عمران 26 نومبر جیسے احتجاج کی کال دینے سے خوفزدہ کیوں ہیں ؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ اپنے 26 نومبر کے احتجاج کی ناکامی کے بعد سے عمران خان نے دوبارہ کوئی حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان اس لیے نہیں کیا کہ انہیں یہ یقین نہیں رہا کہ عوام ان کی کال پر بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں گے۔ اسی وجہ سے ان کے ساتھی بھی کوئی تحریک چلانے کی بجائے دیگر جماعتوں سے مل کر اتحاد بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں تاکہ حکومت کے خلاف ایک موثر حکمت عملی بنائی جا سکے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ ویسے تو عمران خان کبھی مایوس نہیں ہوتے لیکن سچ یہ ہے کہ سیاست کرکٹ سے بہت مختلف کھیل ہے، خاص طور پر جب مقابلہ طاقتور ترین حریف سے ہو اور اپنے بھی ساتھ نہ ہوں۔ انکا کہنا ہے کہ کپتان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد چند بنیادی سیاسی غلطیاں کیں اور اسی لیے اب وہ 26 نومبر 2024 جیسی کوئی کال نہیں دے رہے۔ ویسے بھی دو محاذوں پر جنگ لڑنا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر اگر آپ کی اپنی پارٹی ہی ساتھ نہ کھڑی ہو۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود تاحال تحریک انصاف نہ تو کوئی مربوط تحریک چلا پائی ہے اور نہ ہی پاکستان قومی اتحاد، اسلامی جمہوری اتحاد یا تحریک بحالی جمہوریت، ایم آر ڈی طرز کا کوئی سیاسی اتحاد بنا پائی۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ عمران خان سے اصل میں غلطی کہاں ہوئی اور اب آگے اسکے لیے راستہ کیا ہے۔ سینیر صحافی کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا حادثہ تو یہ ہوا کہ 26 نومبر کی رات ڈی چوک پر دھرنا دینے والے انقلابی بشری بی بی اور علی امین گنڈا پور کی زیر قیادت جوتیاں اٹھا کر اسلام آباد سے فرار ہو گئے۔ اسکے بعد سے اچانک ملک بھر ایک خاموشی سی چھا گئی۔ آج اس بات کو 3 ماہ ہونے کو ہیں، نہ بانی کی طرف سے کوئی کال آئی اور نہ ہی کوئی لائن دی گئی۔ کبھی مولانا سے امیدیں باندھی گئیں تو کبھی اچکزئی سے اور اب بات سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تک آ گئی ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ دوسری جانب عمران خان آرمی چیف کو خط پر خط لکھ رہے ہیں حالانکہ دوسری جانب سے صاف جواب مل چکا ہے، یعنی ’مجھے کوئی خط نہیں آیا، اور آتا بھی تو وزیراعظم کو بھیج دیتا‘۔ پھر ایک خط چیف جسٹس سپریم کورٹ کو دستاویز کے ساتھ لکھا گیا۔ مگر وہاں سے بھی طویل خاموشی ہے۔ اب خان نے ایک مضمون امریکہ کے موثر ترین اخبار میں لکھ مارا ہے جس میں فوجی قیادت کو ایک مرتبہ پھر چارج شیٹ کر دیا گیا ہے۔ ساتھ میں نئے امریکی صدر ٹرمپ کی خوشامد بھی کی گئی ہے۔ لیکن وہاں سے بھی اب تک خاموشی ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ عمران خان سے سب سے بڑی غلطی تب ہوئی جب انہوں نے یہ یقین کر لیا کہ انکے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں آئے گی اور اگر آئی بھی تو ’ناکام‘ ہوگی، اگر انہیں یہ جھوٹا یقین نہ ہوتا تو وہ بڑی آسانی سے جنوری یا فروری میں جنرل باجوہ سے جنرل فیض حمید کے معاملے پر اختلافات پیدا ہونے کے بعد اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کرا سکتے تھے، لیکن تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔ دراصل ہمارے ہر حکمراں کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ اسے ’اندرون خانہ‘ سازشوں کا علم ہی نہیں ہوتا وہ زیادہ تر انحصار ’انٹیلی جنس رپورٹس‘ پر کرتا ہے اب اگر اندر ہی سازش ہورہی ہو تو رپورٹس کیسے آئیں گی۔
