اور عالمی شہرت یافتہ سابق کرکٹ سٹار تھے اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ اس صوبے میں پولیو ویکسینیشن مہمات کو شدید مزاحمت کا سامنا تھا، جس کے باعث عالمی ادارے تشویش میں مبتلا تھے۔ ای میل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز عمران خان کی سماجی مقبولیت اور عالمی پہچان کو ایک ممکنہ سفارتی سہولت کے طور پر دیکھ رہے تھے، نہ کہ کسی غیر قانونی سرگرمی کے تناظر میں۔

ایپسٹین فائلز میں 2010 کی ایک ای میل کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے جو جیفری ایپسٹین اور جے پی مورگن کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے درمیان ہوئی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اس ای میل میں بعض غیر ملکی شخصیات کی ایپسٹین کے ساتھ نجی ملاقاتوں کا ذکر موجود ہے، جن میں اُس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نام بھی بتایا گیا ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق اس حوالے میں ملاقات کی نوعیت، مقام یا مقصد سے متعلق کوئی تفصیلی یا الزامی مواد شامل نہیں، اور نہ ہی اسے کسی غیر قانونی عمل سے جوڑا گیا ہے۔
غیر سیاسی اور ضمنی حوالہ جات

ایپسٹین فائلز میں پاکستان سے متعلق چند غیر سیاسی حوالہ جات بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض ای میلز میں جیفری ایپسٹین کو پاکستانی شلوار قمیض کے لیے پسند کا اظہار کرتے دکھایا گیا ہے۔ ایک ای میل میں وہ شلوار اور قمیض کے ناموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں، جبکہ ایک اور ای میل میں انہیں پاکستان سے ملبوسات کے پانچ جوڑوں کی شپمنٹ جلد پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ان حوالہ جات کو ثقافتی یا ذاتی دلچسپی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بھی متعدد بار آیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ جاری کی گئی نئی دستاویزات میں ان کے خلاف کسی غیر قانونی سرگرمی کا کوئی ثبوت موجود نہیں اور فائلز نے انہیں الزامات سے بری کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایپسٹین فائلز میں شامل تمام ناموں کو یکساں نوعیت یا ذمہ داری کے ساتھ دیکھنا درست نہیں۔ پاکستان سے متعلق حوالہ جات کو غیر مرکزی، محدود اور زیادہ تر ای میل خط و کتابت تک محدود قرار دیا جا رہا ہے۔

Back to top button