فیض حمید کی سزا قیدی نمبر 804 کے لیے واضح پیغام کیوں ہے؟

 

 

 

اپنے زمانے کے فرعون کہلانے والے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو 14 برس قیدِ بامشقت کی سزا قیدی نمبر 804 عمران خان کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ جب فوج اپنے اتنے لاڈلے جرنیل کو کھڑکا سکتی ہے تو پھر روزانہ فوج کو دھمکیاں دینے والے ایک سویلین کے ساتھ کیا سلوک ہو سکتا ہے۔

 

ان خیالات کا اظہار معروف لکھاری اور کئی کتابوں کے مصنف محمد حنیف نے بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں کیا ہے۔ حنیف کے مطابق آنے والے آئی ایس آئی چیف کو ہمیشہ پیار ملتا ہے اور جانے والے کو لعن طعن ملتی ہے جس کی وجہ ہم سب جانتے ہیں۔ ہر نئے ایجنسی چیف کے بارے میں دفاعی تجزیہ کار یہی کہتے ہیں کہ وہ انتہائی پیشہ ور جرنیل ہیں۔ مبارک سلامت کے اس شور میں کوئی یہ نہیں کہتا کہ بھائیو فوج کے سب سے حساس ادارے کا سربراہ تو پیشہ ور جنرل ہی بنے گا، اسکی سربراہی کے لیے بندہ پاکستان آئیڈل سے تو ویسے بھی نہیں چنا جا سکتا۔

 

محمد حنیف کہتے ہیں کہ جب کوئی آئی ایس آئی چیف گھر جاتا ہے تو الزام لگتا ہے کہ اس نے حساس عہدے پر رہ کر سیاست کی۔ یہ وہی بات ہے جیسے پوپ کی وفات کے بعد کہا جائے کہ یہ تو ساری عمر اپنے مذہب کی تبلیغ کرتا رہا۔ حنیف بتاتے ہیں کہ انہوں نے جنرل فیض حمید کا نام پہلی بار تب سنا جب ایک باخبر صحافی نے فون پر میسج دیکھتے ہی سگریٹ مانگا اور بتایا کہ ’فیض ڈی جی بن گیا ہے۔‘ انکے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ ڈان لیکس کے معاملے پر میڈیا اور نواز شریف حکومت پر جو دباؤ ڈالا جا رہا تھا، اس کے پیچھے جنرل فیض تھے۔ جواباً انہوں نے یہ بات بتانے والے صحافی کو تسلی دی کہ آپ نے بڑے آئی ایس آئی چیفس آتے جاتے دیکھے ہیں، یہ مصیبت بھی گزر جائے گی۔ لیکن اس صحافی کی آنکھوں نے بتایا کہ اب جو بلا نازل ہونے والی ہے، اس کا تمہیں اندازہ نہیں۔ بعد میں کچھ ایسا ہی ہوا۔

 

محمد حنیف بتاتے ہیں کہ جنرل حمید گل تھے وہ پہلے انٹیلی جنس چیف تھے جو خود کو اپنے آرمی چیف کا ولی عہد سمجھنے لگے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے نہ صرف افغانستان آزاد کروایا بلکہ سوویت یونین کو توڑ کر دنیا سے کمیونزم بھی مٹا دیا۔ لیکن ان سے کبھی یہ نہ پوچھا جا سکا کہ جب آپ کا اولین کام اپنے چیف اور فوج کی حفاظت تھا تو آپ کی کمان میں آرمی چیف جنرل ضیا الحق سمیت کئی جرنیل ایک پراسرار طیارہ حادثے میں کیسے مارے گئے۔ بعد میں یہ کہا گیا کہ جہاز میں آموں کے کریٹس میں رکھا گیا دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے حادثہ ہوا، لیکن حمید گل، آئی ایس آئی کے سربراہ ہونے کے باوجود نہ تو حادثہ روک سکے اور نہ ہی قوم کو اصل ذمہ داروں کے بارے میں بتا سکے۔

