پاکستان کے ہاتھوں سیز فائر سے انڈیا کو اتنی تکلیف کیوں ہے؟

 

 

 

اسرائیل دنیا کا وہ واحد ملک نہیں جو پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کروانے پر سخت تکلیف میں مبتلا ہے۔ پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت کو بھی اس سیز فائر سے اتنی ہی تکلیف ہے جتنی کہ اسرائیل کو ہوئی ہے۔

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دیرینہ دشمن اور خطے میں اس کے مخالف عناصر، خاص طور پر بھارت، اس بات سے ناخوش ہیں کہ اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات اور جنگ بندی میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے نہ صرف جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے کروڑوں لوگوں کو تباہی، بربادی اور قحط سالی سے بچایا بلکہ پاکستان کی سفارتی ساکھ کو بھی عالمی سطح پر بلند کیا۔

 

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ چند روز قبل بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے پاکستان کے بارے میں غیر سفارتی لہجہ اختیار کیا اور پاکستان کو دلال تک قرار دے دیا۔ یہ ہذیانی کیفیت بھارت کی خفت اور ناکامی کا بھرپور اظہار تھی کیونکہ مودی کی قیادت میں بھارت امریکہ اور ایران دونوں سے تعلقات ہونے کے باوجود جنگ بندی میں کوئی سفارتی کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔ ایران پر حالیہ جنگ سے صرف دو دن قبل نریندر مودی اسرائیل کی پارلیمان میں خطاب کرچکے تھے جس کے بعد ایران اور عرب ممالک کا اعتماد ٹوٹ گیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی بھارت کے جارحانہ مزاج کو مئی 2025ء کی پاک-بھارت جنگ کے دوران ہی دیکھ چکے تھے۔

 

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں پاکستان نے تمام تر معاشی مشکلات کے باوجود ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو آزمائش میں ڈالتے ہوئے جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے کروڑوں لوگوں کو تباہی اور قحط سالی سے بچانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود جنگ بندی کی کاوشیں شروع کیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم پاکستان کے قیام امن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر لکھے گئے پیغام کو ری پوسٹ کیا، جس سے بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر بھانپ گئے کہ پاکستان کی کوششیں بالآخر کامیاب ہوسکتی ہیں۔ نصرت جاوید کے مطابق حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف ہمارا ازلی دشمن ہی پاکستان کی خواہش امن سے ناخوش نہیں تھا بلکہ اسرائیل سمیت چند نام نہاد برادر خلیجی ممالک بھی اس پر تکلیف محسوس کررہے تھے۔ اس کے باوجود پاکستان کروڑوں انسانوں کو مکمل تباہی کی جانب دھکیلنے والی جنگ روکنے میں مصروف رہا۔

 

پانچ ہفتوں کی مسلسل کوششوں کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر منگل کی رات گئے پیغام جاری کیا جس میں فریقین سے درخواست کی گئی کہ وہ فوری جنگ بندی کے بعد سفارت کاری کے ذریعے دیرپا امن قائم کرنے میں معاونت کریں۔ امریکی صدر اور ایرانی وزیر خارجہ نے اس پیغام کو فوری قبول کرلیا،

جنگ بندی کے بعد اسلام آباد کو امریکہ اور ایران کے مابین براہِ راست مذاکرات کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ نصرت کا کہنا ہے کہ دنیا کے لیے "دہشت گردی” کا مسلسل نشانہ بننے والے پاکستان میں فروری 1979ء سے دشمن رہنے والے ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کا ملنا کئی مخالفین کو برداشت نہیں ہوگا۔ اسرائیل بھی جنگ بندی کو ہضم نہیں کر پایا اور عالمی میڈیا میں سوالات اٹھنا شروع ہوگئے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مسلط کردہ جنگ سے کیا حاصل کیا۔

 

اس کے علاوہ لبنان کے جنوب میں اسرائیل کی فضائی اور زمینی کارروائیوں کے بعد تقریباً دس لاکھ افراد گھر بار سے محروم ہو کر سمندر کے کنارے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، اور ایران کے لیے امن مذاکرات برقرار رکھنا مزید دشوار ہوگیا ہے۔ خلیج کے چند ممالک میں بھی اسرائیل نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے سوالات اٹھائے کہ ایران کی نگرانی میں تیل کی ترسیل کیوں تسلیم کی جائے۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ فروری 2026ء میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے سے پہلے آبنائے ہرمز بین الاقوامی راہداری تصور ہوتی تھی، لیکن ایران نے جنگ کے دوران اس پر اپنا مکمل اختیار قائم کر کے دنیا کو مجبور کیا کہ صرف وہی بحری جہاز گزر سکیں جو پاسداران انقلاب کی اجازت کے ساتھ گزرنے کی قیمت ادا کریں۔ اسرائیل کی کوشش ہوگی کہ کچھ عرب ممالک اس معاملے پر ایران کے ساتھ ڈٹ نہ جائیں، اور پاکستان کو سعودی عرب، مصر اور ترکی کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔

ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ مارشل نے دنیا کو تباہی سے کیسے بچایا؟

نصرت جاوید کے مطابق اگر جنگ نہ رکتی تو نہ صرف ایران بلکہ پاکستان میں بھی توانائی بحران، کساد بازاری، بھوک اور بے روزگاری کے سیلاب پیدا ہوچکے ہوتے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی سیاسی اختلافات کے باوجود خطے کو کامل تباہی سے بچانے والی جنگ روکنے میں کامیابی حاصل کی، جس پر نصرت جاوید نے کھلے دل سے انہیں مبارکباد دی۔ نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنی مستقل امن کی کوششوں، ماہر سفارت کاری، اور عالمی تعلقات کے بہترین استعمال کے ذریعے جنوبی اور مشرقی ایشیاء میں ممکنہ انسانی تباہی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی بین الاقوامی ساکھ کو مضبوط کیا، جبکہ دشمن عناصر اور مخالف ممالک کے لیے یہ ایک ناقابل برداشت کامیابی ثابت ہوئی۔

Back to top button