کپتان حکومت کی میڈیا دشمنی ناقابل معافی کیوں ہے؟

ریاست کا چوتھا ستون کہلانے والے میڈیا کی زبان بندی کے لیے عمران خان کے دور حکومت میں جو آمرانہ ہتھکنڈے استعمال کیے گے اور جو میڈیا دشمن قوانین نافذ کیے گے وہ ناقابل معافی اس لیے ہیں کہ ماضی میں کبھی کسی حکومت نے صحافیوں کو دہشت گرد گردانتے ہوئے کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے نہیں اٹھوایا تھا اور نہ ہی انہیں انکے خلاف کیسوں کی سماعت انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں ہوئی تھی جیسا کہ موجودہ دور میں یو رہا ہے۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ پیکا جیسے میڈیا دشمن ڈریکونین قوانین فواد چوہدری کی دور وزارت میں نافذ ہوئے جو کی ماضی میں خود بھی میڈیا سے وابستہ رہنے کے دعویدار ہیں۔
تحریک انصاف حکومت کی میڈیا دشمنی کی داستان بیان کرتے ہوئے سینئر صحافی شکیل انجم اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ ہر دور میں مزاحمت کاروں کی زبانیں کاٹی جاتی رہی ہیں۔۔۔یہ سلسلہ طویل عرصہ سے جاری ہے اور آخری فرعون کے آخری سانس تک جاری رہے گا۔۔۔ہر دور میں سچ کا ساتھ دینے والوں کی زبان بندی کے لئے ڈریکونین لاء بنتے رہے۔۔۔انہیں ان جابرانہ قوانین کے تحت سزائیں دی جاتی رہیں اور انہیں مٹانے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔۔۔لیکن در حقیقت انہیں مٹانے والے خود مٹ گئے۔۔۔یہی نظام قدرت ہے۔۔۔ اور ایک مرتبہ پھر اسی پر عمل ہونے جا رہا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ جھوٹ اور جبر کے سامنے سر جھکانے کی رسم تو تب بھی رائج تھی جب فیض احمد فیض جیسے آمریت دشمن انقلابیوں کو جھوٹ اور ظلم کے خلاف مزاحمت کرنے کے جرم میں سزائے موت ہوئی تھی۔ تاریخ کے سینے میں ایسی ہزاروں داستانیں محفوظ ہیں جن میں مزاحمت کی صحافت پر یقین رکھنے والوں کو نشان عبرت بنانے کےلئے ریاستی طاقت کا غیر آئینی استعمال کرتے ہوئے جمہوری اقدار کی نفی کی جاتی رہی۔ فیض احمد فیض سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ آج بھی پورے شدومد کے ساتھ جاری ہے۔ لہذا ابھی سچائی کا راستہ چننے والوں کے لئے طویل سفر باقی ہے، یہ راستہ کبھی نہ ختم ہونے والا، پر خار اور پر خطر راستہ ہے جس میں ہر قدم پر بھیڑیوں کا سامنا ہوتا ہے اور منزل کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔
شکیل انجم کہتے ہیں کہ فیض کے بعد اس دشوار گزار راستے پر چلنے والے صحافتی مزاحمت کاروں کو جنرل ضیا کی راہزن حکومت نے قید اور کوڑوں کی سزائیں دیں جو صحافتی تاریخ میں بدترین مثال کے طور پر رقم ہیں۔ لیکن نڈر صحافی اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے کلمہ حق بلند کرتے رہے۔ اسکے بعد بھی حکومتیں بدلتی رہیں لیکن حکمرانوں کے اطوار نہیں بدلے۔
شکیل انجم کہتے ہیں کہ عہد حاظر کی صحافتی تاریخ میں جن مزاحمتی کرداروں نے جرات اور بے باکی کا مظاہرہ کیا اور اسکی قیمت بھی ادا کی ان میں حامد میر، مطیع اللہ جان، طلعت حسین، نصرت جاوید، عامر میر، عمران شفقت، اسد طور، عمر چیمہ، سلیم صافی، ابصار عالم، احمد نورانی، فخر درانی، عجیب علی لاکھو، شاہزیب گیلانی، میر شکیل الرحمان اور عاصمہ شیرازی شامل ہیں۔ ان لوگوں کا بولنا اور لکھنا حکمران طبقے کو ناقابل قبول ہے۔
شکیل انجم کہتے ہیں کہ عاصمہ شیرازی کا شمار ان منفرد اور صاحب کمال صحافیوں کے کنبے میں ہوتا ہے۔۔۔جو بے خوف و خطر سچ کے ساتھ کھڑا ہونا عبادت سمجھتا ہے۔۔۔حکمران طبقہ جھوٹ کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو اپنا اور اپنے عارضی اقتدار کا دشمن تصور کرتا ہے۔۔۔اور انہیں ریاستی طاقت کے ذریعے دبانے اور خاموش کرنے کےلئے ان کے خلاف صف آراء ہو جاتا ہے۔۔۔
ان کی سوشل میڈیا بریگیڈ اور ترجمانوں کا گروپ حرکت میں آ جاتا ہے اور ہر جائز ناجائز، ہر قانونی اور غیر قانونی، ہر مہذب اور غیر مہذب اور ہر اخلاقی اور غیر اخلاقی ذریعہ استعمال کرتے ہوئے اس کے خلاف ‘فیک نیوز پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔یہی کچھ انہوں نے عاصمہ شیرازی کے خلاف بھی کیا اور معاشرے میں بدنام کرنے کےلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسے ٹیلیفونک دھمکیوں کے ذریعے ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری فورمز سے پریس کانفرنسوں میں اسے گناہگار قرار دیا۔۔۔
پی ٹی آئی سینئر رہنما شعیب صدیقی کی ن لیگ میں شمولیت
اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کےلئے اقلیتی فرقوں کو اکسایا۔۔۔اور انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کی۔۔۔عاصمہ شیرازی کا قصور یہ تھا اس نے میاں نواز شریف اور مریم نواز کا انٹرویو کیا تھا جو حکومت کے لئے قابل قبول نہیں تھا اور اسے ریاستی طاقت کے ذریعے رکوا دیا گیا تھا۔۔۔
شکیل انجم کہتے ہیں کہ ہر دور کا حکمران اپنے منشور پر عمل پیرا ہوتا ہے لیکن اس منشور میں اپنے خلاف اٹھنے والی تنقیدی آوازوں کو ریاستی طاقت کے زور پر دبانے پر پچھلے حکمرانوں سے متفق ہوتا ہے۔۔۔ہر حکمران سمجھتا ہے کہ اقتدار ان کی دائمی ملکیت ہے لیکن یہ صرف کل جہانوں کے رب کی صفت ہے۔۔۔ وہی مالک و مقتدر و مختار ہے۔۔۔
