انڈیا پاکستان میزائلوں کی جنگ کیوں چھڑنے والی تھی؟

13 مارچ کو پاکستانی حدود میں بھارتی میزائل گرنے کے فوری بعد پاکستانی افواج نے بھی جوابی کارروائی کی تیاری کر لی تھی جو آخری لمحات میں یہ پتہ چلنے کے بعد روک دی گئی کہ بھارتی میزائل غلطی سے پاکستانی حدود میں گرا تھا۔ یوں نیوکلیئر طاقت کے حامل ہمسایہ ممالک بھارت اور پاکستان کے مابین میزائلوں کی جنگ چھڑتے چھڑتے رک گئی۔ یاد رہے کہ بھارتی میزائل گرنے سے پاکستان میں رہائشی املاک کا نقصان تو ہوا تھا لیکن کوئی انسانی جان ضائع نہیں ہوئی تھی۔
امریکا کے معروف میڈیا ادارے بلومبرگ نے سینیئر حکام کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ بھارتی میزائل گرنے کے فوری بعد پاکستان نے بھی جوابی حملے کے طور پر اسی قسم کا ایک میزائل بھارت کے اندر فائر کرنے کی تیاری کر لی تھی، لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہی اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ بھارت کا برہموس میزائل بغیر کسی وار ہیڈ کے تھا اور غلطی سے پاکستانی حدود میں آ گرا تھا۔ بلومبرگ کا دعوٰی ہے کہ انڈین ائیر فورس نے دہلی سے تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پنجاب کے امبالا سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے برہموس کروز میزائل فائر کیا تھا جو پاکستانی پنجاب کے علاقے میاں چنوں میں جا گرا۔ تاہم بھارت نے اس بارے پاکستان کو آگاہ کرنے کے لیے اس ہاٹ لائن کا استعمال نہیں کیا جو دونوں ملکوں کے فوجی کمانڈروں کے درمیان ایسے واقعات سے باخبر رکھنے کے لیے پہلے سے قائم ہے۔
بلومبرگ کے مطابق پاکستان کو آگاہ کرنے کی بجائے بھارتی فضائیہ کے حکام نے فوری طور پر اپنے میزائل سسٹم کو بند کر دیا تاکہ کوئی دوسرا میزائل لانچ نہ ہو سکے۔ اس واقعے کے دوسرے روز پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک کانفرنس میں یہ کہا تھا کہ پاکستانی ایئر فورس نے بھارتی ریاست ہریانہ کے مقام سرسا سے لیکر پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر میاں چنوں میں لینڈنگ کے مقام تک میزائل کے پرواز کے راستے کا پتہ لگا لیا ہے۔
روس نے امریکی صدر کے ملک میں داخلے پرپابندی لگا دی
بھارت میں میڈیا نے اس حوالے سے حکام سے بہت سے سوالات کیے تاہم کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر دو روز بعد نئی دہلی نے باقاعدی تسلیم کیا کہ یہ میزائل غلطی سے فائر ہو گیا تھا جس پر اسے افسوس ہے اور اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا گيا ہے۔بعد میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمان میں غلطی سے میزائل فائر ہونے اور پھر پاکستان میں گرنے کی واقعے کی تفصیل بتائی تھی اور کہا تھا کہ بھارت میں ہتھیاروں کے تحفظ کا نظام کافی موثر ہے اور ایسا واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
لیکن بھارتی وزیر دفاع نے پاکستان کے اس مطالبے پر ابھی تک کچھ نہیں کہا، جس میں اس واقعے کی مشترکہ جانچ کا کہا گیا تھا۔ راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ حکومت اس واقعے کے بعد میزائل کے آپریشنز، دیکھ بھال اور معائنہ کاری کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’بھارت اپنے میزائل سسٹم کی حفاظت اور سلامتی کو سب سے زیادہ ترجیح دیتا ہے اور تحقیقات کے ذریعے اگر اس میں کوئی کمی پائی گئی تو اس کو درست کر دیا جائے گا۔‘‘ لیکن راج ناتھ سنگھ کے بیان کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چونکہ بھارتی میزائل پاکستان میں گرا ہے اسلیے اس کی مشترکہ تفتیش کی ضرورت ہے۔ بھارتی میڈیا میں یہ چہ مگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ کہیں بھارت نے پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم کی طاقت کا اندازہ لگانے کے لیے تو میزائل پاکستانی حدود میں نہیں پھینکا تھا۔
Why India-Pakistan missile war was about to break out?
