مودی سرکار ٹرمپ کے امن بورڈ میں شمولیت سے انکاری کیوں؟

تنازعِ کشمیر کے عالمی سطح پر اٹھائے جانے کے خدشے نے بھارت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کے معاملے پر تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے۔ نئی دہلی کو اندیشہ ہے کہ آج اگر غزہ اس فورم کا مرکز ہے تو کل صدر ٹرمپ کشمیر جیسے حساس مسئلے کو بھی اسی پلیٹ فارم کے ذریعے بین الاقوامی ثالثی کے لیے پیش کر سکتے ہیں،جسے بھارت اب تک سختی سے دوطرفہ معاملہ قرار دیتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت تاحال امریکی صدر کی دعوت قبول کرنے یا مسترد کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان سمیت کئی ممالک کی امن بورڈ میں شمولیت کے بعد مودی حکومت ایک ایسے فیصلے کے بیچ پھنس چکی ہے جس کے ہر راستے میں سیاسی اور سفارتی خطرات موجود ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں غزہ میں جنگ بندی، تعمیرِ نو اور عبوری انتظامیہ کی نگرانی کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس فورم میں شمولیت کے لیے بھارت سمیت درجنوں ممالک کو دعوت دی گئی تھی۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اُن عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔ تاہم 22 جنوری کو جب ٹرمپ نے اس فورم کا باضابطہ آغاز کیا تو بھارت اُن ممالک میں شامل تھا جو اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اُن ممالک میں شامل تھے جنہوں نے امریکی صدر کی دعوت قبول کر لی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق مجموعی طور پر 59 ممالک نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے دستخط کیے ہیں، تاہم سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب میں صرف 19 ممالک کے نمائندے موجود تھے۔
ماہرین کے مطابق بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت نے بھارت کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بھارت کو خوف ہے کہ اگر یہ فورم مستقبل میں دیگر تنازعات تک پھیلایا گیا تو کشمیر کو بھی اس کے دائرۂ کار میں لایا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ ماضی میں متعدد بار مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں، جسے بھارت نے ہر بار مسترد کیا، تاہم ایک ایسے فورم میں شمولیت جس میں پاکستان بھی شامل ہو، نئی دہلی کے لیے سفارتی طور پر ایک مشکل صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔بھارتی سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ ایک بار بورڈ آف پیس کا حصہ بننے کے بعد بھارت کے لیے اس کے ایجنڈے یا فیصلوں سے الگ رہنا آسان نہیں ہوگا، خاص طور پر اگر اس فورم کو اقوامِ متحدہ کے متبادل یا متوازی ادارے کے طور پر پیش کیا گیا۔
بھارت کے سابق سفارتکار سید اکبر الدین سمیت کئی ماہرین اس بورڈ کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق غزہ کے لیے عبوری انتظامیہ کی نگرانی سے متعلق ایک فریم ورک پہلے ہی اقوامِ متحدہ کے تحت موجود ہے، جبکہ ٹرمپ کا بورڈ ایک ایسا ادارہ بنتا جا رہا ہے جس کی کوئی واضح مدت، جواب دہی یا اجتماعی فیصلہ سازی کا نظام دکھائی نہیں دیتا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس میں غیر معمولی اختیارات امریکی صدر کے پاس مرکوز ہیں، جو اسے ایک عالمی ادارے کے بجائے ذاتی اثر و رسوخ پر مبنی فورم بنا سکتے ہیں۔ یہی پہلو بھارت جیسے ملک کے لیے تشویش کا باعث ہے، جو عالمی سیاست میں کثیرالجہتی نظام اور سٹریٹجک خودمختاری کا حامی رہا ہے۔
سابق بھارتی سفارتکاروں کے مطابق بھارت کے لیے صدر ٹرمپ کے امن بورڈ میں شمولیت یا صدر ٹرم کی دعوت کو مسترد کرنے بارے فیصلہ کرنا آسان نہیں کیونکہ اگر انڈیا بورڈ میں شامل ہوتا ہے تو کشمیر کے مسئلے کے عالمی فورم پر آنے کا خطرہ موجود ہے، اور اگر وہ شامل نہیں ہوتا تو بھارت کے امریکہ اور مغربی ایشیائی مالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر فیصلہ سیاسی اور سفارتی خطرات سے خالی نہیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک کی شمولیت نے اس دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے اور بھارت کے لیے ہر گزرتا دن خطرات کو مزید بڑھاتا دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان ورلڈ کپ نہ کھیلا تو ICC کا جنازہ کیوں اٹھ جائے گا؟
انڈین مبصرین کے مطابق بھارت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کے ڈھانچے، اختیارات اور مدت سے متعلق واضح قواعد کی عدم موجودگی، ٹرمپ کی بطور چیئرمین غیر معمولی طاقت، اور اس فورم کے اقوامِ متحدہ کے متوازی یا متبادل ادارے کے طور پر ابھرنے کے امکانات بارے بھی شدید تحفظات ہیں جبکہ امن بورڈ میں پاکستان سمیت متعدد ممالک کی شمولیت نے بھارت کی تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ ایک بار بورڈ کا حصہ بننے کے بعد نئی دہلی کے لیے اس کے ایجنڈے یا ممکنہ فیصلوں سے خود کو الگ رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، ماہرین کے بقول مجموعی طور پر امریکی صدر ٹرمپ کا تشکیل کردہ ’بورڈ آف پیس‘ صرف غزہ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے عالمی سیاست میں نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ بھارت کے لیے اصل مسئلہ غزہ نہیں بلکہ کشمیر ہے۔ایک ایسا تنازع جسے وہ ہر صورت عالمی ثالثی سے دور رکھنا چاہتا ہے۔یہی خدشہ بھارت کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت یا امریکی دعوت کو مسترد کرنے کے حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے سے باز رکھے ہوئے ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت یا انکار—دونوں صورتوں میں بھارت کو سیاسی اور سفارتی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
