عمران پاکستان مخالف TTP اور امریکہ کے ساتھ کیوں کھڑا ہے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان پچھلی ایک دہائی سے پاکستان میں فوجی جوانوں اور سویلینز کو مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بنا رہی ہے لیکن عمران خان کی ہمدردیاں پہلے بھی ان خونیوں کے ساتھ تھیں اور اب بھی انہی کے ساتھ ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ ہو یا تحریک طالبان، ان کا مشترکہ نشانہ ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ عمران خان نے پاکستان ایئر فورس کی جانب سے افغانستان کے صوبے پکتکا میں تحریک طالبان کے دہشت گرد نیٹ ورک پر ہونے والی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر طالبان کی حمایت کی ہے۔
جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک لاکھوں افغانوں کی میزبانی کی ہے لیکن اس کا صلہ اسے یہ ملا کہ طالبان حکومت کی واپسی کے بعد سے افغان حکومت پاکستان دشمن تحریک طالبان کے دہشتگردی نیٹ ورک کو مدد فراہم کر رہی ہے۔ انکا کہنا یے کہ بھارت نے افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کے دوران نہ صرف ٹی ٹی پی کو ٹریننگ کیمپس بنا کر دیے بلکہ انھیں بارود اور اسلحہ بھی فراہم کیا جو کہ پاکستانی عوام کے خلاف استعمال ہوا اور ہزاروں لوگ شہید ہو گئے۔ بہرحال قصہ مزید مختصر 2021 میں امریکا دوسری بار افغانستان کو بے یار و مددگار چھوڑ کر چلا گیا‘ ایسے وقت میں پاکستان کی خواہش تھی کہ افغانستان میں کولیشن گورنمنٹ بنے لیکن اشرف غنی اچانک فرار ہو گیا اور افغان فوج تتر بتر ہو گئی ج کے نتیجے میں پورے ملک پر طالبان کا قبضہ ہو گیا۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ طالبان ماضی میں پاکستان میں پناہ گزین رہے تھے۔ ان کے بچے‘کاروبار اور جائیدادیں بھی پاکستان میں تھیں، لہٰذا ہمارا خیال تھا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت بننے کے بعد اب ٹی ٹی پی اور اسکے کیمپ ختم ہو جائیں گے‘ طالبان نے بھی ہمیں یہ یقین دہانی کرائی تھی مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔
جاوید چوہدری کے بقول اس کی دو وجوہات ہیں‘ پہلی یہ کہ امریکا پاکستان میں ایک بڑا اور مضبوط میزائل لانچنگ پیڈ بنانا چاہتا ہے جس کے ذریعے یہ چین‘ روس اور ایران کو کنٹرول کر سکے‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ اکتوبر 2022 سے جنوری 2025 تک سینیٹ کام کے کمانڈر ان چیف جنرل مائیکل ای کوریلا کے پاکستان کے دوروں کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں‘ جنرل مائیکل نے پچھلے تین برسوں میں سب سے زیادہ پاکستان کے دورے کیے‘ کیوں؟ کیا یہاں کوئی جنگ چل رہی تھی؟
امریکہ کا دوسرا مقصد پاکستان کے جوہری اثاثوں کو قابو کرنا ہے اور یہ کام افغانستان اور پاکستان کے اندرونی سہولت کاروں کے بغیر ممکن نہیں، چناں چہ افغانستان میں پاکستان کی دوست حکومت کے باوجود ٹی ٹی پی بھی سلامت رہی اور اس کے ٹریننگ کیمپ بھی‘ ٹی ٹی پی کے کیمپس تین صوبوں میں قائم ہیں۔ پکتیا جو خالص حقانی نیٹ ورک کا صوبہ ہے اور خوست اور کنڑ‘ یہ تینوں صوبے پاکستانی سرحد پر واقع ہیں اور ٹی ٹی پی کے دہشت گرد بڑی آسانی سے وہاں سے پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں اور یہ نہ صرف ہوتے رہے بلکہ 2024 میں انھوں نے پاکستان میں خوف ناک تباہی بھی مچادی‘ آپ یہاں ایک اور حقیقت بھی ملاحظہ کیجیے‘ امریکا نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا لیکن اس کے باوجود طالبان کو امریکا کی طرف سے ہر ہفتے 40 ملین ڈالر ملتے ہیں‘ یہ رقم ماہانہ 160 ملین ڈالر بنتی ہے‘ امریکا نے اگست 2021 سے اگست 2023 تک افغانستان کو دو اعشاریہ 6 بلین ڈالر امداد دی جب کہ یہ 2021 سے 2024 تک افغانستان پر 21 بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے‘ یوں امریکا اس وقت بھی افغانستان کا سب سے بڑا ڈونر ہے‘ دوسری طرف بھارت ٹی ٹی پی کی مدد کر رہا ہے لہذا جب عمران خان پاکستان مخالف طالبان کے کی حمایت کرتے ہیں تو یہ سوال ذہن میں ضرور اٹھتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور میں دل سے عمران خان کو محب وطن سمجھتا ہوں لیکن سوال یہ ہے عمران خان 2011 سے پاکستان میں بڑی بڑی ریلیز‘ جلوس اور جلسے کر رہے ہیں‘ ان 13 برسوں میں ٹی ٹی پی نے ملک کی ہر سیاسی جماعت اور قیادت پر حملے کیے‘ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا‘ اس سے قبل کراچی میں کارساز کے علاقے میں بم دھماکوں میں 180ورکرز شہید کر دیے گئے‘ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کو آج بھی تھریٹس ہیں‘ پشتون ٹی ٹی پی نے پشتونوں کی سب سے بڑی اور پرانی جماعت اے این پی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا‘ مولانا فضل الرحمان طالبان کے استاد ہیں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ یہ ان کے مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے رہے لیکن اس کے باوجود ٹی ٹی پی نے انھیں 2024 میں الیکشن کمپیئن نہیں کرنے دی اور ن لیگ بھی آج تک کھل کر کے پی میں الیکشن نہیں لڑ سکی لیکن ٹی ٹی پی نے پی ٹی آئی کے کسی جلسے اور جلوس کو نشانہ بنایا اور نہ دھمکی دی‘ کیوں؟ سوال یہ ہے اگر عمران خان پاکستان اور پاکستانی نیوکلیئر پلانٹ کے محافظ ہیں تو پھر یہ ٹی ٹی پی کے سب سے بڑے ٹارگٹ ہونے چاہیے تھے لیکن یہ کیوں نہیں ہیں؟ میں عمران خان کی ذات پر شک نہیں کر رہا لیکن ہو سکتا ہے یہ نادانستگی میں پاکستان کی مخالف طاقتوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہوں۔
ہم اب آج کے حالات کی طرف آتے ہیں‘ افغانستان میں ٹی ٹی پی پاکستان کے بارڈر پر بیٹھی ہے‘ اس کا صرف ایک ٹارگٹ ہے اور وہ ہے پاک فوج‘ یہ ہر اس مقام کو تباہ اور برباد کرنا چاہتی ہے جہاں پاکستان کا جھنڈا لگا ہے یا یونیفارم نظر آتی ہے‘ 2014 سے لے کر 2024 تک سوشل میڈیا کے ذریعے عوام اور فوج کے درمیان دوریاں بھی پیدا کر دی گئی ہیں‘ عوام بالخصوص پی ٹی آئی کے کارکنوں کے دلوں میں یہ بٹھا دیا گیا ہے پاک فوج ملک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی سب سے بڑی دشمن ہے اور عمران خان کو اس نفرت کا لیڈر بنا دیا گیا۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اس کمپیئن اور کوشش کا صرف ایک مقصد ہے دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت کو ایٹمی اثاثوں سے محروم کرنا اور اگر خدانخواستہ ایک بار یہ ہو گیا تو پھر پاکستان کو بدقسمتی سے عراق‘ لیبیا‘ شام اور یمن بنتے دیر نہیں لگے گی لہٰذا یقین کریں نشانہ صرف پاکستان ہے باقی سب بہانے ہیں‘ کاش عمران خان کو بھی پاکستان دشمنوں کا یہ پلان سمجھ آ جائے۔