حنیف بتاتے ہیں کہ اس کے بعد آنے والے آئی ایس آئی چیفس میں سے کوئی حکومت کو گھر بھیجنے کا بندوبست کرتا، جبکہ کوئی جیل یا جلاوطنی میں بیٹھے سیاستدان کو واپس لانے کا بندوبست کرتا۔ ایک انٹیلی جنس چیف بے نظیر بھٹو کو غدار قرار دیتا تو بعد میں آنے والا چیف کہتا کہ اب وہ ٹھیک ہو گئی ہیں۔ نواز شریف کو کبھی بگڑا ہوا بچہ تو کبھی ہائی جیکر قرار دیا جاتا اور پھر دوبارہ مدبر سیاستدان قرار دے دیا جاتا۔ کبھی آصف زرداری، عہدۂ صدارت پر ہوتے ہوئے بھی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا کی جانب سے میموگیٹ سکینڈل کا مرکزی ملزم ٹھہرائے جاتے اور پھر انہیں دوبارہ صدر مان لیا جاتا۔

 

محمد حنیف کے بقول یہ فیصلے اگرچہ فوج کا ادارہ کرتا تھا، مگر سیاستدانوں اور میڈیا کو سیدھا کرنے کے لیے آئی ایس آئی ہی استعمال ہوتی تھی۔ پھر وقت بدلا تو اسی ادارے کو عمران کے دورِ حکومت میں سب سے اچھا سپاہی قرار دیے جانے والے فیض حمید کی قربانی دینا پڑی۔ یاد رہے کہ جنرل فیض نے، یا شاید ان کے مداحوں نے، انہیں آئی ایس آئی چیف بنتے ہی جنرل باجوہ کا ولی عہد قرار دے دیا تھا کیونکہ وہ عمران خان کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے اور 2018 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے ذریعے انہیں وزیراعظم بنانے کا سہرا انہی کو دیا جاتا رہا۔

فیض، عمران اور بشریٰ کے ٹرائکا نے پاکستان کو کیسے کھڑکایا؟

محمد حنیف کہتے ہیں کہ جب فیض حمید کے آرمی چیف بننے کی باتیں شروع ہوئیں تو عمران خان کے دس سالہ منصوبے کا چرچا بھی ہوا کہ دونوں ایک دہائی تک اقتدار میں رہیں گے۔ کچھ لوگ سمجھاتے رہے کہ فوج میں تاج پوشی نہیں ہوتی۔ویسے بھی مغل بادشاہ ولی عہد کا اعلان کرتے تو اسکے خلاف محلاتی سازشیں شروع ہو جاتی تھیں، جبکہ فوج میں ہر تھری اسٹار جنرل اپنے آپ کو ولی عہد سمجھتا ہے۔ تاہم نہ عمران خان کو یہ بات سمجھ آئی اور نہ فیض حمید کو، اور آج دونوں جیل میں ہیں۔

 

محمد حنیف یاد دلاتے ہیں کہ جنرل فیض کو 14 برس قید بامشقت کی سزا ہو چکی ہے، لیکن ان پر لگے سنگین الزامات کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے جن میں 9 مئی 2023 کے واقعات بھی شامل ہیں۔ حنیف کے مطابق اس سزا کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ دیکھو فوج کے اندر احتساب کا نظام کتنا مضبوط ہے۔ فیض کی سزا دیگر جرنیلوں کے لیے بھی پیغام ہے کہ ریٹائر ہونے کے بعد کوئی اعلیٰ عہدہ نہیں بھی ملے تو صبر شکر کرو، اپنی گالف کی گیم پر توجہ دو، بجائے کہ کسی سیاستدان کے ساتھ مل کر بڑے کو انگلی کرو اور کورٹ مارشل کا شکار ہو جاؤ۔

Back to top button