اچکزئی کی تقرری سے سیاسی بھونچال آنے کا امکان کیوں نہیں؟

قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے کے باوجود ملکی سیاست میں کوئی بڑا بھونچال آنے کا امکان نظر نہیں آتا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی مرکزی قیادت مل کر اپنی جماعت کو متحرک کرنے اور عمران خان کی رہائی کے لیے فیصلہ سازوں پر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی ہے تو اکیلے محمود خان اچکزئی سے انقلاب لانے کی امیدیں استوار کرنا خود کو دھوکہ دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔
یاد رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے محمود خان اچکزئی کو باضابطہ طور پر قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ گزشتہ سال اگست سے خالی تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نو مئی کے مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے سزائیں پانے والے پی ٹی آئی کے نو ارکان پارلیمان کو نااہل قرار دیا تھا، جن میں اس وقت کے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان بھی شامل تھے۔ اس خلا کے باعث حکومت کو نہ صرف تنقید کا سامنا رہا بلکہ ایوان کے اندر جمہوری توازن پر بھی سوالات اٹھتے رہے۔
محمود خان اچکزئی کی تقرری پر تحریک انصاف کے رہنما جہاں انہیں مبارکباد دے رہے ہیں وہیں سیاسی مبصرین اس فیصلے کو حیران کن بھی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے تقریباً 70 ارکان موجود ہیں، اس کے باوجود عمران خان کی خواہش پر ایک اتحادی جماعت کے سربراہ کو قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی ہی کا انتخاب کیوں کیا، اس سے تحریک انصاف کو واقعی کوئی سیاسی فائدہ ہو گا یا نہیں، اور آیا یہ فیصلہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی مفاہمت کا نتیجہ ہے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق محمود خان اچکزئی کا تحریک انصاف سے براہِ راست تعلق نہیں، تاہم ان کی تقرری کا فیصلہ خود عمران خان نے کیا۔ ان کے بقول ماضی میں عمران اور محمود خان اچکزئی کے درمیان سخت سیاسی اختلافات رہے، خاص طور پر 2014 کے دھرنوں کے دوران جب محمود اچکزئی نے نواز شریف حکومت کا ساتھ دیا تھا اور عمران خان ان پر شدید تنقید کرتے رہے۔ اس کے باوجود موجودہ صورتحال میں عمران کی جانب سے انہیں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنا اس بات کی علامت ہے کہ سیاسی مجبوریوں نے پرانی تلخیوں کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی نہ صرف ایک قدآور سیاست دان ہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے سربراہ بھی ہیں، جس سے تحریک انصاف کو پارلیمانی سطح پر فائدہ ہو سکتا ہے اور حکومت کی ساکھ میں بھی کچھ بہتری آئے گی۔ ان کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں غیر ضروری تاخیر نے سیاسی کشیدگی کو جنم دیا، حالانکہ پی ٹی آئی کے 70 سے زائد ارکان پہلے ہی دستخط کر کے سپیکر کو محمود اچکزئی کے نام سے آگاہ کر چکے تھے۔
اس کے برعکس سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی اس تقرری کو تحریک انصاف کے لیے فائدہ مند نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے پر ناراض ہے۔ اسکے علاوہ اچکزئی اسٹیبلشمنٹ کے معاملے پر عمران خان جیسا ہی جارحانہ مؤقف رکھتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے بیشتر ارکان اسمبلی نسبتاً متوازن حکمت عملی اپنانے کے خواہاں ہیں تاکہ فیصلہ سازوں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھولے جا سکیں۔ سلمان غنی کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان نے نیم دلی کے ساتھ اس فیصلے کی حمایت کی اور اچکزئی کے بطور اپوزیشن لیڈر سامنے آنے سے پارٹی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر افغانستان اور خیبر پختونخوا سے متعلق ان کے سخت مؤقف کے باعث ایوان میں تناؤ بڑھے گا۔
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سینیئر اینکر پرسن منصور علی خان کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کی ایک منفرد مثال ہے کہ کسی بڑی جماعت نے اپنی صفوں میں موجود ارکان کو نظرانداز کر کے دوسری جماعت کے رکن کو اپوزیشن لیڈر بنایا۔ ان کے مطابق حکومت بھی ایک جارحانہ اپوزیشن لیڈر سے بچنے کی خواہاں تھی، اسی لیے تقرری میں تاخیر کی گئی، اور اب بھی یہ تقرری بعض حدود و قیود سے مشروط ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی نے واضح کیا ہے کہ اگر محمود اچکزئی نے فوج یا ریاستی اداروں کے خلاف سخت تقاریر کیں تو انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ جہاں تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کا تعلق ہے، تو منصور علی خان کا کہنا ہے کہ اسے مکمل طور پر برف پگھلنے کا نام تو نہیں دیا جا سکتا، تاہم دونوں جانب سے ذمے داری کا مظاہرہ ضرور کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں چیف الیکشن کمشنر، چیئرمین نیب اور دیگر اہم آئینی عہدوں پر تقرریوں کے لیے حکومت کو اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کرنا ہو گی، جس سے سیاسی تلخی میں کسی حد تک کمی آ سکتی ہے۔ سلمان غنی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اگر کوئی حقیقی مفاہمت ہو سکتی ہے تو وہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ہو گی، نہ کہ محض پارلیمانی سطح پر۔
دودری جانب تحریک انصاف کی قیادت پارٹی کے اندر اچکزئی کی تقرری پر اختلافات کے تاثر کو مسترد کرتی ہے۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی کے حق میں تمام ارکان نے متفقہ طور پر دستخط کیے اور پارٹی میں اس حوالے سے کوئی دو رائے نہیں۔ ذلفی بخاری اور سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے بھی انہیں مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ عمران خان کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔
77 سالہ محمود خان اچکزئی کا سیاسی سفر طویل اور متنوع ہے۔ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں پیدا ہونے والے اچکزئی نے طالب علمی کے دور سے سیاست کا آغاز کیا، مارشل لا کے خلاف جدوجہد کے باعث افغانستان میں جلاوطنی کاٹی، اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست کی، پھر وقت کے ساتھ نواز شریف سے اتحاد اور بعد ازاں دوری اختیار کی۔ وہ متعدد بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں اور حالیہ برسوں میں تحریک انصاف کے ساتھ مل کر تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔
محمود اچکزئی کپتان کے تابوت میں آخری کیل کیوں ثابت ہوں گے؟
تاہم سیاسی مبصرین کی رائے یہی ہے کہ محمود خان اچکزئی کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف تقرری اگرچہ پارلیمانی خلا کو پُر کر دے گی، مگر اس سے نہ تو تحریک انصاف کی سیاست میں کوئی فوری جان پڑنے والی ہے اور نہ ہی عمران خان کی رہائی یا سیاسی بساط پر کوئی بڑی ہلچل متوقع ہے۔ یوں یہ تقرری علامتی اہمیت تو رکھتی ہے، مگر اسے کسی بڑے سیاسی انقلاب کا پیش خیمہ قرار دینا فی الحال قبل از وقت ہو گا۔
