ضمانتوں کے باوجود علی وزیر کو رہائی کیوں نہیں مل رہی؟

 

 

 

دسمبر 2022 سے ایک جیسے الزامات پر درج مختلف مقدمات میں مسلسل قید کاٹنے والے سابق رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر کی رہائی کا معاملہ ایک بار پھر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ بظاہر عدالتوں سے ضمانتیں ملنے کے باوجود خفیہ ہاتھ انہیں جیل سے باہر نہیں آنے دے رہے،جس کی وجہ سے ضمانت ملنے کے باوجود  علی وزیر اب بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

 

تازہ پیشرفت میں سکھر سینٹرل جیل سے رہائی کے فوراً بعد پولیس نے علی وزیر کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ علی وزیر کو رہائی کے بعد فوری طور پر کسی اور کیس میں حراست میں لیا گیا ہو، بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے یہی سلسلہ جاری ہے۔ جب بھی علی وزیر کی کسی ایک مقدمے میں ضمانت منظور ہوتی ہے تو رہا ہوتے ہی ان کی کسی دوسرے کیس میں گرفتاری ڈال دی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ علی وزیر کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 123 اے اور 124 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ دفعہ 123 اے اُن افراد پر لاگو ہوتی ہے جو مملکت کے قیام پر تنقید یا ملامت کریں اور جن کے عمل سے نظریۂ پاکستان پر منفی اثرات پڑنے کا امکان ہو۔ جبکہ دفعہ 124 اے اُن افراد سے متعلق ہے جو حکومت کے خلاف نفرت، حقارت یا نافرمانی پر اکسانے کے مرتکب ہوں۔

 

یاد رہے کہ علی وزیر کو کراچی میں ایک ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے پر دسمبر 2020 میں پشاور سے گرفتار کر کے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔ کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں علی وزیر سمیت 12 ملزمان پر ریاست مخالف تقاریر کرنے کا الزام تھا۔ تاہم دوران سماعت عدالت نے ایم این اے علی وزیر اور دیگر نامزد افراد کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ جس پر دیگر ملزمان کی رہائی تو عمل میں آ چکی ہے تاہم پولیس نے علی وزیر کو رہا ہوتے ہی انھی الزامات پر درج دوسرے کیس میں گرفتار کرلیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کے بند دروازوں پر سہیل آفریدی کے ترلے

قانونی ماہرین کے مطابق، اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ علی وزیر کے خلاف مختلف شہروں میں درج متعدد مقدمات ہیں، جن میں یکساں نوعیت کے الزامات شامل ہیں۔ چونکہ ہر مقدمہ اپنی الگ قانونی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے ایک کیس میں ضمانت دوسرے کیس پر لاگو نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے ضمانت ہونے کے باوجود عملی طور پر ان کی رہائی ممکن نہیں ہو پارہی۔

دوسری جانب علی وزیر کی دوبارہ گرفتاری کے حوالے سے ان کے وکیل قادر خان کا کہنا ہے کہ علی وزیر تقریباً ایک سال تک سکھر جیل میں قید رہے۔ ان کے مطابق جب سکھر میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا تو وہ پہلے ہی گڈانی جیل میں زیرِ حراست تھے، اور ان پر حکومت مخالف تقریر کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایک سال کے دوران ان کے خلاف چار سے پانچ مزید ایف آئی آرز بھی درج کی جا چکی ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پراسیکیوشن علی وزیر کی رہائی نہیں چاہتی، اور بعض بااثر حلقوں کے لیے ان کی آزادی قابلِ قبول نہیں۔ قادر خان کے مطابق علی وزیر کی دوبارہ گرفتاری انسانی حقوق، شخصی آزادی اور قانونی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔تاہم ترجمان سندھ حکومت نادر گبول کے مطابق چونکہ یہ معاملہ قانونی دائرہ کار میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے فی الحال حکومت کسی قسم کی مداخلت یا باضابطہ مؤقف اختیار کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ ویسے بھی علی وزیر کے خلاف تمام کارروائیاں قانون کے مطابق اور عدالتوں کی نگرانی میں ہو رہی ہیں، اور ہر مقدمہ اپنے شواہد اور نوعیت کے مطابق چل رہا ہے۔

Back to top button