عمران کی سیاست اور اقتدار میں واپسی ممکن کیوں نہیں؟

معروف کالم نگار اور تجزیہ کار عطاءالحق قاسمی نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں جنرل عاصم منیر کے چیف آف ڈیفنس فورسز بن جانے کے بعد عمران خان کی سیاست کے میدان یا اقتدار میں واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی، چاہے ان کے سپورٹرز یہ راگ الاپتے رہیں کہ: ’’خان آئے گا تے چھائے گا!‘‘
روزنامہ جنگ کیلئے اپنی تحریر میں عطا الحق قاسمی کہتے ہیں کہ حالیہ ہفتوں میں پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کے بعد عمران کا سیاسی مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سٹریٹ پاور ختم ہو کر رہ گئی ہے اور اب لوگ انکے لیے سڑکوں پر نکلنے کو تیار نہیں۔ قاسمی کے مطابق، سیاست بھی کرکٹ کی طرح ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کرکٹ میں ایمپائر غیر جانبدار ہوتا ہے جبکہ سیاست میں ایمپائر ہمیشہ یادداشت کی کمی کا شکار ہوتا ہے۔ کبھی وہ کہتا ہے کہ اوہ! میں نے تو نو بال دی ہی نہیں، اور کبھی کہتا ہے بھائی، میں نے تو آپ کو آؤٹ دیا ہی نہیں تھا، آپ خود ہی پویلین کی طرف بھاگ گئے تھے۔
قاسمی نے عمران خان کی صورت حال کو ایک ایسی مکھی سے تشبیہ دی ہے جو گلاس کے اندر گھومتی ہے، پھر باہر نکلتی ہے اور اس کے بعد واپس گلاس کے اندر گھس جاتی ہے۔ اس طرح کی صورت حال عمران خان کی بھی ہے، عوام کنفیوزڈ ہیں کہ اڈیالہ جیل میں بند خان صاحب کی واپسی کا راستہ کیا ہوگا، وہ سیاست میں دوبارہ فعال ہوپائیں گے یا نہیں۔ انکے چاہنے والے امید کے ساتھ ان کے جیل سے باہر آنے کا انتظار کر رہے ہیں، جبکہ ان کے مخالفین ہر لمحے ان کے سیاسی خاتمے کا انتظار کر رہے ہیں۔
عطاالحق قاسمی ایک مزاحیہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران خان کے چاہنے والوں کی کیفیت بالکل ویسی ہے جیسے شادی کے بعد شوہروں کی ہوتی ہے جو ہر مصیبت کے بعد کہتے ہیں، نہیں نہیں…کوئی بات نہیں، سب بہتر ہو جائے گا… بس تھوڑا صبر، تھوڑا یقین۔ دوسری جانب خان صاحب کے سیاسی اور عسکری مخالفین ایسے ہیں جیسے پلاؤ کی دیگ پر بیٹھا باورچی، جو ہر پانچ منٹ بعد ڈھکن اٹھا کر دیکھتا ہے کہ کہیں کچھ جل تو نہیں رہا۔
قاسمی صاحب کہتے ہیں کہ پاکستانی عوام کی بے چینی بالکل ویسی ہی ہے جیسے دلہن کی رخصتی کے بعد ساس سے پوچھا جاتا ہے کہ اسکی بہو کب ہنستی ہے، یا جیسے دودھ والے کے وعدے کا انتظار کرنا کہ اس بار وہ پانی کم ڈالے گا۔ لوگ ہر چھوٹی بات کا تجزیہ کرتے ہوئے خان صاحب کی سیاست میں واپسی کے امکان کو جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چاہے وہ جیل سے دو سیکنڈ کی ویڈیو ہی کیوں نہ ہو۔ انکے چاہنے والے فوراً اس کے معنی نکالنے میں جت جاتے ہیں، جبکہ خان کے مخالفین بھی اسی دو سیکنڈ میں سازش کا پہلو تلاش کر لیتے ہیں۔
عمران کے خلاف غداری کیس: تاریخ خود کو کیسے دہرائے گی؟
عطاالحق قاسمی کے مطابق، عمران خان کی سیاست اب غیر متوقع، دلچسپ، حیران کن اور مذاق سے بھرپور ہو چکی ہے۔ عمران کا عوامی بیانیہ اب بھی زندہ ہے، لیکن قانونی اور آئینی ترامیم نے ان کے لیے سیاسی میدان میں دوبارہ واپسی کو بظاہر ناممکن بنا دیا ہے۔ جنرل عاصم منیر کے چیف آف ڈیفنس فورسز بننے کے بعد طاقت کا توازن بدل چکا ہے اور عمران خان کی سیاسی حکمت عملی ناکامیوں کا مزار بن کر رہ گئی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان کی سیاست اب فرد سے زیادہ فلسفہ بن چکی ہے، اور موجودہ حالات میں ان کی سیاست میں واپسی یا اپنا سیاسی مقام بحال کرنا نہایت مشکل دکھائی دیتا ہے، چاہے عوام ہر حال میں یہی کہتے رہیں: ’’خان آئے گا تے چھا جائے گا!‘‘
