موروثی سیاست کے مخالف عمران بچوں کو سیاست میں کیوں لا رہے ہیں؟

موروثی سیاست تیسری دنیا کے ممالک خصوصا جنوبی ایشائی ممالک میں ایک جانا پہچانا تصور ہے۔ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد سے ہندوستان میں گاندھی خاندان اور پاکستان میں بھٹو اور شریف خاندانوں نے راج کیا یے۔ تاہم جب مشرف دور میں عمران سیاست کے میدان میں اترے تو ان کا سب سے پہلا نعرہ بھٹو اور شریف خاندانوں کی دہائیوں سے چلنے والی موروثی سیاست کا خاتمہ تھا۔ تاہم اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ خود وراثت کی سیاست کو آگے بڑھاتے نظر آتے ہیں۔
عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران یہ تاثر عام تھا کہ ان کی تیسری اہلیہ بشری بی بی حکومتی فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب عمران خان گرفتار ہو گے تو بشری بی بی نے پارٹی کی قیادت سنبھال لی۔ پھر 24 نومبر کو اسلام آباد میں ایک دھرنے سے جوتیاں اٹھا کر فرار ہونے کے بعد وہ بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہو گئیں۔ اب جیل سے اپنے ایک پیغام میں عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف ایک احتجاجی تحریک کی کال دے رہے ہیں جس کی قیادت ان کے بیٹے سلمان خان اور قاسم خان کریں گے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ گاندھی، بھٹو اور شریف خاندان میں تو ماں اور باپ کے بعد بچے سیاست کرتے تھے لیکن چونکہ عمران خان کی اولاد لندن میں تھی اس لیے پہلے بیوی اور بہن کو سیاست میں قسمت آزمانے کا موقع دیا گیا۔ اب جب کہ اہلیہ گرفتار ہیں اور ہمشیرہ عمران کو رہائی دلوانے میں ناکامی کا شکار ہوتی نظر آتی ہیں تو خان صاحب نے اپنے بچوں کو میدان سیاست میں اتارنے کا اعلان کیا ہے۔
لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عمران خان کے اعلان کی روشنی میں ان کے بچے پاکستان واپس آ کر ان کی رہائی کے لیے شروع کی جانے والی مجوزہ تحریک کا حصہ بنیں گے۔ علیمہ خان نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان کے دونوں بیٹے اپنے والد کی رہائی کے لیے پہلے امریکہ جائیں گے اور اس کے بعد پاکستان آ جائیں گے۔ تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اس دوران عمران خان کی پہلی اہلیہ جمائمہ خان نے بھی ایک ویڈیو بیان میں پاکستان میں جمہوری آزادیوں پر عائد ہونے والی قدغنوں پر تنقید کی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید جمائمہ خان بھی اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آئیں۔ لیکن وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا دعوی ہے کہ خان کے بچے پاکستان نہیں آئیں گے۔ انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ اگر انہیں پاکستان آنا ہے تو وہ اپنی بڑی بہن ٹہری کو بھی ساتھ لے کر آئیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی سیاست میں موروثیت کی بحث پرانی ہے۔ بانی پاکستان محمد علی جناح کے بعد ان کی بہن فاطمہ جناح سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئیں اور فوجی آمر ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن میں حصہ لیا۔
پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیا الحق کے مارشل لا میں جیل جانا پڑا تو ان کی اہلیہ نصرت بھٹو اور ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے احتجاجی تحریک کی قیادت کی۔
مسلم لیگ نون میں نواز شریف کے ساتھ شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز جیسی مثالیں موجود ہیں۔ ادھر اے این پی میں خان عبدالغفار خان، جو باچا خان کے نام سے مشہور ہوئے، کے خاندان نے ہی پارٹی کی قیادت کی۔ غفار خان کے بعد ان کے بیٹے ولی خان نے پارٹی سنبھالی، پھر ان کے بیٹے اسفند یار ولی نے پارٹی کی قیادت کی اور اور اب ان کے بیٹے ایمل ولی خان پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔
پاکستان کے ہمسائے انڈیا میں پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے بعد انکی بیٹی اندرا گاندھی وزیر اعظم بنیں جن کے قتل کے بعد ان کے بیٹے راجیو گاندھی بھی کے وزیر اعظم بنے۔ آج کانگریس جماعت کی قیادت ان کے بیٹے راہول گاندھی کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھی ملک کے پہلے وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے بعد انکی بیٹی شیخ حسینہ واجد سیاسی طور پر متحرک ہوئی اور حال ہی میں طویل عصہ برسراقتدار رہنے کے بعد ان کی حکومت کا تختہ ایک بڑی احتجاجی تحریک کے بعد الٹ دیا گیا۔
ایسے میں تحریک انصاف والوں کا کہنا یے کہ اگر عمران خان بھی اپنی بیوی اور ہمشیرہ کے بعد بچوں کو سیاسی میدان میں لا رہے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ تاہم بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عمران کے دونوں بیٹے پاکستانی شہریت نہیں رکھتے بلکہ وہ برطانوی شہری ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کے بچے قانون کی حدود میں رہ کر سیاسی سرگرمیاں کریں تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خان کے بچے یہاں آ کر تحریک چلانا چاہتے ہیں تو شوق سے چلائیں، مگر یہ سب آئینی اور قانونی دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کی رہائی ان کے بچوں یا بہنوں کے زور پر ممکن نہیں، بلکہ یہ ان کی اپنی قانونی پوزیشن پر منحصر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کرپشن کیس میں سزا ملنے کے بعد جیل میں بند ہیں اور ان کے خلاف دیگر کئی مقدمات بھی چل رہے ہیں لہذا انہیں رہائی صرف اور صرف عدالت کے ذریعے ہی مل سکتی ہے جہاں انہوں نے اپنی بے گناہی ثابت کرنی ہے۔
