انڈیا 80 فیصد پاکستانیوں کی ویزا درخواستیں کیوں رد کر رہا ہے؟

حکومت پاکستان کی جانب سے بھارتی شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرا کا عمل مزید آسان بنانے اور زیادہ سے زیادہ ویزے جاری کرنے کے باوجود پاکستانی شہریوں کے لیے بھارتی ویزے کا اجرا اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے چونکہ 80 فیصد پاکستانیوں کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی جاتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پاکستانی وہاں مقدس مقامات پر جانے کے لیے بھارت کا ویزہ مانگتے ہیں، تاہم ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی بنیادی وجہ مودی سرکار کی پاکستان مخالف پالیسی بتائی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات ایک لمبے عرصے سے خراب ہیں، اور اس سے خطے کی امن پر اثرات اپنی جگہ لیکن ہزاروں سال سے ایک جیسی ثقافت رکھنے والے دونوں اطراف کے شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 1974 میں ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ ایک دوسرے کے شہریوں کو مذہبی سیاحت کے حوالے سے ویزے لازمی جاری کیے جائیں گے۔ پاکستان اس معاہدے پر بھرپور طریقے سے عمل درامد کر رہا ہے لیکن بھارت کی جانب سے معاملہ بالکل الٹ ہے۔ حال ہی میں انڈیا نے مذہبی بنیادوں پر ویزا مانگنے والے 400 پاکستانیوں میں سے صرف 100 کو ویزے جاری کیے۔ اس کے برعکس پاکستان کی وزارت مذہبی امور کے مطابق 95 فیصد انڈین شہریوں کو ویزے جاری کر دیے جاتے ہیں جن میں سے زیادہ تر مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔
پچھلے کچھ برسوں سے پاکستان تو مذہبی بنیادوں پر انڈینز کو دھڑا دھڑ ویزے جاری کر رہا ہے تاہم بھارت کی جانب سے اس جذبہ خیر سگالی کا جواب منفی انداز میں دیا جا رہا ہے۔ دیپ سعیدہ ایک پاکستانی ایکٹیوسٹ ہیں اور سینٹر فار پیس اینڈ سیکولر سٹڈیز کے نام سے ایک ادارہ بھی چلا رہی ہیں۔ انہوں نے حال بھارت جانے کے لیے ویزہ درخواست دی تھی جسے مسترد کر دیا گیا۔ اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے 16 دسمبر کو دہلی میں ایک بین الاقوامی ادارے سے ایوارڈ ملنا تھا۔ اس ادارے سے ساؤتھ ایشیا سے مجھے انسانی حقوق کے لیے انتھک کام کرنے کی وجہ سے نامزد کیا اور دوسری نامزدگی بنگلہ دیش سے تھی۔ لیکن انڈیا کی جانب سے ہم دونوں کو ہی ویزے جاری نہیں کیے گئے۔
دیپ سعیدہ نے کہا کہ ’یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے کہ امن کی بات کرنے کی وجہ سے ہمیں پاکستان میں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف مودی سرکار کے دور میں میرا تین دفعہ ویزہ ریجکٹ ہو چکا ہے۔ میں تو وہ ہوں جس کے پاس انڈیا میں ٹرپل انٹری ویزہ بھی رہا ہے۔ اور ہم نے دونوں ملکوں کے عوام کو اکٹھا کرنے کے لیے بڑے کام کیے ہیں۔‘ دیپ کا کہنا تھا کہ پاکستان تو پھر بھی سکھ اور ہندو کمیونٹی کو ویزے جاری کر رہا ہے، انڈیا نے حد ہی کر دی ہے۔ دس سال ہو گئے ہیں اس طرح کرتے ہوئے اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
ایسی ہی ایک اور مثال گوجرانوالہ کی 19 سالہ آمنہ رانی کی ہے جو کہ بچپن سے ہی عارضہ قلب مبتلا ہیں، ڈاکٹروں نے اسکے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ اسکا علاج انڈیا میں ہو سکتا ہے۔ لیکن بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود پچھلے ایک سال سے ویزہ درخواست پر فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم بار بار انڈین ہائی کمیشن میں درخواستیں دے رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ باقی لوگوں کا تو ویزہ ریجکٹ کر دیتے ہیں لیکن بیماروں کا تو نہ مسترد کرتے ہیں اور نہ ہی ویزہ لگاتے ہیں۔ بس درخواست رکھ کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ میری طرح اور بھی سینکڑوں لوگ ہیں جن کی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ کئی لوگ تو مر گئے ہیں لیکن ان کو ویزے نہیں ملے۔‘
یاد رہے کہ چند سال پہلے تک پاکستان سے مریض انڈیا میں جگر کی پیوند کاری کے لیے جاتے تھے تاہم اب کافی حد تک یہ سہولت پاکستان میں بھی موجود ہے۔ لیکن انڈیا اب بھی تجربے اور ٹیکنالوجی میں آگے ہے۔ لہذا لوگ اب بھی جگر کے ٹرانسپلانٹ کے لیے بھارت جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے درجنوں جگر کے مریضوں کی ویزہ کی درخواستیں پچھلے کئی ماہ سے فیصلے کے بغیر انڈین ہائی کمیشن میں پڑی ہیں۔
پاکستانیوں کے حوالے سے بھارت کی تنگ نظر ویزہ پالیسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو بھی ویزے جاری کرنے میں نہایت کنجوسی سے کام لیتا ہے۔ جون 2015 میں پہلی بار انڈیا نے پاکستان کی انڈر 17 ریسلنگ ٹیم کو سالانہ کیڈٹ ریسلنگ چیمپیئن شپ کے لیے ویزے دینے سے انکار کر کے سپورٹس ڈپلومیسی کے پر کاٹ دیے۔ اسی سال دسمبر میں پاکستان کی والی بال ٹیم کو کیرالہ بیچ ٹورنامنٹ میں بھی کھیلنے کے لیے ویزے نہیں جاری کیے گئے۔ اس سے اگلے سال 2016 میں پہلی بار ہی انڈیا نے 75 زائرین کے مذہبی ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا، یوں اس سلسلے کی شروعات ہوئی۔ ایسے ہی دو بڑے واقعات پچھلے سال یعنی 2024 میں ہوئے۔ ان میں سے ایک زیادہ حیران کن تھا جب نومبر میں انڈیا نے پاکستان کے ایئر ٹریفک کنٹرول کے تین اراکین کو ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا، جو دہلی میں ہونے والی بین الاقوامی ایئر ٹریفک کنٹرولرز ایشیا پیسفک کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ اس کے علاوہ پاکستانی سکریبل ٹیم کو بھی انڈیا گذشتہ برس ویزے جاری نہیں کیے۔
چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت میں غیر اعلانیہ توسیع
دوسری طرف پاکستان ہندوؤں کے علاوہ سکھ کمیونٹی کو بھی مذہبی سیاحت سے ہٹ کر بڑی تعداد میں ویزے جاری کر رہا ہے۔ حال ہی میں لاہور میں ہونے والی انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس کے لیے انڈیا سے آنے والے 37 شرکا کو ویزے جاری کیے گئے جن میں پنجابی فلم انڈسٹری کے افراد بھی تھے۔
