عمران کی PTI کوئی کمال دکھانے میں کامیاب کیوں نہیں ہو رہی؟

معروف اینکر پرسن اور صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا کمال یہ ہے کہ سیاست میں فی الحال یہ کوئی کمال دکھانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے بڑے بڑے دعوے سن کہ مجھے یہ شعر یاد آتا ہے کہ ’’یہ دل عجیب ہے اکثر کمال کرتا ہے، جواب جن کا نہیں وہی سوال کرتا ہے‘‘۔

حامد میر روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان دو سال سے جیل میں ہیں۔ انہوں نے جس ثابت قدمی سے جیل کاٹی اُس پر تو مخالفین بھی انہیں داد دینے پر مجبور ہو گئے لیکن تمام تر مقبولیت کے باوجود پی ٹی آئی اپنے کپتان کی رہائی کیلئے کوئی تحریک چلانے میں ناکام رہی ہے۔ کچھ دن پہلے تحریک انصاف نے عمران کی رہائی کیلئے ایک اور تحریک چلانے کا اعلان کیا اور کہا کہ اسکا کلائمکس 5 اگست کو ہو گا جب ان کے بیٹے پاکستان آ کر احتجاج کی قیادت کریں گے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ میں 5 اگست کا سُن کر حیران بھی ہوا اور پریشان بھی۔ وجہ یہ ہے کہ 5 اگست 2019 کوعمران خان وزیر اعظم تھے جب بھارتی وزیر اعظم مودی نے مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو معطل کر دیا تھا۔ بھارتی آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کے معطل ہونے پر عمران نے ہر جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے باہر احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔ وہ گلا پھاڑ کر نریندر مودی کو ہٹلر قرار دیا کرتے تھے۔ لیکن پھر یہ احتجاج ٹھنڈا ہو گیا اور فروری 2021 میں عمران حکومت نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کے ساتھ سیز فائر کا اعلان کر دیا ۔

حامد میر کہتے ہیں کہ جب تحریک انصاف کے رہنماؤں نے 5 اگست کو اپنے جلسے جلوسوں کے کلائمکس کا اعلان کیا تو مجھے خدشہ پیدا ہوا کہ یہ بھی کہیں ویسا ہی احتجاج نہ ہو جیسا عمران نے بطور وزیراعظم مودی سرکار کے خلاف 2919 میں کیا تھا اور جس کا کلائمکس بھارت کے ساتھ سیز فائر کرنا تھا۔ بہر حال عمران خان جیل کے اندر سے بیٹھ کر اپنی جماعت کو ہلانے جلانے کی بھرپور کوشش کر رہےہیں ۔ اس مرتبہ انہوں نے تحریک چلانے کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی کو سونپ دی ہے جو تحریک تحفظ آئین کے پلیٹ فارم پر کئی دیگر جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ یہ وہی محمود اچکزئی ہیں جن کا ماضی میں عمران خان بطور وزیراعظم اپنی تقاریر میں چادر اوڑھنے پر مذاق اڑایا کرتے تھے۔

کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ حکومت مخالف تحریک چلانے کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی کو سونپ کر عمران خان نے اپنی ہی جماعت پر اظہار عدم اعتماد کیا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کچھ عرصہ سے شدید اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور تمام مرکزی رہنما ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ دراصل تحریک انصاف نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔ اس مرتبہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی بجائے خیبر پختونخواہ میں ہی احتجاج کیا جائے گا جہاں عوامی غم و غصہ اور بے چینی عروج پر نظر آ رہی ہے۔ خیبر پختونخوا جن حالات سے گزر رہا ہے وہ آپکو پاکستان کے قومی میڈیا پر نظر نہیں آئیں گے۔ یہ نظر انداز نہ کیجئے کہ جیسے ہی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ 5 اگست کو وہ اپنی تحریک کا کلائمکس دکھائےگی تو اچانک عدالتوں نے اسکے اراکین پارلیمنٹ کو سزائیں سنانا شروع کر دیں۔

یاران نکتہ داں پوچھتے ہیں کہ اگر تحریک انصاف میں واقعی کوئی دم نہیں رہا تو یہ اچانک سزاؤں اور نا اہلیوں کا سیلاب کیوں آگیا ہے؟ ایک توجہیہ یہ پیش کی جا رہی ہے کہ سپریم کورٹ نے سانحہ 9 مئی کے ملزمان کو سزائیں سنانے کے لیے چھوٹی عدالتوں کو 8 اگست تک کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔ لیکن کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی تو یہ جانتا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو آپس میں لڑا کر اور بہلا پھسلا کر قابو کیا جا سکتا ہے، لیکن عوام میں بے چینی کی لہر کسی بھی وقت کوئی خطرہ بن سکتی ہے، لہٰذا ان سب لوگعں کو خوفزدہ کر دو، جو بوقت ضرورت عوام کو گھروں سے نکالنے کی وجہ بن سکتے ہیں۔

