فیض کا عمران کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا امکان کیوں نہیں؟

اسلام آباد میں باخبر ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے کورٹ مارشل کے دوران 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کے حوالے سے تمام تر انفارمیشن فوجی حکام کے ساتھ شیئر کر دی تھی جس کے بعد انہیں عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی کورٹ مارشل کا شکار ہو جانے والے شخص کو عمران کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے سے انکے خلاف کیسز مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف مختلف شہروں میں 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی سازش کے الزام میں درجن سے زائد مقدمات درج ہیں۔ چنانچہ میڈیا میں مسلسل ایسی خبریں چل رہی تھیں کہ 14 برس قیدِ بامشقت کی سزا پانے والے فیض حمید ممکنہ طور پر 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے کیسز میں عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن سکتے ہیں۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے قربت رکھنے والے سینیٹر فیصل واوڈا نے تو یہ دعوی بھی کر دیا تھا کہ فیض حمید کا ایک اور کورٹ مارشل ہونے جا رہا ہے جس کے دوران وہ عمران خان کے خلاف شواہد اور گواہیاں پیش کریں گے، جو انتہائی خطرناک نوعیت کی ہوں گی۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ آرمی چیف بننے کے سفر میں جیل تک جا پہنچنے والے فیض حمید کی جانب سے عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کی باتیں اس لیے ہو رہی ہیں کہ ان کے اور پراسیکیوٹرز کے درمیان کوئی انڈرسٹینڈنگ ہو چکی ہے۔ اس دوران فیض حمید نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو اپنی 14 سال قید با مشقت کی سزا معاف کرنے کی درخواست بھی ڈال دی جس وجہ سے افواہوں میں تیزی آ گئی۔ تاہم اب فیض حمید کے وکیل نے واضح کیا ہے کہ اُن کے موکل سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف کسی بھی مقدمے میں سرکاری گواہ نہیں بن رہے۔ فیض حمید کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ فیض حمید عمران خان کیخلاف سرکاری گواہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے ان دعوؤں کو قیاس آرائی پر مبنی اور بے بنیاد قرار دیا۔
بیرسٹر میاں علی اشفاق کا کہنا ہے کہ میڈیا میں گردش کرنے والی ایسی کہانیاں بے بنیاد ہیں کہ فیض حمید بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف مقدمات میں سرکاری گواہ بننے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ باتیں محض قیاس آرائی ہیں۔
یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بعض وفاقی وزراء اور اسٹیبلشمنٹ سے قربت رکھنے والے سیاست دان ایسے بیان دے چکے ہیں کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی سابق وزیراعظم کیخلاف گواہی دیں گے۔ اس کے علاوہ، عمران خان اور فیض حمید کے درمیان 9؍ مئی 2023 کے حملوں کے حوالے سے گٹھ جوڑ بارے بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
جب بیرسٹر میاں علی اشفاق سے پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے اس معاملے پر براہِ راست اپنے موکل سے بات کی ہے تو انہوں نے واضح ہاں میں جواب دینے کے بجائے کہا، ’مجھے یہ بات بطورِ حقیقت معلوم ہے‘، جس سے انہوں نے اس تاثر کو تقویت دی کہ فیض حمید کے پی ٹی آئی کے بانی کیخلاف سرکاری گواہ بننے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ فیض حمید اور عمران خان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ سے متعلق قیاس آرائیاں سرکاری سرپرستی میں بننے والا بیانیہ ہیں، جو 9؍ مئی کے واقعات کے بعد دہرایا جا رہا ہے۔
عدالت میں پھینٹی کھانے والے رجب بٹ نئے تنازعے میں پھنس گئے
ان واقعات کے دوران عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں فوجی تنصیبات بشمول جی ایچ کیو ہیڈ کوارٹر اور کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے کیے گئے تھے۔ یہ قیاس آرائیاں تب مزید تقویت اختیار کر گئیں جب فوجی عدالت نے فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔ وفاقی کابینہ کے سینئر ارکان، جن میں وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ شامل ہیں، متعدد بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ پر تشدد واقعات عمران خان اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان ایک مربوط منصوبے کا نتیجہ تھے۔ تاہم، ان دعووں کے باوجود، فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر نے تاحال اپنی کسی بریفنگ میں یہ نہیں کہا کہ عمران خان اور فیض حمید کے درمیان ایسا کوئی گٹھ جوڑ موجود تھا۔
