نجم سیٹھی نے مریم کو شہباز سے زیادہ طاقتور کیوں قرار دے دیا ؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے پاس بظاہر وزیراعظم سے زیادہ اختیارات اور اثر و رسوخ موجود ہے، تاہم اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں اور نہ ہی حکومت کے خاتمے کا کوئی امکان دکھائی دیتا ہے۔ مریم نواز کے جلد وزیراعظم بننے سے متعلق باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔
دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ محض خواہش یا سیاسی بحث کے ذریعے کوئی وزیراعظم یا نائب وزیراعظم نہیں بن جاتا۔ ویسے بھی مریم نواز اس وقت ایک انتہائی اہم منصب پر فائز ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب کا عہدہ کسی بھی لحاظ سے معمولی نہیں کیونکہ حقیقت میں’’پنجاب ایک پورا ملک ہے،‘‘’وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس جتنی انتظامی اور سیاسی طاقت ہوتی ہے، اتنی بعض اوقات وزیراعظم کے پاس بھی نہیں ہوتی۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب ہمیشہ سے پاکستان کی سیاست کا ٹریننگ گراؤنڈ رہا ہے ہمیشہ سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو سیاسی رہنما پنجاب کو چلا سکتا ہے وہ پاکستان کو بھی چلا سکتا ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز پنجاب سے ہی کیا، اسی لیے سیاسی منطق بھی یہی ہے کہ مریم نواز کا سفر بھی پنجاب سے شروع ہو۔ تاہم ان کے بقول، مریم نواز کے لیے وزیراعظم بننے کا مرحلہ ابھی دور ہے۔ پہلے عام انتخابات ہوں گے، پھر وہ قومی اسمبلی میں آئیں گی، اور اس کے بعد ہی ان کیلئے وزارتِ عظمیٰ کی راہ ہموار ہو سکے گی، جس میں خاصا وقت لگے گا۔
نجم سیٹھی کا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کو ڈپٹی پرائم منسٹر کا منصب سوچ سمجھ کر دیا گیا ہے کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف ہر جگہ خود نہیں پہنچ سکتے، اس لیے اسحاق ڈار کو وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم بنایا گیا تاکہ وہ حکومت کی نمائندگی مؤثر انداز میں کر سکیں۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نہ صرف نواز شریف اور شہباز شریف کے انتہائی قریب ہیں بلکہ جب وہ کسی معاملے پر بات طے کرتے ہیں تو اسے حتمی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بقول، ڈار کو نائب وزیراعظم بنانا ایک مضبوط اور مدبرانہ فیصلہ تھا۔
بلوچستان میں حالیہ حملوں کے پس منظر بارے ایک سوال کے جواب میں نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مختلف مقامات پر بیک وقت حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ان کی بھرپور منصوبہ بندی اور کوآرڈی نیشن کی گئی تھی نجم سیٹھی کے بقول ’’میرا اندازہ ہے کہ یہ پلان کم از کم چھ ماہ پہلے تیار کیا گیا ہوگا،‘‘ کیونکہ ’’پہلے منصوبہ بندی، پھر کوآرڈی نیشن، اس کے بعد ہتھیار، فنڈنگ اور ٹریننگ کا مرحلہ آتا ہے حقیقت میں یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوتا۔‘‘ اس لئے لگتا یہی ہے کہ بلوچستان میں حملوں کی پلاننگ کم از کم6ماہ سے جاری تھی۔ نجم سیٹھی نے اس تاثر کو یکسرمسترد کیا کہ یہ حملے اچانک ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کے لیے کیے گئے ہوں۔ ان کے بقول، کالعدم تنظیمیں اس وقت دباؤ میں ہیں، ان کے لوگ مارے جا رہے ہیں اور وہ مایوسی کا شکار ہیں، نجم سیٹھی کے مطابق بلوچستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی میں سو فیصد بھارت ملوث ہے۔ انڈیا ہی بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے،نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ ایران کشیدگی کی صورت میں ہمارے بارڈر پر بڑا تنازع ہونے والا ہے خدشہ ہے کہ یہ تنازع ہمارے علاقوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔‘‘
نجم سیٹھی نے ایران کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا طویل عرصے سے ایران میں رجیم چینج کی کوشش کرتا آ رہا ہے، جو اب تک کامیاب نہیں ہو سکی۔ تاہم امریکا کی موجودہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ ایران کو اندرونی انتشار کا شکار کیا جائے، جس کے لیے اس نے مختلف پراکسیز تیار کر رکھی ہیں۔ ایک پراکسی آذربائیجانی، دوسری کرد اور تیسری سیستان کے اندر بلوچ تحریک ہے، جسے امریکا مکمل سپورٹ فراہم کرتا ہے۔ اگر ایران کے اندر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور کسی سطح پر تصادم یا لڑائی ہوتی ہے تو بلوچ مسئلہ سرحد پار پاکستان تک بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ’’یہ خطرہ موجود ہے کہ ایرانی بلوچ اور پاکستانی بلوچ ایک دوسرے کے ساتھ مل سکتے ہیں اور گریٹر بلوچستان جیسے پرانے تصورات اسی پس منظر میں دوبارہ زندہ کیے جاسکتے ہیں جو پاکستان کے لیے نیک شگون نہیں۔‘‘ اسی لیے پاکستان کی کوشش ہے کہ ایسی تنظیموں کو ابتدا ہی میں کچل دیا جائے تاکہ وہ زیادہ طاقت نہ پکڑ سکیں۔
بھٹو کا عدالتی قتل: کونسا جج غصے میں تھا اور کون سا دباؤ میں؟
نجم سیٹھی کے بقول بلوچستان میں کسی صورت سوات یا وزیرستان طرز کا وسیع فوجی آپریشن نہیں کیا جائے گا کیونکہ بلوچستان کے حالات مختلف ہیں، تاہم بلوچستان میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک آپریشن میں 100 سے زائد بلوچ دہشت گرد ہلاک ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سکیورٹی فورسز مکمل الرٹ ہیں اور خطرات کا ادراک رکھتی ہیں۔ افغانستان سے متعلق سوال پر نجم سیٹھی نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی افغان پالیسی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکی۔ طالبان کے ساتھ تعلقات اس سطح پر بہتر نہیں ہو سکے جس کی توقع کی جا رہی تھی کیونکہ’’تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے،’’طالبان نہ امریکا کی سنتے ہیں، نہ اقوام متحدہ کی، ویسے بھی افغانستان کے اندرونی معاملات میں ماضی میں پاکستان کے کردار کے باعث آج یہ ممکن نہیں کہ افغان عوام کے دلوں میں پاکستان کے لیے فطری ہمدردی موجود ہو۔ اگرچہ پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دی، مگر افغان خانہ جنگیوں کے دوران کیے گئے فیصلوں کے اثرات آج بھی موجود ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کو افغانستان کے محاذ پر بھی سنجیدہ چیلنجز کا سامنا رہے گا۔
