ایران امریکی صدر ٹرمپ کو فیس سیونگ کیوں نہیں دے رہا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کا پنگا لیتے ہوئے دیوار پر چڑھ تو گئے ہیں لیکن اب انہیں نیچے اترنے کے لیے کوئی سیڑھی دستیاب نہیں۔ ایسے میں وہ فیس سیونگ کی تلاش میں ایران کی طرف سے جنگ بندی کی ریکوسٹ جیسے جھوٹے دعووں پر اتر آئے ہیں۔ تاہم ایرانی قیادت انہیں فیس سیونگ دینے کو تیار نہیں اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ایران نے امریکی حملے کے جواب میں خلیجی ریاستوں میں فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے آبنائے ہرمز بھی بند کر دی۔ ایرانی قیادت کے ان دو فیصلوں کو ماسٹر سٹروک قرار دیا جا رہا ہے جنہوں نے امریکہ سمیت عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب جان شکنجے میں پھنسنے کے بعد صدر ٹرمپ کبھی تو ایران کو مذاکرات کا کہتے ہیں اور کبھی تباہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں لیکن ایران ہے کہ ڈٹا ہوا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکا ویتنام اور افغانستان جیسی طویل اور لایعنی جنگوں میں پھنس کر سال ہا سال عزت بچا کر نکلنے کا راستہ ڈھونڈتا رہتا ہے، لیکن نہ تو اسے فیس سیونگ ملی اور نہ جنگ بند ہوئی، آخرِ کار اسے خجالت کا راستہ ہی چننا پڑتا ہے اور دُم دبا کر ہی بھاگنا پڑتا ہے۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ بھی امریکہ سے جنگ کا پنگا لے کر پھنس چکے ہیں اور اب فیس سیونگ کی تلاش میں ہیں لیکن ٹانگوں میں دُم دبانے سے فیس سیونگ نہیں ہوا کرتی۔ اگر آج کے دن جنگ بند ہو جائے؟ تو کیا کہا جائے گا، جنگ کا نتیجہ کیا نکلا؟ تاریخِ عالم کا سب سے طاقت ور ملک امریکا ایک ماہ کی مسلسل وحشیانہ گولہ باری کے باوجود آبنائے ہرمز سے ایران کا قبضہ ختم نہیں کروا سکا، امریکا بہ صد کوشش خطے میں اپنے فوجی اڈوں اور حلیفوں کی حفاظت نہیں کر سکا، امریکا ایرانی حکومت کا خاتمہ نہیں کر سکا۔ ٹرمپ لاکھ باتیں بنائیں لیکن انہیں فیس سیونگ نہیں ملے گی۔
انکا کہنا ہے کہ اس نقطے پر اگر جنگ بند ہو جائے تو غالباً تاریخ ٹرمپ کو امریکی گوربا چوف کے طور پر یاد رکھے گی کیوں کہ اس موقعے پر جنگ بندی کے تاریخ ساز نتائج برآمد ہوں گے، دنیا باضابطہ طور پر ملٹی پولر ہو جائے گی، مستقبل میں امریکا کی دھمکیاں جُگتیں سمجھی جائیں گی، پیٹرو ڈالر عجائب گھر کی زینت بن جائے گا، خلیج کا نیا سکیورٹی سٹرکچر بنے گا، اور امریکا میں آئندہ انتخاب کا نتیجہ نوشتہء دیوار ہو جائیگا۔ آگے چلیے، اگر جنگ یہاں بند نہیں ہوتی تو کیا ممکنات ہیں؟ اگلا منظر یہ ہے کہ مزید امریکی فوجی خطے میں پہنچ چکے ہیں، امریکا اپنی دھمکیوں کے عین مطابق جزیرہ خارگ پر قبضہ کر لے جو ایران کی تیل کی پیداوار کا مرکز ہے۔ اسکے علاوہ وہ ایک دو اور جزیروں پر بھی قبضہ کرے اور آبنائے ہرمز کو کھول دے، یعنی فوجیں ایران میں داخل ہو جائیں، امریکی فوجی جنگ میں براہِ راست جھونک دیے جائیں، امریکا فاتح کا ماسک پہن لے، اور نحیف ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر کچھ طے کروا لیا جائے۔
