آئین اور قانون سے ہٹ کر فیصلہ سازی سے ترقی ممکن کیوں نہیں ؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان صرف اور صرف آئین اور قانون کے راستے پر چل کر ہی ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے، باقی سب راستے اسکی منزل کھوٹی کریں گے۔ انکا کہنا ہے کہ آئین و قانون سے ہٹ کر فیصلہ سازی کرتے ہوئے تیزی سے ترقی کا چورن بیچنے والے ملک دشمنی کر رہے ہیں۔ پچھلے 75 سال سے یہی غلطی دہرائی جا رہی ہے پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے اور آج کل پھر وہی ہو رہا ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کے عوام کی خواہشوں اور آدرشوں کا ترجمان صرف اور صرف آئین ہوتا ہے آئین ہی ملک اور عوام کی منزل کا تعین کرتا ہے، ہمارا ملک پاکستان خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس متفقہ جمہوری اور اسلامی آئین تحریری شکل میں موجود ہے۔ 1973ء کا آئین دنیا کا پہلا آئین تھا جس میں قائداعظم اور علامہ اقبال کے رہنما اصولوں اور عوام کی خواہشات کی روشنی میں اسلام اور جمہوریت کو ملاکر چلنے کی ایک نئی راہ متعین کی گئی تھی۔ یہ دنیا کے بہترین آئینوں میں سے ایک قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ کبھی تو مارشل لا کے ذریعے آئین کو معطل رکھا گیا اور کبھی عدلیہ نے اس کی من مانی تشریحات سے اسے گہنانے کی کوشش کی۔ فوجی ڈکٹیٹرز کی جانب سے عوام کو گمراہ کیا جاتا رہا کہ آئین کے تحت چلیں تو فیصلے کچھوے کی رفتار سے ہوتے ہیں، اور مارشل لا اور آمریت ہو تو فیصلے گھوڑے بن جاتے ہیں۔ اس گمراہی نے آئین کو بائی پاس کرنے کا جواز فراہم کر رکھا ہے، تیز رفتاری سے فیصلے ملک کو ایک قدم آگے لیجاتے ہیں تو چار قدم پیچھے بھی لے جاتے ہیں۔

سہیل وڑائچ کے مطابق جنرل ضیاء الحق کے فیصلے ہوں یا جنرل پرویز مشرف کے، سیاسی حکومتوں کی آئین کو بائی پاس کرنے کی کوششیں ہوں یا خفیہ طاقتوں کی پروسیجر سے ہٹ کر معاملات کو حل کرنے کی کوشش، یہ سب ملک کیلئے بڑے بگاڑ کا باعث بنے ہیں۔ ماضی میں بھی لوگ یہ خوش نما خواب دیکھتے تھے کہ تیز رفتاری، آئین و قانون اور طریقہ کار سے ہٹ کر ہی ممکن ہے۔ آج بھی لوگ اسی گمراہی کا شکار ہیں۔ پچھلے 75 سال سے یہی غلطی دہرائی جا رہی ہے پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے اور آج کل پھر وہی ہو رہا ہے۔

آج کل پھر سے نئے صوبے بنانے کے مشورے دیئے جا رہے ہیں۔ کبھی گیٹ نمبر 4 پر اور کبھی پنڈی میں کہا جارہا ہے کہ پاکستان موجودہ طریق کار سے نہیں چل سکتا لہازا بڑے فیصلے کرنے پڑیں گے۔ یہ افواہیں بھی سننے میں آتی ہیں کہ بڑے بڑے تاجر بند دروازوں کے پیچھے یہ کہتے ہیں کہ اس ملک میں جمہوری نظام نہیں چل سکتا، سیاست دان ملک چلانے کے اہل نہیں، اور یہ فوج ہی ہے جو اپنی طاقت اور قوت نافذہ سے اس ملک کو سیدھا کر سکتی ہے، بڑے بڑے مدبر اعداد و شمار سے اٹھارہویں ترمیم کے خلاف دلائل دے کر یہ کہہ رہے ہیں کہ صوبے امیر اور فیڈریشن و مقتدرہ غریب ہو چکے ہیں، اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے سے ہی مسائل حل ہوں گے۔ زراعت کا معاملہ ہو یا معیشت کا، امن و امان کی صورتحال ہو یا خارجہ پالیسی کے دائو پیچ، اس میں بے چاری کمزور ترین سیاسی حکومت کی آواز دبانے کی مہم جاری و ساری ہے۔ بڑے فیصلے حکومتی ایوانوں میں ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے، یہ سب کچھ نظر نہ آنے والے کر رہے ہیں۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ آج بھی وہی سب کچھ ہورہا ہے جو پچھلے 75 سال سے ہو رہا ہے۔ اگر معاملات ایسے ہی چلنے ہیں تو اس کا نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو 75 سال سے نکل رہا ہے یعنی ہم آگے جانے کی بجائے مزید پیچھے چلے جائیں گے۔

