افغانستان بار بار پاکستان سے پنگے بازی کیوں کر رہا ہے؟

 

 

 

جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی بساط پر ایک نیا اور غیر متوقع اتحاد سر اٹھا رہا ہے۔ ایک طرف اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی اپنی انتہا کو چھو رہی ہے، تو دوسری جانب نئی دہلی اور طالبان حکومت کے درمیان بڑھتی قربت نے خطے کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی انتہا پر پہنچنے کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ سلسلہ روکا نہ گیا تو دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین باقاعدہ جنگ بھی چھڑ سکتی ہے جبکہ دہلی اور کابل کا وقتی اتحاد بھی خطے میں ایک نئی جنگ کے آغاز کی وجہ بن سکتا ہے، جس میں اصل نقصان افغانستان اور پاکستان کے عوام کو اٹھانا پڑے گا جبکہ فائدہ صرف بھارت کو ہوگا۔ ایسے میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے افغان طالبان رجیم کو بھارتی پراکسی قرار دینے کے دعوے سےاس بحث میں مزید تیزی آ گئی ہے کہ آیا واقعی کابل اب نئی دہلی کی نئی سٹریٹجک شراکت داری کا مرکز بن چکا ہے؟ اور کیا واقعی افغان طالبان نے انڈیا کی ایماء پر پاکستان میں دہشتگردی برآمد کرنے کے بعد اب ڈائریکٹ پاکستان پر حملہ کر دیا ہے؟

 

دفاعی ماہرین کے مطابق دلچسپ امر یہ ہے کہ جس بھارت نے سنہ 1996 میں طالبان کی پہلی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا، وہی بھارت آج عملی سیاست کا لبادہ اوڑھ کر طالبان قیادت سے رابطے بڑھا رہا ہے۔ اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد ابتدا میں سفارتی پسپائی اختیار کرنے والا بھارت اب نہ صرف کابل میں اپنی سفارتی موجودگی بحال کر چکا ہے بلکہ انسانی امداد اور ترقیاتی تعاون کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو بھی وسعت دے رہا ہے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا افغان طالبان اور انڈیا کے درمیان وسعت پانے والے تعلقات محض وقتی مفاہمت ہے یا خطے میں طاقت کے توازن کی نئی حکمت عملی؟ کیا ’’دشمن کا دشمن دوست‘‘ کی سوچ نئی دہلی اور کابل کو قریب لا رہی ہے؟ اور سب سے اہم، اس بدلتی صف بندی کے پاکستان، چین اور پورے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

 

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو بھارت اور طالبان کے تعلقات ہمیشہ سرد مہری کا شکار رہے۔ 1996 میں طالبان کے پہلی بار اقتدار میں آنے پر بھارت نے ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا اور انہیں پاکستان کے قریب سمجھتا تھا۔ تاہم 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت نے کابل میں سفارتی سرگرمیاں بحال کیں اور حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے۔ 2001 سے 2021 کے دوران بھارت نے افغانستان میں تین ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی، جس میں پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر، زرنج دلارام شاہراہ، سلمیٰ ڈیم اور متعدد ترقیاتی منصوبے شامل تھے۔ 2011 میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدہ بھی طے پایا، جس نے اس تعلق کو باضابطہ شکل دی۔

 

اگست 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد ابتدا میں بھارت نے اپنا سفارت خانہ بند کیا، مگر جلد ہی اس نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کابل سے روابط بحال کر لیے۔ ایک سال بعد تکنیکی ماہرین کی ٹیم بھیجی گئی اور اکتوبر 2025 میں سفارت خانہ باضابطہ طور پر دوبارہ کھول دیا گیا۔ طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے دبئی اور نئی دہلی میں بھارتی حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں قریبی رابطے اور مسلسل مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق نظریاتی اختلافات کے باوجود عملی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ طالبان دور میں بھی بھارت نے افغانستان کو انسانی امداد فراہم کی۔ نومبر کے زلزلے کے بعد خوراک، ادویات اور ویکسین کی فراہمی اور دسمبر 2025 میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منظوری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نئی دہلی اپنی ’’سافٹ پاور‘‘ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ حکمت عملی افغان عوام میں مثبت تاثر قائم رکھنے اور طویل المدتی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

پاک افغان کشیدگی : امریکا کا پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کا اعلان

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت کے طالبان سے روابط بڑھانے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک اہم عنصر پاکستان اور طالبان کے درمیان حالیہ کشیدگی ہے، جس نے نئی دہلی کو سفارتی گنجائش فراہم کی ہے۔ اسی طرح افغانستان میں چین کے بڑھتے اثر کو متوازن رکھنا بھی بھارت کی ترجیح ہے، کیونکہ بیجنگ خطے میں معاشی اور تزویراتی منصوبوں کے ذریعے اپنا کردار مضبوط کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت اپنے سیکیورٹی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے اور پاکستان کے ساتھ جاری سٹریٹجک رقابت میں کسی ممکنہ دباؤ کو کم کرنا چاہتا ہے۔ بعض ماہرین افغانستان بھارت وقتی دیرینی تعلقات کو ’’دشمن کا دشمن دوست‘‘ کی عملی مثال قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ افغانستان اور بھارت میں بڑھتا ہوا رومانس وقتی ضرورت ہے یا ایک دیرپا سٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد؟ مبصرین کے مطابق افغانستان ایک بار پھر جنوبی ایشیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا میدان بنتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں نظریاتی وابستگیوں کے بجائے عملی مفادات اور جغرافیائی سیاست فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔ آنے والا وقت طے کرے گا کہ کابل اور نئی دہلی کی یہ قربت افغان عوام کا کس حد تک کباڑا نکالے گی۔

Back to top button