حمزہ شہباز سیاسی محاذ پر دوبارہ سرگرم کیوں ہوگئے؟

گزشتہ ایک لمبے عرصے سے کھڈے لائن لگائے جانے والے حمزہ شہباز نے اپنے والد کے اشارے پر کوئی بھی سرکاری عہدہ لئے بغیر سیاسی طور پر متحرک ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تاکہ مریم نواز کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پر کیا جا سکے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پنجاب میں مریم نواز بطور وزیر اعلٰی نہ صرف پوری طرح متحرک ہیں بلکہ انھیں اپنے والد اور پارٹی کے قائد میاں نواز شریف کی پوری رہنمائی اور تائید بھی حاصل ہے۔ مریم نواز کے ہوتے ہوئے پنجاب میں حمزہ شہباز شریف کا خود کو منوانا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔
خیال رہے کہ ماضی میں حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلٰی اور اپوزیشن لیڈر بھی رہ چکے ہیں۔ پارٹی کے اندر بھی ان کی گرفت خاص طور پر لاہور کی حد تک بہت مضبوط رہی ہے تاہم بطور وزیراعلی پنجاب کارکردگی دکھانے میں ناکامی کے بعد جہاں پارٹی نے انھیں مکمل طور پر کھڈے لائن لگا دیا تھا وہیں انھوں نے بھی خاموشی اختیار کر لی تھی۔ وزرات اعلیٰ چھن جانے کے بعد سے تو انھوں نے پارٹی معاملات میں بھی مداخلت بہت حد تک کم کر دی تھی۔ وہ پارٹی سیکریٹریٹ آتے ضرور تھے لیکن پارٹی اجلاسوں میں شرکت کی بجائے وہ صرف قریبی دوست احباب اور پارٹی کے چیدہ چیدہ رہنماؤں سے ملاقاتوں میں مصروف رہتے تھے۔ 2024 کے عام انتخابات کے بعد جب مریم نواز پنجاب کی وزیر اعلیٰ بنیں تو وہ کچھ عرصے کے لیے بیرونِ ملک بھی چلے گئے تھے۔ طویل عرصے بعد ملک واپس آنے کے بعد بھی انھوں نے خود کو تعزیتی ملاقاتوں اور فاتحہ خوانی کی محافل تک محدود رکھا۔ تاہم اب حمزہ شہباز نے اپنےوالد وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات پر پنجاب بھر میں سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس کے بعد حمزہ شہباز نہ صرف صوبے بھر میں پارٹی کے ضلعی صدور سے ملاقاتیں کر رہے ہیں بلکہ لاہور میں یونین کونسل کی سطح تک کارکنوں سے رابطے بھی بڑھا رہے ہیں۔ ان ملاقاتوں کی باقاعدہ تشہیر بھی کی جا رہی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ سرگرمیاں محض معمول کا حصہ نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی حکمت عملی کی غماز ہیں۔
تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حمزہ شہباز کے اچانک سیاسی طور پر متحرک ہونے کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا حمزہ شہباز کی سرگرمیاں محض تنظیمی بہتری کے لیے ہیں یا اس کے پیچھےکوئی بڑی سیاسی حکمت عملی کارفرما ہے؟ مبصرین کے مطابق مریم نواز کے پنجاب کی وزیراعلٰی بننے کے بعد سے مسلم لیگ ن کے سیاسی اُفق سے حمزہ شہباز مکمل طور پر غائب رہے ہیں۔ انہوں نے چند لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کی وفات پر اُن کے اہل خانہ سے تعزیت کے علاوہ اور کوئی عملی کام نہیں کیا۔ جن سرکاری تقریبات میں وہ نظر آئے بھی تو اُن کا چہرہ سپاٹ اور تاثرات سے عاری رہا۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کی وجہ سے حمزہ شہباز کا سیاسی راستہ رُکنا ایک لازمی امر تھا جبکہ دوسری طرف حالیہ اقدامات سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ نواز شریف مریم نواز کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ جس کے بعد حمزہ شہباز کی سیاسی راہیں مسدُود ہو گئی تھیں، تاہم اب ایک مرتبہ پھر ایک بار حمزہ شہباز کے سیاسی طور پر متحرک ہونے سے لگتا ہے کہ وہ کوشش کریں تو پارٹی کے اندر اپنی پوزیشن بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔‘ مبصرین کے مطابق حمزہ شہباز نے اپنے والد شہباز شریف کی ہدایت پر بغیر کسی سرکاری عہدے کے سیاسی طور پر متحرک ہونے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مریم نواز کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پر کیا جا سکے۔ تاہم حمزہ شہباز کے قریبی حلقوں کے مطابق یہ تاثر درست نہیں کہ حمزہ شہباز سیاست سے دور تھے، حقیقت یہ ہے کہ اب ان کی سرگرمیوں میں وسعت اس لیے آئی ہے تاکہ نچلی سطح پر پارٹی کارکنوں کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
نون لیگ کے قریبی سمجھے جانے والے سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ ’مسلم لیگ ن کی قیادت کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اپنی پارٹی کو سنبھالنے کی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ نواز شریف عملی اقدامات سے یہ تاثر دے چکے ہیں کہ آگے جا کر پارٹی کی باگ ڈور مریم نواز ہی سنبھالیں گی۔‘’ایسے میں حمزہ شہباز کا بیک فُٹ پر جانا ایک قدرتی عمل تھا کیونکہ اس سے پہلے وہ اپنے آپ کو تایا نواز شریف کا جانشین سمجھتے تھے، سلمان غنی مزید کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں حمزہ شہباز کو کسی ایسی سرگرمی میں لانا کہ وہ پارٹی کے لیے مفید ثابت ہوں ایک بہتر کوشش ہے۔سلمان غنی کے مطابق حکومت کے دو سے ڈھائی سال گزرنے کے بعد جماعتیں اپنی سیاسی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتی ہیں۔ اسی لئے نون لیگ بھی سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے جا رہی ہے۔ سلمان غنی کا مزید کہنا ہے کہ حمزہ شہباز خاص طور پر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے خواہاں ہیں تاکہ پارٹی کی جڑیں مزید مضبوط کی جا سکیں۔ تاہم اس معاملے پر صوبائی حکومت، جو اس وقت مریم نواز کے پاس ہے، بظاہر جلدی میں نظر نہیں آتی۔
دوسری جانب نجم سیٹھی اس صورتحال کو پارٹی کے اندرونی طاقت کے توازن سے جوڑتے نظر آتے ہیں۔ نجم سیٹھی کے مطابق حمزہ شہباز پنجاب میں اپنی سیاسی حیثیت کو مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں،حتیٰ کہ وہ مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر بھی بننا چاہتے ہیں۔ حمزہ شہباز زور لگا رہے ہیں کہ انہیں پنجاب میں اپنے پاؤں مضبوط کرنے دیے جائیں تاکہ کل کو اگر مریم نواز وفاق کو رُخ کرتی ہیں تو انہیں صوبے میں کام کرنے کا راستہ مل سکے۔‘ تاہم سلمان غنی اس تجزیے سے اتفاق نہیں کرتے، ان کا کہنا ہے کہ ’ابھی شہباز شریف نے طویل اننگز کھیلی ہے اور اس وقت وفاق کی جو ٹیم ہے اور جیسے حالات ہیں، شہباز شریف کہیں نہیں جا رہے۔‘ انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’اس لیے یہ خبر مارکیٹ میں موجود تو ہے کہ حمزہ شہباز مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر بننا چاہتے ہیں لیکن اس میں صداقت کم اور فِلر زیادہ لگ رہا ہے۔
پی ٹی آئی میں اختیاراورقبضےکی جنگ تیزکیوں ہوگئی؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹی کے اندر کچھ حلقے یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ حمزہ شہباز کو مستقبل میں وفاقی سطح پر کوئی اہم ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس پیشرفت سامنے نہیں آئی ہے۔
