جیل جانے کے باوجود عمران کی مقبولیت کم کیوں نہیں ہو رہی؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار کیپٹن (ر) ایاز امیر نے کہا ہے کہ آج کی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ملک کی مقبول ترین عوامی لیڈرشپ کے ساتھ جو سلوک کر رہی ہے، اس کا نتیجہ ماضی میں سانحۂ مشرقی پاکستان کی صورت میں سامنے آ چکا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے فیصلہ سازوں نے تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں، عمران خان کے لیے ہمدردانہ جذبات رکھنے والے کیپٹن (ر) ایاز امیر کا کہنا ہے کہ معاملہ کسی عقیدے یا نظریے کا نہیں بلکہ زمینی حقیقت کو غیر جانبداری سے دیکھنے کا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کی قید کی مدت اڑھائی سال سے تجاوز کر چکی ہے اور اس دوران پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانے اور اسکا نام عوامی ذہن سے مٹانے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈا آزمایا گیا، تاہم اس تمام تر کوشش کے باوجود طاقتور فیصلہ سازوں کو اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

 

ایاز امیر کے مطابق اوچھے ہتھکنڈوں کے استعمال سے عوامی سوچ میں جس تبدیلی کی توقع کی جا رہی تھی، وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ عمران خان پر الزامات اور تہمتوں کا بھی کوئی خاص اثر دکھائی نہیں دیتا اور آج بھی عوامی رائے فروری 2024ء کے انتخابات کے گرد ہی گھومتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال کسی کرشمے سے کم نہیں اور پاکستان کی تاریخ میں شاید اس کی دوسری مثال مشکل سے ملے۔

 

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک زمانے میں شیخ مجیب الرحمان مشرقی پاکستان کا مقبول ترین عوامی لیڈر تھا لیکن 1970 کے الیکشن میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اسکا مینڈیٹ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جسکا نتیجہ سانحہ مشرقی پاکستان کی صورت میں برآمد ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے مقبول ترین عوامی لیڈر تھے، مگر جنرل ضیاء الحق نے ان کا تختہ الٹنے کے بعد بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔ اسکے بعد پیپلز پارٹی کے گڑھ پنجاب سے پارٹی کے اثر کو بتدریج کم کیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پرورش پانے والی سیاسی قوتوں کو اقتدار میں لایا گیا، مگر ایاز امیر کے مطابق آج کے حالات مختلف ہیں اور شاید موجودہ سیاق و سباق میں بھٹو کی داستان کو دہرانا ممکن بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار کے ایوانوں میں اصل مسئلہ یہ درپیش ہے کہ جس سیاسی چراغ کو بجھانے کی کوشش کی گئی، وہ بجھنے کے بجائے مزید روشن ہو گیا ہے۔

 

ایاز امیر کے بقول آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی سیاست عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے۔ اقتدار کے مراکز سے آنے والی سخت زبان، سیاسی گفتگو، ٹاک شوز، سوشل میڈیا اور یہاں تک کہ بیرون ملک بیٹھے یوٹیوبرز کی سرگرمیاں بھی عمران کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ریاست کی جانب سے گرفتاریوں اور مقدمات کی فہرست طوہل ہو جانے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پائے۔ اصل فیصلہ سازوں کی جانب سے سمجھا جا رہا تھا کہ عمران کی جماعت اگر باقی رہی تو محض برائے نام رہ جائے گی اور طویل قید کے باعث عوامی ذہنوں میں موجود سوچ مدہم ہو جائے گی۔ تاہم زمینی حقائق اس تصور کے برعکس ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم جیسے کمزور دل تجزیہ کار بھی مایوسی کا شکار ہو گئے تھے اور 2030ء یا 2035ء جیسے اعداد و شمار ذہنوں پر نقش ہو گئے تھے، مگر حیران کن طور پر عوامی سطح پر زوال کی گھڑیاں اتنی بھاری ثابت نہیں ہوئیں جتنی سمجھی جا رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے لیے عوامی ہمدردی اور سوچ میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آنے کے باعث بہت سوں کے حوصلے دوبارہ بحال ہو رہے ہیں۔

 

ایاز امیر نے کہا کہ ایک طرف قانون سازی کی ایسی بھرمار دیکھنے میں آ رہی ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ آئین میں ترامیم کا ایسا بوجھ ڈالا جا رہا ہے کہ آئین خود اس وزن کو سنبھالنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف عوام کی اکثریت ان قانون سازی کے مظاہروں سے بے نیاز نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق عوام کی نظریں بدستور اسی سمت جمی ہوئی ہیں جہاں انہیں امید کی کرن دکھائی دیتی ہے۔ انکے مطابق اقتدار کے ایوان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ریاستی سختیوں اور پابندیوں میں اضافے سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کے بجائے ایک قیدی سیاسی رہنما کا کردار مزید افسانوی بنتا جا رہا ہے۔ عمران کی جیل ملاقاتوں پر پابندی اور انکی کردار کشی کی ریاستی مہم نے ان کے کردار کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

 

ایاز امیر نے کہا کہ اس صورت حال سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود نہ تو نکمی ہے اور نہ ہی مکمل طور پر بے حس۔ ہماری قوم بہت کچھ برداشت کر لیتی ہے، مگر ایک مرحلے پر صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور گنگ زبانیں بولنا شروع کر دیتی ہیں۔ ماضی کے تجربات یاد دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل کو شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ فیصل مسجد میں کس آمر مطلق کو دفن کیا گیا تھا، لیکن آزادی اور آزادیٔ اظہار کا تصور پاکستانی معاشرے سے کبھی ختم نہیں ہوا۔ ایاز کا کہنا تھا کہ پاکستان میں شام یا مصر جیسا نظام دیرپا طور پر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ دیر یا بدیر عوامی احساسات کے اظہار کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا پڑتا ہے، جیسا کہ ضیاء الحق کو آٹھ سالہ سخت اقتدار کے بعد الیکشن کرانا پڑے۔ ان کے مطابق فارم 47 جیسے کرشمات بار بار نہیں دہرائے جا سکتے، اور کبھی نہ کبھی پاکستان کو حقیقی انتخابات کی طرف جانا ہی پڑے گا۔

ریاست مشرقی پاکستان کے سانحے کی غلطی کیوں تسلیم نہیں کرتی؟

انہوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے نازک حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اندرونی محاذ آرائی سے گریز کیا جائے۔ گورنر راج جیسے مجوزہ اقدامات سے ہچکچاہٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ فیصلہ ساز خود بھی زمینی خطرات سے آگاہ ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں تصادم دانش مندی نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ رویوں میں نرمی اور زبان میں شائستگی پیدا کی جائے تاکہ ایک اور سانحہ مشرقی پاکستان سے بچا جا سکے۔

Back to top button