آئینی عدالت کے لیے بلڈنگ کا حصول حکومت کے لیے چیلنج کیوں؟

ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی نئی ’وفاقی آئینی عدالت‘ کے لیے مستقل عمارت کا تعین حکومت کیلئے ایک چیلنج بن گیا، وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے آئینی عدالت کیلئے اپنی بلڈنگ دینے سے صاف انکار کے بعد حکومت نے آئینی عدالت کو عارضی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی نئی بلڈنگ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا تاہم وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ  فوری طور پر ایک نئے تنازع کا باعث بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومتی درخواست کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے وفاقی آئینی عدالت کی پہلی سماعت کے لیے کمرۂ عدالت نمبر ایک فراہم کرنے سے معذرت کر لی جس کے بعد آئینی عدالت کی پہلی سماعت کمرہ نمبر دو میں منعقد کرنا پڑی۔ تاہم اس تمام معاملے نے وکلا برادری کو بھی دو واضح گروپوں میں تقسیم کر دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ موجودہ عمارت میں قائم اسلام آباد ہائی کورٹ کی منتقلی کسی صورت قبول نہیں حکومت آئینی عدالت کے لیے کسی دوسری جگہ کا انتخاب کرے۔ دوسری طرف اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی رائے ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو واپس اس کی پرانی عمارت جی ٹین میں منتقل کر دینا چاہے کیونکہ زیادہ تر وکلا ضلع کچہری میں موجود ہوتے ہیں ایسے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جی ٹین میں منتقلی سائلین اور وکلا دونوں کے لیے زیادہ سہولت کا باعث ہو گی جبکہ فیملی کورٹس اور مختلف خصوصی عدالتوں کے جی 11 میں موجود ہونے کے باعث عدالتی امور میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔

سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کے 4 عمرانڈوز ججز کو ٹھینگا کیسے دکھایا؟

ذرائع کے مطابق صورتحال کو پیچیدہ بنانے والا اہم پہلو یہ ہے کہ کئی برسوں کی جدوجہد کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کی موجودہ عمارت کے ساتھ تعمیر ہونے والا لائرز کمپلیکس تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نہیں چاہتی کہ جس سہولت کے لیے انہوں نے برسوں مہم چلائی، وہ کسی دوسری بار کے حصے میں چلی جائے اور انہیں دوبارہ جی 10 کی پرانی عمارت میں منتقل ہونا پڑے۔ اسی پس منظر میں وزارتِ قانون میں مشاورت جاری ہے جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ اور مختلف بار ایسوسی ایشنز کے نمائندگان کو بلایا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ حل تلاش کیا جا سکے۔ تاہم ساری صورتحال کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وکلا برادری کے اندر اس معاملے پر بے چینی موجود ہونے کے باوجود عمومی طور پر خاموشی دیکھی جا رہی ہے اور وکلا اس معاملے پر آن دی ریکارڈ بات کرنے سے گریزاں ہیں۔اس کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا کی اکثریت اس امکان کو سختی سے رد کرتی ہے کہ ہائی کورٹ کو دوبارہ جی 10 کی عمارت میں منتقل کیا جائے اور موجودہ بلڈنگ آئینی عدالت کے حوالے کر دی جائے۔

خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت کے قیام کے بعد کئی دہائیوں تک یہاں کی عدلیہ اپنی مستقل عمارت سے محروم رہی اور آبپارہ کے علاقے میں کرائے کی عمارتوں میں عدالتیں قائم کر کے معاملات چلائے جاتے رہے۔ اس دور میں کسی بھی عدالت کے پاس مستقل چیمبرز تھے، نہ ریکارڈ سنبھالنے کا مناسب نظام اور نہ ہی مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے ضروری انفراسٹرکچر موجود تھا۔بعدازاں ایف ایٹ میں کچہری قائم کی گئی جو شہر کے اندر آ جانے کی وجہ سے رش اور سکیورٹی خطرات سے دوچار رہتی تھی جسے کچھ عرصہ قبل جی 11 منتقل کر دیا گیا۔سنہ 2010 میں ایک آئینی ایکٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے لیے جی 10 میں عمارت بنائی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ 14 برس تک وہاں موجود رہی جسے گزشتہ برس شاہراہ دستور پر واقع نئی عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔ موجودہ ہائی کورٹ کی عمارت نہ صرف دیگر حساس وفاقی اداروں کے قریب ہے جبکہ اس کے ساتھ لائرز کمپلیکس، سہولت مرکز اور عدالتوں کے توسیعی منصوبے بھی چل رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب اسلام آباد ہائی کورٹ شاہراہِ دستور منتقل ہوئی تو اسے نہ صرف شہر کی عدلیہ کے وقار میں اضافہ سمجھا گیا بلکہ اسے آئینی عدالت کے لیے ایک موزوں مقام کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا۔ تاہم اب یہ عمارت ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ سے چھنتی دکھائی دیتی ہے۔

Back to top button