بھارت دوبارہ پاکستان کے ساتھ پنگے بازی کیوں کر رہا ہے؟

 

 

 

مئی کی چار روزہ محدود جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں واضح شکست کھانے کے بعد بھارتی سائیڈ نے پھر سے پنگے بازی شروع کر دی ہے جس کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی سائڈ نے بھی واشگاف اعلان کیا ہے کہ اگر بھارت کی تسلی نہیں ہوئی تو دوبارہ حملہ کر کے دیکھ لے تاکہ پاکستان رہی سہی کسر بھی پوری کر لے۔

 

پاکستانی فوجی ترجمان نے انڈیا کے وزیر دفاع، آرمی چیف اور ایئر چیف کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بلاجواز جارحیت کے لیے من گھڑت بہانے تراشنے کی کوشش کر رہی ہے جس کا نتیجہ تباہی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اگلے روز گجرات میں ایک فوجی اڈے پر تقریب میں شرکت کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان سر کریک کے قریب ایک فوجی انفراسٹرکچر تعمیر کر رہا ہے اور یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

 

جواب میں پاکستانی فوجی ترجمان نے کہا کہ مئی میں ہونے والی انڈین جارحیت نے دونوں ایٹمی طاقتوں کو جنگی تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا لیکن شاید انڈیا اپنے تباہ شدہ لڑاکا طیاروں کے ملبے بھول چکا ہے۔

فوجی ترجمان نے متنبہ کیا ہے کہ انڈین سائڈ کے اشتعال انگیز بیانات مستقبل میں بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتے ہیں، ایسے میں پاکستان پیچھے نہیں رہے گا اور ہم بلا جھجھک اور بھرپور جواب دیں گے۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج میں یہ صلاحیت اور عزم موجود ہے کہ لڑائی کو دشمن علاقے کے ہر کونے تک پھیلا دیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ جہاں تک پاکستان کو نقشے سے مٹانے کی بات ہے تو انڈیا کو واضح طور پر معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ایسے حالات پیش آئے تو نتیجہ مئی کی جنگ سے مختلف نہیں نکلے گا۔

 

یاد رہے بھارتی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا تھا کہ سر کریک سیکٹر میں پاکستان کی جانب سے فوجی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور کسی بھی طرح کی مہم جوئی بھارت کو فیصلہ کن ردعمل پر مجبور کر دے گی۔ انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان سر کریک میں کسی قسم کی مہم جوئی کرتا ہے تو بھارتی جواب اتنا شدید ہوگا کہ یہ تاریخ اور جغرافیہ دونوں کو بدل دے گا۔ انہوں نے کہا پاکستان کو یاد رکھنا چاہیے کہ 1965 میں انڈین فوج لاہور تک پہنچ گئی تھی اور کراچی جانے والی سڑک بھی سر کریک سے گزر کر جاتی ہے۔

 

بھارتی وزیر دفاع کی دھمکیوں کے اگلے روز انڈین آرمی چیف جنرل اپیندر نے راجستھان میں فوجی دستوں سے خطاب کے دوران پاکستان کو دھمکی دی کہ ریاست پار دہستگردی جاری رہی تو پاکستان کو ‘دنیا میں نقشے میں اپنی جگہ پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔‘ انھوں نے کہا کہ اگر آئندہ کوئی تنازع ہوا تو انڈیا وہ صبر نہیں دکھائے گا جو آپریشن سندور کے دوران دکھایا گیا تھا۔ اس روز انڈین ایئر فورس چیف ایئر مارشل امر پریت سنگھ نے یہ مضحکہ خیز دعوی کر دیا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کے پانچ لڑاکا طیارے تباہ ہوئے تھے جن میں زیادہ تر ایف-16 تھے۔ تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پوری دنیا جانتی ہے مئی کی جنگ میں چھ طیارے بھارتی فضائیہ کے گرے تھے جن میں تین فرانسیسی رافیل جہاز بھی شامل تھے۔

 

یاد رہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں سے بعض سرحدی علاقوں پر تنازعات موجود ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ زیر بحث علاقے کشمیر اور لداخ ہیں مگر ایک اور خطہ جس کی تقسیم کئی دہائیوں سے بحث کا موضوع رہی ہے، وہ سر کریک سیکٹر ہے۔ یہ پاکستان کے صوبہ سندھ اور انڈیا کی ریاست گجرات کے درمیان واقع 96 کلومیٹر طویل دلدلی زمین ہے جس پر دونوں ممالک کے اپنے اپنے دعوے ہیں۔ کریک کا مطلب سمندر میں موجود ایک تنگ خلیج ہے۔ سر کریک انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک تنگ اور دلدلی خلیج ہے جو بحیرہ عرب سے جڑی ہوئی ہے۔

 

سادہ الفاظ میں سر کریک کا تنازع یہ ہے کہ دونوں ملک اس سمندری سرحد کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ سرحد کی لکیر خلیج کے وسط میں سے کھینچی جائے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحد اس کے ساحل سے کھینچی جائے کیونکہ برطانوی حکومت نے 1914 میں اسے غیر بحری علاقہ قرار دیا تھا جہاں بحری جہاز نہیں چل سکتے۔ ادھر انڈیا کا موقف ہے کہ اب یہ صرف دلدلی زمین نہیں رہی اور یہاں سے بحری جہاز بھی گزر سکتے ہیں اس لیے ساحل سے سرحد کی حد بندی کوئی معنی نہیں رکھتی۔

اگر سرحد کی لکیر درمیان سے کھینچی جائے تو انڈیا کو سمندر کا بڑا حصہ مل جائے گا جبکہ لکیر کو کنارے سے کھینچا جائے تو پاکستان کو فائدہ ہوگا۔

پاکستان نے امریکہ کو نایاب معدنیات کی پہلی کھیپ بھجوا دی

شاید اسی لیے پاکستان سر کریک کے علاقے میں فوجی انفراسٹرکچر تعمیر کر رہا ہے۔ اس حوالے سے بھارت کو خطرہ یہ ہے کہ سرحد کریک سرحدی علاقہ ہے جہاں سے دراندازی کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔

Back to top button