پی ٹی آئی کو بند گلی میں دھکیلنے کے بعد بشریٰ بی بی خاموش کیوں؟

پی ٹی آئی کو بند گلی میں دھکیلنے کے بعد بشری بی بی سیاسی منظر نامے سے غائب ہو گئیں۔24 نومبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی فائنل احتجاج کی ناکامی کے بعد سے بشری بی بی نے پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد سے پی ٹی آئی کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینے والی پنکی پیرنی نے اسلام آباد سے واپسی کے بعد سے گوشہ نشینی اختیار کر لی ہے۔ 26 نومبر کے بعد سے نہ تو ان کی جانب سے پارٹی رہنماؤں کی تنقید کا کوئی جواب سامنے آیا اور نہ ہی انھوں نے میڈیا کے سامنے آ کر کسی بھی حوالے سے کوئی وضاحت دی ہے۔ حالانکہ پارٹی کی طرف سے بار بار بشری بی بی کو ہی فائنل احتجاج کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم بشری بی بی احتجاج کی ناکامی کے بعد سے مکمل غائب ہیں۔
خیال رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اسلام آباد ڈی چوک میں دھرنے کے خلاف حکومتی کارروائی کے دوران پراسرار طور پر غائب ہوگئی تھیں، پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے موقف اپنایا تھا کہ اسلام آباد میں بشریٰ بی بی اور وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کے اوپر بھی حملے ہوئے تھے۔ جس کے بعد انھوں نے دھرنے سے بھاگنے کا فیصلہ کیا۔
اس دوران علی امین بشریٰ بی بی کو لے کر خیبر پختونخوا کی حدود میں داخل ہوئے اور مانسہرہ میں سرکاری مہمان خانے میں قیام کیا جبکہ اگلے روز وزیراعلی کے ہمراہ انہوں نے پریس کانفرنس کرنا تھی لیکن انہوں نے اس سے احتراز کیا۔علی امین گنڈاپور نے صورت حال سے میڈیا کو آگاہ کیا تھا لیکن بشریٰ بی بی تب سے منظر عام سے غائب تھیں اور پارٹی رہنماؤں کے مطابق پشاور سی ایم اینکسی میں ہی مقیم تھیں۔
تاہم اچانک منگل کے روز بشریٰ بی بی خصوصی سرکاری پروٹوکول میں راہداری ضمانت کے لیے ہائیکورٹ پہنچیں، ان کے ہمراہ خصوصی سیکیورٹی تھی اور کسی کو بھی ان کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی، بشریٰ بی بی کی آمد کے موقع پر صحافیوں کو بھی ویڈیو بنانے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔
تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بشری بی بی پارٹی رہنماؤں کی تنقید اور الزام تراشیوں کے باوجود خاموش کیا ہیں؟ پشاور وزیر اعلٰی ہاؤس میں ان کی سیاسی مصروفیات کیا ہیں؟ کیا انھوں نے سیاست سے مکمل توبہ کر لی ہے یا سی ایم ہاؤس میں بیٹھ کر کوئی نئی سازش تیار کر رہی ہیں؟
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی پشاور میں سی ایم ہاؤس اینکسی میں قیام پذیر ہیں، بشریٰ بی بی اسلام آباد مارچ کے بعد بعض پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اپنے خلاف بیان بازی میں بھی سخت نالاں ہیں اور اسی وجہ سے وہ اکثریتی پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقات کرنے سے انکاری ہیں جبکہ وہ اب بھی چیدہ چیدہ پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بشریٰ بی بی سے ملاقات کرنیوالے پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کارکنان کو چھوڑ کر غائب ہونے والے قائدین سے سخت ناراض ہیں اور جلد عمران خان سے ملاقات کرکے حقائق سے آگاہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔مذکورہ رہنما کے مطابق بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کے درمیان بھی رسہ کشی جاری ہے اور بشریٰ بی بی کی ترجمان مشال یوسفزئی کو ہٹانے پر بھی وہ رنجیدہ ہیں کیونکہ اس حوالے سے انھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
پارٹی رہنما نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کی پارٹی معاملات پر نظر ہے اور وہ اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کررہی ہیں، پشاور ہائیکورٹ سے راہداری ضمانت منطور ہونے کے بعد بشریٰ بی بی جلد اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے ملاقات کی خواہش مند ہیں اور جلد اسلام آباد جائیں گی۔ جس کے بعد پارٹی میں تطہیر کا عمل شروع ہو گا اور یوتھیوں کو میدان میں چھوڑ کر بھاگنے والوں کا احتساب ہو گا۔ مبصرین کے مطابق کارکنان کو دھوکہ دینے والی پارٹی قیادت کے احتساب کی خواہش رکھنے والی بشری بی بی شاید یہ بھول گئی ہیں کہ ڈی چوک پر سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران بھاگنے والوں میں سب سے آگے وہ اور گنڈاپور ہی تھے۔ اس لئے عمران خان کو احتساب کا عمل اپنے گھر سے شروع کرنا ہو گا۔