1977 میں ذوالفقار علی بھٹو سے بھی یہی غلطی ہوئی تھی، انہوں نے جلد بازی میں ایک سال قبل از وقت الیکشن کا اعلان تو کر دیا لیکن نہ تو جمعہ کی چھٹی کام آئی اور نہ ہی شراب پر پابندی۔ جنرل ضیاء الحق بھی منافق اور احسان فراموش نکلا اور اس نے بھی جنرل باجوا کی طرح اپنے وزیراعظم کو دھوکہ دے ڈالا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی طرف 6؍اگست 1990کی صبح تک بے نظیر بھٹو شہید بھی اس غلط فہمی میں رہیں کہ صدر غلام اسحاق خان یا جنرل اسلم بیگ ان کے ساتھ ہیں، لیکن شام کو ان کی حکومت برطرف کر دی گئی۔ ایسی ہی غلط فہمی کا شکار میاں نواز شریف بھی رہے کہ وہ تو غلام اسحاق خان کو لانے والوں میں سے ہیں، لیکن 1993 میں ان کی حکومت بھی برطرف کردی گئی۔ میاں صاحب نے ’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ جیسی دھواں دار تقریر کی لیکن پھر استعفیٰ دے دیا۔ اسکے بعد بی بی کی حکومت آئی، صدر بھی انکا اپنا تھا اور فوج سے بھی اختلاف نہیں تھا لیکن ان کے اپنے صدر فاروق لغاری نے فوج کیساتھ مل کر انہیں گھر بھیج دیا۔
مظہر عباس کے بقول عمران خان کی سیاست 2013 تک درست سمت میں تھی، وہ خود کو تیسرے آپشن کے تحت منوا چکے تھے۔ 2013 کے الیکشن میں ان کی کارکردگی بہتر تھی ایک ایسی جماعت جس نے 2002 میں ایک سیٹ جیتی ہو وہ بھی خان کی اپنی، اسے اگر کے پی میں حکومت بنانی پڑ جائے اور پنجاب اور وفاق میں اچھی خاصی نشستیں اسکے ہاتھ آجائیں تو 124 دن کے دھرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ مگر عمران جنرل ظہیر الاسلام اور جنرل احمد شجاع پاشا جیسے افسران کے کہنے پر چلنے لگے لہٰذا انکے فیصلے بھی سیاسی نہ رہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے دروازے تمام پارٹیوں کے ’لوٹوں‘ کیلئے کھول دیئے اور یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ عمران خان اور عارف علوی ایسے لوگوں کا دفاع کرتے رہے، چاہے وہ جہانگیر ترین ہوں، علیم خان یا دیگر آنے والے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان 2013 میں پارٹی الیکشن میں ہونے والی دھاندلی پر جسٹس وجیہہ الدین کی رپورٹ کو تسلیم کرلیتے تو آج اس مشکل میں نہ پڑتے۔ 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف بڑی جماعت بن کر ابھری مگر حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی، ایسے میں ’زبردستی‘ کی حکومت بنانے کی غلطی ویسی ہی تھی جیسی محترمہ نے 1988 میں ’مشروط‘ حکومت بناکر کی۔ وہی جماعتیں اور آزاد اراکین جو ان کے حوالے کئے گئے تھے تین سال بعد عدم اعتماد کی تحریک میں مخالف ہو گئے، یعنی جس نے حوالے کیے تھے اسی نے واپس لے لیے۔ لیکن سب سے بڑی غلطی 9 مئی کو ہوئی، اگر اس میں پارٹی قیادت ملوث نہیں تھی اور بقول خان یہ ایک سازش تھی تو وہ کود کو اس الزام سے ویسے ہی الگ کر سکتے تھے جیسے بے نظیر بھٹو نے PIA ہائی جیکنگ کے بعد مرتضیٰ بھٹو سے خود کو کیا۔ وہ اس واقعے کی مذمت بھی کر سکتے تھے اور جو لوگ ملوث تھے ان کی ممبر شپ معطل بھی کر سکتے تھے لیکن عمران نے ایسا کچھ نہ کیا حالانکہ فوجی قیادت نے اسے ایک بغاوت کی سازش قرار دیا تھا۔ عمران خان اج بھی اپنے موقف پر کھڑے ہیں اور فوجی قیادت سے 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنے کو تیار نہیں۔
وفاقی مشیر بن کر پرویز خٹک نہ گھر کے رہے اور نہ گھاٹ کے
مظہر عباس کے بقوال اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر عمران کی جگہ اسٹیبلشمنٹ کی’بی‘ ٹیم بن گئی ہے اور پی پی پی بننے کی دوڑ میں ہے۔ لہذا عمران خان خود سوچیں کہ آج کیا وجہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود اپوزیشن کا اتحاد نہیں بن پا رہا۔ آخر کیوں اعتماد سازی کا فقدان ہے، نہ تو جماعت اسلامی پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کو تیار ہے اور نہ ہی جمعیت علمائے اسلام۔