حامد میر کہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجہ کے عہدے کی معیاد جنوری 2025 میں ختم ہو چکی۔ انہیں 2020 میں عمران کی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر فائز کیا تھا۔ 31 جولائی 2022 کو عمران کے حکم پر پنجاب اسمبلی میں سکندر سلطان راجہ کے خلاف ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں انہیں چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹانےکا مطالبہ کیا گیا، یہ قرارداد ہی اُنکی طاقت بن گئی کیونکہ بہت سے طاقتور لوگ جانتے تھے کہ اگر عمران کو اقتدار میں واپس آنے سے نہ روکا گیا تو پھر وہ طاقتور اپنے عہدوں پر نہیں رہیں گے۔ یہ تحریک انصاف کا کمال تھا کہ سکندر راجہ کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر لا کر بٹھایا بھی اور پھر نکالنے کیلئے زور بھی لگایا۔

حامد میر کے بقول چیف الیکشن کمشنر نے فروری 2024 کے الیکشن میں اگلے پچھلے تمام حساب برابر کر دئیے۔ اب اُن کے عہدے کی معیاد پوری ہو چکی ہے ،الیکشن کمیشن کے کچھ دیگر ارکان کے عہدوں کی معیاد بھی پوری ہو چکی ہے لیکن یہ سب حضرات بڑی آن شان کے ساتھ اپنی اپنی کرسی پر براجمان ہیں۔ آئین کے مطابق نئے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کو باہمی مشورے سے کرنا ہے لیکن اپوزیشن لیڈرعمر ایوب خان کا دعویٰ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کسی بھی عدالت سے ان کے خلاف سزا کا انتظار کر رہے ہیں، اُن پر 160 مقدمات چل رہے ہیں جیسے ہی انہیں سزا کا اعلان ہوگا تو الیکشن کمیشن عمران دور حکومت کی طرح پلک جھپکتے میں انہیں نااہل کر دے گا۔ الیکشن کمیشن کے کچھ ایسے ہی ارادے علی امین گنڈا پور کے بارے میں ہیں، لیکن گنڈا پور کیلئے سزا اور نا اہلی کسی تمغے سے کم نہ ہو گی کیونکہ جنید اکبر انہیں کافی متنازعہ بنا چکے ہیں۔

حامد  میر کہتے ہیں کہ آج کل بیرسٹر گوہر خان کی جیب میں اپنے ارکان پارلیمنٹ کی ایک لسٹ موجود رہتی ہے جن کے بارے میں انہیں خدشہ ہے کہ یہ سب نا اہل ہو جائیں گے، اس لسٹ میں شامل لوگوں کے خلاف 9 مئی 2023 کو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں کے کیسز چل رہے ہیں۔ پچھلے دنوں بیرسٹر گوہر نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ایک خفیہ ملاقات کی اور درخواست کی کہ ان کی جماعت کے لوگوں کو انصاف دیا جائے۔ لیکن چیف جسٹس نے گوہر خان کو کسی یقین دہانی کے بغیر واپس بھیج دیا، ظاہر ہے مقدمات کے فیصلے چیمبر میں نہیں بلکہ عدالتوں میں ہوتے ہیں۔ پاکستان میں پہلا مارشل نافذ کرنے والے آئین شکن فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کے بڑے بیٹے گوہر ایوب خان کے صاحبزادے عمر ایوب خان نے بھی نا اہلی سے بچنے کی کوشش میں ملاقات کے لیے چیف جسٹس کو ایک خط لکھا ہے، لیکن لگتا ہے کہ وہ بھی سزا کے بعد نااہل ہو جائیں گے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اب بھی کسی بڑے عہدے کے متمنی ہیں۔ 1970 کے الیکشن کے ووت ایک بنگالی جج جسٹس عبد الستار الیکشن کمیشن کے سربراہ تھے۔ الیکشن عوامی لیگ جیت گئی۔ کچھ عرصہ بعد جب بنگلہ دیش بن گیا تو عبدالستار نئے ملک کے نائب صدر اور پھر صدر بن گئے تھے۔ سلطان سکندر راجہ بھی کسی بڑے عہدے کا خواب دیکھ رہے ہیں جس کے بغیر جینا اب ان کے لیے محال لگتا ہے۔ تحریک انصاف والوں کیلئے سزاؤں اور نا اہلیوں کا سیلاب بتا رہا ہے کہ سب اچھا نہیں، جب بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو کسی خوف کے سائے لہراتے نظر آئیں تو پھر دُعا کرنی چا ہئےکہ اے اللّٰہ ہمیں دنیاوی طاقتوں کے خوف سے نجات دلا۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن خوف کی حکومت دیرپا نہیں ہوتی۔

Back to top button