ٹرمپ کو باپ بنانے کے باوجود عمران کی رہائی کا امکان کیوں نہیں؟

امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد یوتھیے لڈیاں ڈالتے دکھائی دیتے ہیں یہاں تک کہ ہم کوئی غلام ہیں اور ایبسلوٹلی ناٹ کے نعرے لگانے والے پی ٹی آئی کارکنان نے اب ٹرمپ کو اپنا ابا مانتے ہوئے پی ٹی آئی کے جلسوں میں امریکی جھنڈے تک الرانا شروع کر دئیے ہیں جبکہ یوتھیے سرعام یہ دعوے کرتے نظر آتے ہیں کہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منصب سنبھالتے ہی اپنے دوست بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کیلئے کھل کر میدان میں آئینگے تاہم امریکہ میں لمبے عرصے تک بطور سفیر ذمہ داریاں نبھانے والے سابق سفیر حسین حقانی یوتھیوں کے ان دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران خان  کی رہائی ٹرمپ کی ترجیحات میں شامل نہیں۔جو چیز ٹرمپ کی انتخابی مہم میں ترجیح نہیں رہی وہ کیسے صدر بننے کے بعد ترجیح بن جائے گی۔

حسین حقانی کے مطابق ٹرمپ ہر کام میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں یا صدر بننے کے بعد وہ امریکہ کا فائدہ بھی دیکھیں گے تحریک انصاف کو ٹرمپ کو اس بات پر قائل کرنا پڑے گا کہ ٹرمپ کو یا امریکہ کوکیا فائدہ ہوگا کہ وہ عمران خان کی رہائی میں دلچسپی لے، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ عمران خان ہا پی ٹی آئی کو ٹرمپ کو کوئی ڈیل آفر کرنا ہو گی کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو وہ کس طرح امریکی مفادات کا تحفظ کرینگے۔ عمران خان اس حوالے سے کوئی ڈیل آفر کرتے ہیں تو ٹرمپ اس معاملے میں کود سکتے ہیں تاہم اس کے چانسز بہت کم ہیں۔

حسین حقانی کے مطابق ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد تین ملکوں کے سربراہوں سے بات کی ہے ایک مودی، دوسرا سعودی ولی عہد اور تیسرے اسرائیلی وزیراعظم، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ ان میں سے کسی نے عمران خان نے سفارش نہیں کی ہوگی۔

سابق سفیر برائے امریکا حسین حقانی نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی لیڈر شپ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ٹرمپ جب صدر تھے تو کیا انہوں نے کسی بھی ملک میں کسی معروف شخصیت کو قید سے چھڑانے کی کوشش کی ذاتی تعلقات کی بنیاد پر ہوسکتا ہے وہ کسی کو ایک آدھ کال کر دیں یا ٹوئٹ کردیں لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اس وقت امریکہ کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا کون سا ذریعہ موجود ہے کہ وہ پاکستان پر دباو بڑھا کر اپنا مطالبہ منوا سکے۔

سابق پاکستانی سفیر برائے امریکہ حسین حقانی نے مزید کہا کہ عمران خان کے بقول وہ امریکہ کی کسی خارجہ پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے اور نہ ہی بیانات کی حد تک امریکہ کو کوئی فائدہ پہچانا چاہتے ہیں ایسی  صورتحال میں امریکہ ان کو ریلیف پہنچانے کیلئے کیوں آگے آئے گا تاہم اگر عمران خان امریکہ کو کوئی ڈیل آفر کریں کہ آپ مجھے اقتدار میں لائیں تو امریکہ کے لئے یہ یہ کروں گا تو ٹرمپ کو دلچسپی ہوسکتی ہے۔

حسین حقانی کے بقول امریکہ میں انسانی حقوق کے معاملے میں خط لکھ دینا بڑی بات نہیں ہے ہر سال کانگریس مین خطوط لکھتے ہیں یہ تحریک انصاف کیلئے ایسی کوئی فخریہ بات نہیں ہے، حسین حقانی کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی سیاست میں تین چیزوں کا بہت اثر ہوتا ہے، پہلے نمبر پر ووٹوں کا اثر، تاہم امریکہ میں مقیم یوتھیوں کے اتنے ووٹ نہیں ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان کے کسی مطالبے پر ڈھیر ہو جائے اور فوری عمران خان کی رہائی کیلئے میدان میں کود پڑے۔ حسین حقانی کے بقول امریکی سیاست میں ڈونیشنز کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہےلیکن ڈونیشنز کے مقابلے میں اثر ڈالنے کا تناسب دیکھا جاتا ہے جیسا کہ ایلون مسک نے ٹرمپ کی انتخابی مہم پر ڈیڑھ دو سو ملین ڈالر خرچ کیے ہیں ان کا وزن زیادہ ہوگا تاہم اگر ہمارے لوگوں نے دو چار لاکھ ڈالر خرچ کیے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔حسین حقانی کے مطابق پاکستانی عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان میں جس طرح ہوتا ہے کہ وزیراعظم کے بیٹے بہو سے مل لیں تو اپنا کام نکال سکتے ہیں ایسا امریکہ میں ہونا ممکن نہیں ہے جب تک کسی بھی معاملے میں امریکہ کا کوئی اپنا مفاد نہ ہو وہ ایسے معاملات میں نہیں پڑے گا۔

Back to top button