گنڈاپور کی جہازی سائز خیبرپختونخوا کابینہ تنقید کی زد میں کیوں؟

مالی مسائل، بد انتطامی، کرپشن کے الزامات اور دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دو چار تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت نے 12 معاون خصوصی مقرر کرکے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے کابینہ میں مزید 12 اراکین کے شامل کرنے کے فیصلے کو جہاں خیبرپختونخوا کی اپوزیشن جماعتیں ہدف تنقید بنا رہی ہیں وہیں گنڈاپور سرکار کی 33رکنی جہازی سائز کابینہ صوبائی خزانے پر بھی بوجھ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صوبہ پہلے ہی مالی و انتظامی مسائل سے دوچار ہے۔ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے عوامی فلاحی منصوبوں پر کام رک چکا ہے جبکہ حکومت کوئی نیا دیرپا منصوبہ شروع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ایسے میں بھی وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے اپنوں پر نوازشات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق گنڈاپور سرکار کی جانب سے نومنتخب کردہ 12 معاونین خصوصی کی کابینہ میں شمولیت سے جہاں صوبائی خزانے پر مزید بوجھ پڑے گا وہیں اس فیصلے سے صوبے کے انتظامی معاملات میں بھی بہتری کی بجائے مزید بگاڑ پیدا ہو گا جبکہ گنڈاپور سرکار کا یہ فیصلہ آئین کے بھی منافی ہے۔
خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں آئین کی 18ویں ترمیم کے برعکس 12معاون خصوصی کی تقرری متنازعہ بن گئی ہے ۔آئینی ماہرین نے معاونین خصوصی کی تقرری کو آئین کی 18ویں ترمیم کی روح کے منافی قرار دیا ہے کیونکہ اس فیصلے سے خیبرپختو نخوا کابینہ کا حجم گیارہ فیصد سے بڑھ کر 23فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ پنجاب کابینہ کا ممبران اسمبلی کے حساب سے حجم 5.6فیصد ہے اسی طرح سندھ کابینہ کا حجم 20فیصد کے قریب ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت موجودہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کی کابینہ میں 15 وزراء، 5 مشیر اور 12 خصوصی معاونین شامل ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق آئین کی 18ویں ترمیم کے آرٹیکل 130(6) کے مطابق، وفاقی کابینہ کا حجم پارلیمنٹ کے کل اراکین کا 11 فیصد ہوگا۔ صوبوں میں بھی کابینہ کی تعداد 15 اراکین یا 11 فیصد تک محدود ہوگی۔ کسی بھی صوبے کا وزیراعلیٰ، وزیراعظم کی طرح، 5 سے زیادہ مشیر مقرر کرنے کے مجاز نہیں ہو گا۔
مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں خلاف آئین 12 معاونین خصوصی کی تقرری متنازعہ ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے چاروں صوبائی حکومتوں کے تجزیہ کےدوران انکشاف ہوا ہے کہ خیبرپختونخوا کابینہ 12خصوصی معاونین کی تقرری کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ سندھ 10معاونین خصوصی کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے اسی طرح پنجاب میں تین معاون خصوصی تعینات ہیں جبکہ بلوچستان میں کوئی معاون خصوصی نہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق پنجاب اسمبلی میں ممبران کی تعداد 371ہے جبکہ پنجاب میں وزیراعلی مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت میں ایک سینئر وزیر ٗ16 وزراء اورتین معاون خصوصی شامل ہیں یوں کابینہ کی مجموعی تعداد 21کے قریب ہے ۔
سندھ اسمبلی میں اراکین کی تعداد 168ہے جبکہ وزیرعلی مراد علی شاہ کی قیادت میں صوبائی کابینہ میں 18وزراء ٗ5مشیران اور 10معاون خصوصی شامل ہیں یوں کابینہ کی تعداد 34بنتی ہے البتہ سندھ کے وزیراعلی کے 8ترجمان بھی ہیں ۔
اسی طرح بلوچستان اسمبلی میں ممبران کی تعداد 65ہے اور وزیراعلی میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی کابینہ میں13وزراء اورچار مشیر شامل ہیں یوں کابینہ کی تعداد 18ہے البتہ کوئی معاون خصوصی مقررنہیں کیا گیا ۔
یوتھیوں نے دوبارہ سپریم کورٹ سے امیدیں کیوں وابستہ کر لیں؟
جبکہ پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کی کابینہ میں 15 وزراء، 5 مشیر اور 12 خصوصی معاونین شامل ہیں۔ نئے معاونین خصوصی کی تقرری کے بعد خیبرپختو نخوا کابینہ کا حجم گیارہ فیصد سے بڑھ کر 23فیصد تک پہنچ چکا ہے جس پر گنڈاپور سرکار شدید تنقید کی زد میں ہے۔
