ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای پہاڑوں کے نیچے بنکر میں کیوں؟

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تہران کے قریب واقع دشوار گزار پہاڑوں کے نیچے بنائے گئے بنکر میں قیام پذیر ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع نے ان افواہوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے روس میں جلاوطنی کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ خامنہ ای کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ خبریں بے بنیاد اور دشمن طاقتوں کا من گھڑت پروپیگنڈا ہیں۔
یہ افواہیں اُس وقت گردش میں آئیں جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کھلے عام آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کی دھمکیاں سامنے آئیں۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو جواز بناتے ہوئے نہ صرف ایرانی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ سپریم لیڈر کا تختہ الٹنے کی کھلی کال بھی دے دی تھی۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر ایرانی فوج نے سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو دارالحکومت تہران کے گرد و نواح میں واقع دور دراز پہاڑی سلسلوں میں موجود انتہائی محفوظ زیر زمین بنکرز میں منتقل کر دیا تھا، جہاں سے وہ ریاستی اور عسکری امور کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق 86 برس کی عمر میں بھی آیت اللہ علی خامنہ ای کو ذہنی اور جسمانی طور پر ’سپر فٹ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ معالجین اور قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ کئی برس تک ایران کی قیادت کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی صحت کا راز ان کی سادہ خوراک، سخت نظم و ضبط اور متوازن طرز زندگی میں مضمر بتایا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای مرغن اور بھاری کھانوں سے گریز کرتے ہیں اور نان، پنیر، سبزیوں اور مچھلی جیسی ہلکی غذا کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ کبھی بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتے۔ ان کی روزمرہ روٹین تہجد کے وقت بیداری سے شروع ہوتی ہے، جس کے بعد وہ باقاعدگی سے ورزش، مطالعہ اور پیدل چلنے کو معمول کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔ کوہ پیمائی کا شوق بھی ان کی جسمانی مضبوطی اور عزم کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ذہنی صحت کے لیے قرآن مجید کی تلاوت، شاعری اور عالمی اخبارات کا مطالعہ ان کے معمولات میں شامل ہے۔ سادگی پسند طرز زندگی، بروقت نیند اور ذہنی دباؤ سے دوری نے انہیں اس عمر میں بھی متحرک اور توانا رکھا ہوا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق وہ آج بھی روزانہ کی بنیاد پر ریاستی معاملات خود دیکھتے ہیں، جبکہ ان کی صحت سے متعلق منفی خبروں کو دشمن قوتوں کا پروپیگنڈا قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے جانشینوں کی فہرست تقریباً دس برس قبل ہی مرتب کر لی تھی۔ اس فہرست میں ان کے بڑے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، سینیئر عالمِ دین علی رضا اعرافی، سابق چیف جسٹس صادق لاریجانی، مجلس خبرگان کے اہم رکن ہاشم حسینی بوشہری اور معروف مذہبی سکالر محمد مہدی میر باقری کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا آئینی اختیار مجلس خبرگانِ رہبری کو حاصل ہے۔
عسکری اعتبار سے آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے طاقتور ترین فرد ہیں۔ آئین کے مطابق وہ تمام مسلح افواج کے کمانڈر انچیف ہیں اور ایران کے میزائل سسٹم پر مکمل اختیار رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ جنگ یا بڑے میزائل حملے کا حتمی فیصلہ صرف سپریم لیڈر ہی کرتے ہیں۔ یہ میزائل پروگرام بنیادی طور پر پاسداران انقلاب کے زیرِ انتظام ہے، جو روایتی فوج سے الگ اور براہِ راست سپریم لیڈر کو جوابدہ ہے۔ میزائل داغنے کے لیے ایک انتہائی خفیہ اور محفوظ تصدیقی نظام استعمال کیا جاتا ہے، جس کی حتمی منظوری سپریم لیڈر کے دفتر سے لینا لازمی ہے۔ ایران نے اپنا نجی مواصلاتی نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے اور زیر زمین میزائل اڈے تعمیر کیے گئے ہیں جو تہران کے مرکزی ہیڈ کوارٹر سے منسلک ہیں۔ سپریم لیڈر نہ صرف حملے کی اجازت دیتے ہیں بلکہ میزائلوں کی حد اور ہدف کا تعین بھی خود کرتے ہیں۔
پہاڑوں کے اندر قائم یہ جدید میزائل ذخائر اس قدر محفوظ ہیں کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سپریم لیڈر موبائل کمانڈ سینٹر کے ذریعے براہِ راست احکامات جاری کر سکتے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای عام حالات میں تہران کے وسط میں واقع بیتِ رہبری نامی کمپلیکس میں رہائش پذیر ہیں، جو دنیا کے محفوظ ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ بلند دیواروں، جدید اینٹی ایئر کرافٹ سسٹمز اور پاسداران انقلاب کے ایلیٹ دستوں کے سخت حصار میں ہے۔
اگرچہ ان کی ذاتی زندگی انتہائی سادہ بتائی جاتی ہے، جہاں وہ متوسط گھرانے جیسے فرنیچر اور قالینوں والے کمروں میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں، تاہم اس سادگی کے پیچھے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر موجود ہے، جہاں سے وہ ایران کے عسکری اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس کی براہِ راست نگرانی کرتے ہیں۔
حالیہ اسرائیلی خطرات اور امریکی دباؤ کے تناظر میں ایرانی میڈیا اور انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اور اس کے اطراف پہاڑی علاقوں میں انتہائی مضبوط اور گہرے زیر زمین بنکرز تعمیر کیے گئے ہیں، جو میزائل اڈوں سے منسلک ہیں اور ایٹمی حملے کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان بنکرز میں مہینوں تک قیام کے لیے خوراک، پانی، آکسیجن، آزاد مواصلاتی نظام اور دیگر ضروریاتِ زندگی کا مکمل انتظام موجود ہے۔ کشیدگی کے دوران سپریم لیڈر انہی بنکرز سے اسٹریٹجک کمانڈ سنبھالتے ہیں اور سیٹلائٹ لنکس کے ذریعے ایرانی میزائل فورسز کو براہِ راست احکامات جاری کرتے ہیں۔
دوسری جانب ایران سے حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کو دی جانے والی دھمکیاں غیر معمولی حد تک سخت رہی ہیں۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف کسی بھی کارروائی کو سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا جسکا جواب روایتی سفارتی حدود سے کہیں آگے جا کر دیا جائے گا۔
ایران مخالف قرارداد کے خلاف ووٹ: ایرانی سفیر کا پاکستان سے اظہارِ تشکر
حال ہی میں ایرانی مسلح افواج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکی صدر کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر ہمارے لیڈر کی طرف کسی نے ہاتھ بڑھایا تو ہم نہ صرف وہ ہاتھ کاٹ دیں گے بلکہ ان کی پوری دنیا کو آگ لگا دیں گے۔
