عمران خان اسٹیبلشمینٹ کو نیوٹرل کیوں نہیں سمجھ رہے؟

ماضی کے برعکس اس مرتبہ اپوزیشن کی بجائے حکومت کی جانب سے یہ الزام عائد ہونا شروع ہو گیا ہے
کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبداری کی چادر تان کر دراصل وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں ایک فریق کا کردار ادا کر رہی ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد ہونے والے حکومتی اجلاسوں میں انہیں وزیراعظم کی گفتگو سے بار بار یہ تاثر ملا ہے کہ جیسے اسٹیبلشمنٹ غیر جانبداری کی آڑ میں اپوزیشن کا ساتھ دے رہی ہے۔ وزیر اعظم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل ہونے کے بعد سے اتحادیوں کی جانب سے بلیک میلنگ کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ان سب کی باگیں اسٹیبلشمینٹ کے ہاتھ میں ہیں لہذا اگر وہ حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کے ساتھ جاتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار نہیں رہی۔
تاہم عسکری ذرائع وزیراعظم کے اس موقف کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی جانب سے ایسا تاثر دینے کا بنیادی مقصد اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر ان کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ اپوزیشن ذرائع کہتے ہیں کہ حال ہی میں وزیراعظم کی جانب سے نیوٹرل کو جانور قرار دینے کا مقصد بھی یہی تائثر دینا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کو ماضی کی طرح پوزیشن لینی چاہیے اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نے نیوٹرل کو جانور قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ انسان تو برے اور اچھے میں سے کسی ایک کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرتا ہے جب کہ جانور عقل و فہم نہ ہونے کی بنا پر نیوٹرل رہتا ہے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو اپنا یہ بیان الٹا پڑ گیا اور اسٹیبلشمنٹ نے اور بھی زیادہ محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے ان سے مزید دوری اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں ان کے اتحادی بھی اب ان سے منہ موڑنے والے ہیں۔
یاد رہے کہ جس دن سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی، اس دن سے نمبرز گیم تو اپنی جگہ لیکن پارلیمینٹ کے اندر اور باہر امپائر کے نیوٹرل ہونے کا ذکر بھی ہر ایک کی زبان پر ہے۔ ایک تاثر دیا جا رہا ہے کہ اپوزیشن کے دعوے اپنی جگہ لیکن تمام تر صورت حال اب بھی امپائر کے کنٹرول میں ہے۔ حکومتی حلقوں کو اب بھی یہ امید ہے کہ آخری لمحات میں امپائر کی انگلی اگر حکومت کے حق میں کھڑی ہو گئی تو کھیل کا پانسا پلٹ سکتی ہے؟ اسلام آباد میں حکومتی حلقے یہ دعوی کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم کے ایماء پر کچھ اہم حکومتی وزرا نے فوجی قیادت سے ملاقات کرکے انہیں اپنی غیر جانبداری ختم کرنے کی درخواست کی یے جس کے بعد گیم کا پانسہ وزیر اعظم کے حق میں پلٹنے کا واضح امکان ہے۔
لیکن حزب اختلاف کے ذرائع اس حکومتی امید کو دیوانے کا خواب قرار دے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس نازک موقع پر اسٹیبلشمنٹ ایک مرتبہ پھر سیاست میں کود کر اپنی ساکھ خراب کرنے کا رسک نہیں لے گی۔
اپوزیشن کو اپنی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا اتنا یقین ہے کہ اب وہ اگلے وزیر اعظم، صدر، سپیکر، ڈپٹی سپیکر سمیت چیئرمین سینیٹ کے نام فائنل کرنے میں مصروف ہے۔ اپوزیشن ذرائع کہتے ہیں کہ اگلے سیٹ اپ میں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ آصف علی زرداری صدر ہوں گے جبکہ شہباز شریف وزیراعظم بنیں گے اور اگلی حکومت اگلے ڈیڑھ برس چلے گی۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سینیٹ میں بھاری اکثریت کے باوجود چیئرمین سینیٹ کے الیکشن اور اہم قانون سازیوں پر حکومت کے ہاتھوں شکست کھانے والی اپوزیشن اگر قومی اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے کے باوجو اس بار اتنی پر اعتماد ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اسے اپنی کامیابی کا یقین ہے۔
قومی اسمبلی پر نظر دوڑائی جائے تو یہ 342 میں سے ایک نشست خالی ہونے کے باعث اس وقت 341 اراکین پر مشتمل ہے۔ حکومت کے پاس اتحادیوں کی حمایت سمیت 179 اراکین ہیں جبکہ اپوزیشن کی نشستوں پر 162 اراکین ہیں۔ اپوزیشن کے تین اہم حکومتی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی سے مذاکرات جاری ہیں۔ ان تینوں جماعتوں کے کل اراکین قومی اسمبلی کی تعداد 17 بنتی ہے۔ تینوں جماعتوں نے اپوزیشن کو سپورٹ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
اگر اپوزیشن یہ 17 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اپوزیشن کو 179 جبکہ حکومت کو 162 اراکین کی حمایت حاصل ہوگی۔ یوں وزیر اعظم اعتماد کھو بیٹھیں گے۔
یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ وزیر اعظم کو ایک لسٹ پیش کی گئی ہے جس میں تحریک انصاف کے 25 سے زائد ممکنہ طور پر منحرف اراکین قومی اسمبلی کے نام شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسی لیے وزیراعظم نے گھبرا کر جلسے میں یہ الزام عائد کردیا ہے کہ اپوزیشن سندھ ہاؤس کو ہارس ٹریڈنگ کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی نے بھی یہ دعوی کیا ہے کہ اس وقت 15 سے 16 حکومتی اراکین قومی اسمبلی اپوزیشن کی تحویل میں ہیں اور عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن وہ وزیر اعظم کے خلاف ووٹ کاسٹ کریں گے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گی۔ لیکن پیپلزپارٹی کے سابق چیئرمین سینیٹ نیر بخاری کا کہنا ہے کہ ماضی اور حال کی تحریک عدم اعتماد میں واضح فرق ہے۔ ماضی میں بےنظیر بھٹو کے خلاف ایک سازش کے تحت تحریک عدم اعتماد لائی گئی جو اس لئے کامیاب نہ ہو پائے کہ پیپلز پارٹی کا ایک بھی رکن قومی اسمبلی اپنی حکومت کے خلاف نہیں گیا۔ لیکن دوسری جانب عمران خان کے خلاف تحریک عوام کی خواہش پر لائی گئی ہے جو اس لیے کامیاب ہو گی کہ حکمران جماعت تحریک انصاف اس وقت بہت واضح طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر کئی گروہوں میں بٹ چکی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے اپنے ارکان اب حکومت کے ساتھ نہیں رہے کیوں کہ ان کو پی ٹی آئی میں اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور باپ نے اپوزیشن کی حمایت کا اعلان کر دیا تو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی ضرورت ہی نہ پڑے گی کیونکہ عمران خان قومی اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھیں گے اور پھر ان کے پاس اسیفہ دینے کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہیں رہے گی۔
