پاکستانی سوشل میڈیا پر بدمعاشی کلچر میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

پاکستانی سوشل میڈیا پر اب ایک نیا اور خطرناک رجحان زور پکڑ رہا ہے، اب سوشل میڈیا پر اسلحہ لہرا کر ذاتی دشمنوں کو چیلنج کیا جاتا ہے اور کھلم کھلا ویڈیوز میں جان سے مار دینے تک کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، لیکن حکومتی سطح پر اس خطرناک رجحان کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔
پاکستان میں یہ بڑھتا ہوا رجحان ایک ‘بدمعاشی کلچر‘ کو فروغ دے رہا ہے، جس میں طاقت، انتقام اور دھونس کو ‘ہیرو ازم‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے نوجوان اسے اپنی شناخت، فخر اور مقبولیت کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ خاندانی دشمنیاں کمبے عرصے سے پاکستانی معاشرے کا حصہ رہی ہیں، جو زمین، غیرت یا ذات پات کے تنازعات سے جنم لیتی ہیں۔ لیکن اب سوشل میڈیا نے ان میں تفریح اور نمائش کا عنصر شامل کر دیا ہے۔ پہلے اسلحے کی نمائش یا تشدد کو عزت سے نہیں جوڑا جاتا تھا لیکن اب ٹک ٹاک پر اسلحہ لہرانا فخر کا باعث بن گیا ہے۔ پہلے وقتوں میں دشمنیاں چند خاندانوں تک محدود ہوتی تھیں لیکن اب نوجوان انفرادی طور پر اس کلچر میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ شہرت، غلبے اور طاقت کی دوڑ ہے، جس میں دیہی نوجوان سبقت لے جانا چاہتے ہیں۔
پنجاب کے گاؤں ہڈالی کے نمبردار احمد خان اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پہلے تو دشمنیاں خاندانی ہوتی تھیں لیکن اب سوشل میڈیا نے انہیں انفرادی بنا دیا۔ اب والدین کو علم نہیں ہوتا اور ان کا بیٹا ٹک ٹاک پر دشمن بنا کر بیٹھا ہے۔ پہلے جیل جانے والوں کی ملاقات ایک مسئلہ تھی، لیکن اب موٹر سائیکل پر جیل جا کر ٹک ٹاک ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔ اسلحہ اور تشدد کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔”
پنجاب کے ایک اور گاؤں بوتالہ سے تعلق رکھنے والے ٹک ٹاکر حافظ فخر کہتے ہیں کہ پانچ سال پہلے جب میں نے ٹک ٹاک پر کام شروع کیا، تو کبھی کبھار کوئی ویڈیو نظر آتی تھی، جس میں مخالفین کو للکارا جاتا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ رجحان عام ہو گیا ہے اور اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ٹک ٹاک دشمنیوں اور دھمکیوں سے بھر گیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسلحے کی نمائش کئی مراحل سے گزری، ”شروع میں کھلے عام ہتھیار دکھائے جاتے تھے لیکن جب ٹک ٹاک نے پالیسی سخت کی تو ویڈیوز میں چالاکی شروع ہوئی، جیسے بندوق کو کپڑے میں لپیٹ کر دکھانا۔ اب پولیس کی سختی سے ایسی ویڈیوز کم ہو رہی ہیں لیکن بڑے پیمانے پر ایسے لوگوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی۔
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ ڈیجیٹل کلچر کی محقق زنیرہ چوہدری کہتی ہیں کہ دیہی علاقوں میں سوشل میڈیا کا مطلب ہی ٹک ٹاک ہے۔ دیگر پلیٹ فارمز جیسے ایکس، فیس بک یا انسٹاگرام شہری اور تعلیم یافتہ طبقے کے لیے ہیں لیکن ٹک ٹاک کی سادگی دیہی نوجوانوں کو اپنی بات براہ راست کہنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ ان کے لیے طاقت اور شہرت دکھانے کا اسٹیج بن گیا ہے۔
پاکستانی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی زیادہ تر ٹک ٹاک ویڈیوز میں اکثر بھارتی پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے گانے پس منظر میں سنائی دیتے ہیں، جن میں بندوق، انتقام اور ذات پر فخر کے موضوعات ہوتے ہیں۔ حافظ فخر کہتے ہیں کہ ہماری پنجابی بھارتی پنجابی سے تھوڑی مختلف ہے لیکن سدھو کے گانوں کی آواز ویڈیوز میں جوش پیدا کرتی ہے اور لائکس بڑھاتی ہے۔ ان کے مطابق سدھو موسے والا کے گانوں نے ٹک ٹاک کلچر کا حصہ بن کر اسے پھیلایا ہے۔ یہ گانے دیہی نوجوانوں کے لیے دشمنی اور طاقت کو گلیمرائز کرتے ہیں۔
زنیرہ احمد کے مطابق پاکستان اور انڈیا کی ثقافتوں میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ بھارت میں کسان تحریک کے دوران ٹک ٹاک پر نوجوانوں نے سماجی اور سیاسی مسائل پر آواز اٹھائی لیکنبہمارے پاکستانی دیہی نوجوان سیاسی مسائل بارے بہت کم ویڈیوز بناتے ہیں جو کہ ہمارے ہاں کمزور سیاسی عمل کی عکاسی ہے۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس رجحان کو دبا سکتے ہیں لیکن یہ دیکھنا ہو گا کہ نوجوانوں میں تشدد گلیمرائز ہونے کی وجہ کیا ہے؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ معاشرے میں وہ کون سا ایسا خلا ہے، جسے پُر کرنے کے لیے نوجوان تشدد کو گلیمرائز کرتے ہیں؟ زنیرہ چوہدری کا کہنا یے کہ ہمارے معاشرے میں ہیرو کا مطلب ‘بندوق والا‘ بندہ بن گیا ہے۔ ان کے مطابق ‘بدمعاشی کلچر‘ کی جڑیں معاشرتی اور معاشی خلا میں ہیں، جس کے خاتمے پر توجہ دینا ضروری ہے۔