انکے مطابق پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ خواص ہوں یا عوام سب سمجھنے لگے ہیں کہ ملک چورن سے چلے گا، کچھ کا یقین ہے کہ شارٹ کٹ بہترین راستہ ہے، کئی بزرجمہر ماورائے آئین اقدامات کو بہترین حل گردانتے ہیں،کئی احمق آئین کو بارہ صفحات کی وہ کتاب سمجھتے ہیں جو ان کے عزائم میں رکاوٹ ہے، آئین کسی بھی ملک کا مقدس صحیفہ ہوتا ہے جس پر سب عمّال اور سب بڑوں کو حلف اٹھانا پڑتا ہے۔ میری آزادی سے لے کر عہدیداروں کی طاقت سب کی جڑیں اس آئین سے جڑی ہوئی ہیں ، چورن، شارٹ کٹ یا ماورائے آئین و قانون اقدامات وقتی، سطحی اور متنازعہ ہوتے ہیں۔ دائمی، گہرے اور غیر متنازعہ اقدامات صرف آئین کی روح کے مطابق ہی ہوسکتے ہیں۔

سہیل وڑائچ کے مطابق انکی رائے میں اصل مسئلہ اختیارات کا نچلی سطح تک منتقل نہ ہونا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 140 اے کے مطابق یہ اختیارات نیچے منتقل کرنا ضروری ہے۔ پہلے وفاق غاصب اور آمر ہوتا تھا وہی سارے اختیارات کا حامل ہوتا تھا اب صوبے نئے غاصب اور آمر بن چکے ہیں اب وفاق غریب اور صوبے امیر ہوچکے ہیں آئین کے تحت وفاقی مالیاتی کمیشن فنڈز منتقل کردیتا ہے۔ صوبوں کے صوبائی مالیاتی کمیشن اپنے فنڈز اضلاع کو منتقل نہیں کر رہے اسی طرح اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبے اپنے اختیارات حاصل کر چکے ہیں اب صوبائی وزرائے اعلیٰ غاصب اور آمر بن چکے ہیں وہ نہ فنڈز نیچے دے رہے ہیں اور نہ اختیار، جنرل مشرف آمر تھے لیکن چند مستثنیات کے علاوہ ان کا لایا گیا بلدیاتی نظام اختیارات اور مالی آزادی کے حوالے سے ایک بہتر ماڈل تھا جب تک اختیارات اضلاع کو منتقل نہیں ہوتے اس وقت تک محرومی اور پسماندگی ختم نہیں ہوسکتیں۔حد تو یہ ہے کہ کئی سالوں سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے جنرل مشرف کے جانے کے بعد وہ بلدیاتی نظام لپیٹ دیا گیا ہے، نہ اب اضلاع کی منتخب حکومتیں ہیں اور نہ منتخب لوگوں کے پاس مالی اختیارات، دوبارہ سے ڈپٹی کمشنر اور صدیوں پرانا غلامانہ نظام پھر سے مسلط کر دیا گیا ہے۔ اگر جنرل مشرف کے لائے گئے نظام کی غلطیاں دور کر دی جائیں اضلاع میں سٹاف کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے اور احتساب اور آڈٹ کا موثر انتظام کیا جائے تو ملک دوبارہ سے جدید دنیا میں سر اٹھا کر داخل ہو سکتا ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آج کی فوجی قیادت کافی باشعور ہے۔ ابھی تک اس نے جمہوریت کا آئینی غلاف پھاڑا نہیں۔ وہ پیچھے بیٹھے نظام تو چلا رہے ہیں لیکن آئین کے مدمقابل آئے بغیر، یہ رویہ ماضی سے کہیں بہتر ہے لیکن یہ عارضی انتظام تو ہوسکتا ہے دائمی نہیں۔ اسی معاملے کا اصل حل سویلین حکومت کو تمام آئینی اختیارات دینا اور اسکی صلاحیتوں میں کمی کو دور کرنے کیلئے موثر تربیت ہے۔ یہ حکومت جیسی بھی ہے، اسکے قانونی اور آئینی جواز پر جو بھی سوال ہیں واحد راستہ یہی ہے کہ اس حکومت کو اپوزیشن اور فوج دونوں کام کرنے دیں تاکہ ملک میں استحکام اور امن کا دور دورہ ہو۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی دوغلی سیاست کیسے بے نقاب کی؟

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پنڈی کی غلام گردشوں میں سرگوشیاں کرنے والے عناصر ہوں یا صنعت کار اور تاجر جو نظام کو بائی پاس کرنے پر اکساتے ہیں، ان کے مشوروں کو رد کرکے ملک میں آئین کا بول بالا کرنا چاہئے۔ وہ مخالف سیاست دان جو جمہوریت اور آئین سے بالاتر کوئی بھی منصوبہ پیش کرتے ہیں لازماً اس میں انکا ذاتی اور سیاسی مفاد ہوتا ہے، ایسے سازشیوں کی ایک نہیں سننی چاہئے۔ ملک صرف اور صرف آئین اور قانون سے ترقی کر سکتے ہیں بس سب اسی راستہ پر چلیں کیونکہ باقی سب راستے ہماری منزل کھوٹی کریں گے ۔

Back to top button