عمران کی جماعت صرف خیبرپختونخواتک محدود کیوں ہوگئی؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کا غبارہ پنکچر ہو چکا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت سمجھی جانے والی تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے میں یکسر ناکام دکھائی دیتی ہے۔پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکنان عملی طور پر منظرنامے سے غائب ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی تمام احتجاجی و سیاسی سرگرمیاں خیبرپختونخوا تک محدود ہو گئی ہیں، ناقدین کے مطابق جو پی ٹی آئی ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو سندھ اور پنجاب کی پارٹیاں ہونے کے طعنے دیتی تھی، وہ خود عوامی حمایت کھونے کے بعد اب محض خیبرپختونخوا کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔

مبصرین کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کے 2 سال مکمل ہونے پر 5 اگست کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا گیا، تاہم عملی طور پر احتجاج صرف خیبر پختونخوا کے چند علاقوں تک محدود رہا۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں کارکنان کی محدود تعداد سامنے آئی جبکہ مرکزی قیادت بلوں میں چھپی بیٹھی رہی۔ احتجاج کی ناکامی کی وجہ سے پی ٹی آئی کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تاہم ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ پی ٹی آئی نے احتجاج کی کال دی ہو اور عوام سڑکوں پر نہ نکلے ہوں۔ پی ٹی آئی قیادت نے گزشتہ سال 6 مرتبہ اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا تاہم کبھی پی ٹی آئی قیادت کے فیصلے اور کبھی انتظامیہ کی اجازت نہ ملنے پر جلسے منسوخ ہو گئے، جبکہ 8 ستمبر 2024 کو سنگجانی اسلام آباد میں پی ٹی آئی نے جلسہ کیا اور اگلا جلسہ لاہور میں کرنے کا اعلان کیا جو کہ تاحال نہیں ہو سکا۔ ناقدین کے مطابق مجموعی طور پر پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر مؤثر احتجاج منظم کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، البتہ خیبرپختونخوا میں احتجاجی جلسوں کا سلسلہ جاری ہے۔

تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام تحریک انصاف کی کال پر سڑکوں پر نکلنے سے انکاری کیوں ہیں؟ پی ٹی آئی ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے میں ناکام کیوں ہے؟ کیا واقعی پی ٹی آئی صرف خیبر پختونخوا کی جماعت بن کر رہ گئی ہے؟

سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم کے مطابق یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ پی ٹی آئی اب صرف خیبرپختونخوا کی جماعت بن کر رہ گئی ہے تاہم یہ واضح ہے کہ تحریک انصاف کی حالیہ سیاست کا محور صرف اور صرف خیبر پختونخوا ہی ہے۔ ملک کے دیگر صوبوں میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور ووٹرز تو موجود ہیں لیکن تحریک انصاف کی موجودہ قیادت نے ان کو نظر انداز کرتے ہوئے اکیلا چھوڑ دیا ہے، اب سارے کا سارا پاور پلے، احتجاج اور سیاسی حکمت عملی خیبر پختونخوا سے ہی تشکیل پا رہی ہے اسی لئے پی ٹی آئی کی سیاست میں پنجاب یا سندھ کی بجائے صرف اور صرف خیبر پختونخوا ہی نظر آ رہا ہے۔‘

عمران خان کی جیل میں ورزش کرتے ہوئے تصاویر جعلی نکلیں

تاہم سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی کے بقول اداروں کے ساتھ محاذآرائی کی وجہ سے پی ٹی آئی پر کئی سیاسی دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اب سہیل آفریدی اور عمران خان کے ٹوئٹر سے اداروں پر ہونے والے حملوں کے بعد لگتا نہیں کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی بھی جماعت رہ سکتی ہے۔ انصار عباسی کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا میں بھی گرتی ہوئی ساکھ اور عوامی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما عمر ایوب کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انصار عباسی کے مطابق اگر پی ٹی آئی اپنی موجودہ پالیسی کے تحت ہی چلتی رہی اور اداروں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تو مجھے نہیں لگتا کہ تحریک انصاف مستقبل میں ایک سیاسی جماعت کے طور پر بھی قائم رہ سکتی ہے۔

پنجاب سندھ اور بلوچستان میں پی ٹی آئی کی گرتی ہوئی عوامی مقبولیت بارے سینیئر صحافی احمد ولید کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی غیر سیاسی اور غیر سنجیدہ سیاسی پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف پنجاب سے بالکل مائنس ہو چکی ہے تاہم سندھ میں اس کے چند نام لیوا موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ خبیرپختونخوا کے عالوہ ملک بھر میں پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کارکنان کو متحرک کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے پی ٹی آئی صرف خیبرپختونخوا تک محدود ہو گئی ہے۔ احمد ولید کے مطابق عوامی عدم دلچسپی کی وجہ سے پی ٹی آئی نےبھی اب یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ احتجاجی سیاست کو خیبرپختونخوا تک ہی محدود رکھا جائے تاکہ مزید ہزیمت اور شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تاہم ناقدین کے مطابق مسلسل مزاحمتی اور احتجاجی سیاست کی وجہ سے عوام پی ٹی آئی قیادت سے متنفر ہو چکے ہیں اسی لئے تحریک انصاف کی احتجاجی کالز پر سڑکوں پر آنے سے گریزاں ہیں، مبصرین کے مطابق موجودہ ملکی سیاسی حالات میں ’پی ٹی آئی کے پاس 2 ہی راستے ہیں، ملک گیر احتجاج یا مذاکرات، پی ٹی آئی قیادت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عمران خان کی رہائی اور سیاسی انتقامی کارروائیوں کے خاتمے کیلئے صرف ایک صوبے کا احتجاج مؤثر نہیں ہوسکتا، اس کے لیے پورے پاکستان کا متحرک ہونا ضروری ہے۔ عوام کو سڑکوں پر نکالنے کے دعوے کرنا بہت آسان ہے، لیکن جب ایسا کرنے کیلئے میدان میں اترے گی تو اسے لگ پتا جائے گا کیونکہ پی ٹی آئی کی احتجاجی تحاریک کو کامیاب بنانے والی فیضی امداد کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔

 

Back to top button