لیکن حماد غزنوی کے بقول اس منظر نامے میں کچھ خلا ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اب تک کی جنگ میں فریقین نے ایک نقطے پر خاموش اتفاقِ رائے کے تحت تیل کے نظام کو کوئی ایسا نقصان نہیں پہنچایا جس سے عالمی سطح پر طویل عرصے کیلئے تیل کا بحران پیدا ہو جائے، ایران پر امریکی بمباری ہو یا ایران کے خلیجی ممالک پر میزائل حملے، آئل انفراسٹرکچر کی تباہی سے گریز کیا گیا ہے۔ اگر امریکا جزیرہ خارگ پر حملہ کرتا ہے تو یہ خاموش معاہدہ ٹوٹ جائے گا۔ یہ ایران کیلئے فیصلہ کن گھڑی ہو گی، اور ایران کا فیصلہ بہت سیدھا ہو گا، بقول شاعر ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ ایران ثابت کر چکا ہے کہ آج بھی وہ خلیج میں جہاں چاہے میزائل حملہ کر کے کچھ بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عسکری ماہرین کے بقول ایران کے زیرِ زمین میزائل اڈے امریکا اور اسرائیل 30 دن کی بم باری میں تباہ نہیں کر سکے۔ اس صورت میں تیل کا عالمی نظام طویل مدت کیلئے درہم برہم ہو جائیگا جسکے ہولناک نتائج سے امریکا سمیت کوئی ملک نہیں بچ سکے گا۔ سادہ لفظوں میں یہ پاگل پن ہو گا۔ اس صورت میں بھی ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا، جنگ طویل ہو جائیگی، اور امریکا ایک دفعہ پھر ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں پھنس جائیگا۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے صدر ٹرمپ کی بولتی کیسے بند کی؟
حماد غزنوی کے مطابق اس منظرنامے میں جارح کا جانی نقصان لازم ہے، فوجیوں کی لاشیں امریکا جائیں گی اور یہ امریکی رائے عامہ کا نقطہ پگھلاؤ ہوا کرتا ہے۔ ایرانی رجیم بھی چینج ہوتی نظر نہیں آتی۔ لگتا ہے امریکا جو ایران میں وینزویلا پارٹ 2 کرنے گیا تھا، اسکی بجائے وہ ویت نام پارٹ 2 کر بیٹھا ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ پھر جنگ کیسے بند ہو گی؟ مذاکرات کیلئے امریکا اور ایران نے جو شرائط رکھی ہیں انکے درمیان نقطہء اتصال ڈھونڈنا دشوار دکھائی دیتا ہے، ایران کہہ رہا ہے کہ بھائی جان آپ میرا نقصان پورا کریں، آبنائے ہرمز میرے قبضے میں رہنے دیں اور خطے سے تشریف لے جائیں۔ ایران کی آدھی شرائط بھی مان لی جائیں تو موجودہ ورلڈ آرڈر گر جائیگا۔ لمبی جنگ ایران کے فائدے میں ہے، لمبی جنگ چین اور روس کے فائدے میں ہے، لمبی جنگ امریکا کے ہر مخالف کے فائدے میں ہے۔ امریکا جنگ سے نکلنا بھی چاہتا ہے مگر کیسے؟ کوئی رستہ نظر نہیں آ رہا کہ امریکا جنگ سے نکل بھی جائے اور اکلوتی سپر پاور بھی رہ جائے۔ مختصر یہ کہ ایران کے خلاف جنگ کا پنگا لے کر ٹرمپ دیوار پر چڑھ تو گئے ہیں لیکن انہیں نیچے اتارنے کے لیے کوئی سیڑھی دستیاب نہیں۔
