اسرائیل بلوچ علیحدگی پسندوں کی مدد کیوں کر رہا ہے؟

الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کی کوششوں میں مصروف بلوچ دہشت گرد گروپوں کی مدد کر رہی ہے۔ جولائی 1948ء سے پاکستان کو صوبہ بلوچستان میں کئی سورشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جوکہ گزشتہ 77 سالوں سے وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔
قطر کے الجزیرہ نیٹ ورک کی خصوصی رپورٹ کے مطابق بلوچ قوم پرستوں پر مشتمل علیحدگی پسند دہشت گرد گروہ پاکستان سے مکمل آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اب انہیں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ ساتھ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی سپورٹ بھی حاصل ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کی بیشتر علیحدگی پسند تحریکوں کی طرح بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کو بھی بیرونی ممالک کی مدد حاصل رہی ہے۔ عام طور پر ایسی تحریکوں کی بیرونی حمایت کے بغیر بقا ممکن نہیں۔ تاہم بیرونی مدد حاصل کرنے کا ہمیشہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ یہ تحریکیں کامیاب بھی ہوں گی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک چلانے والی بیرونی قوتوں کا خیال ہے کہ شاید اس طرح وہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کا ایک بڑا حصہ الگ کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ ایسا کرتے ہوئے انکے پیش نظر مشرقی پاکستان کی مثال ہے جو 1970 میں پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش نامی ایک علیحدہ ملک بن گیا تھا۔ بنگالی قوم پرستوں نے بھارت کی عسکری مدد لی تھی جس کے نتیجے میں 90 ہزار پاکستانی فوجی جوانوں کو ڈھاکہ میں بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑ گئے تھے۔ لیکن بھارت ابھی تک پنگے بازی سے باز نہیں آیا اور پاکستان میں بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی فنڈنگ کر رہا ہے۔
لہذا الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کی یہ رپورٹ حیران کن نہیں کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد بھی اب بلوچ علیحدگی پسندوں کی فنڈنگ کر رہی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچ علیحدگی پسند تحریکوں کا انحصار مختلف بیرونی عناصر پر رہا ہے جیسے افغانستان، عراق، ایران اور بھارت۔ عراق لیکن کبھی کسی بیرونی طاقت نے بلوچ علیحدگی پسندی میں اتنی بھاری سرمایہ کاری نہیں کی جتنی کہ بھارت نے 2014 کے بعد سے کی ہے۔
قدرتی ذخائر سے مالامال صوبہ بلوچستان میں ہنود و یہود کا گھناؤنا کھیل کئی دہائیوں سے جاری ہے جس کا مقصد ایٹمی پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اب واشنگٹن میں قائم کردہ تھنک ٹینک مڈل ایسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے 12جون 2025 کو پاکستان کیخلاف ”بلوچستان سٹڈیز پروجیکٹ‘‘ نامی شر انگیز منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ اسرائیلی فنڈنگ سے چلنے والے اس نام نہاد منصوبے کی آڑ میں پاکستان کی سالمیت کے خلاف بلوچستان میں فتنہ الہندوستان لی انڈین پراکسیز کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچ دہشت گردوں کی حمایت جنوبی ایشیا میں صہیونی اثر و رسوخ بڑھانے کے ناپاک ارادوں کی جانب واضح اشارہ ہے۔
دراصل بلوچستان میں اسرائیلی مداخلت 2006 سے ہوتی نظر آتی ہے جب 2 مئی 2006 کو یروشلم میں جلاوطن بلوچ حکومت قائم ہوئی اور میر سلیمان داؤد خان کو اس کا سربراہ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں 2022 میں نائلہ قادری بلوچ نے یورپی ملک میں جلاوطن ‘بلوچ حکومت‘ کے قیام کا اعلان کیا اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کو شہید قرار دیتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ بلوچستان پر ہنود و یہود کا شیطانی اتحاد کئی دہائیوں سے قائم ہے۔ انکا کہنا یے کہ نائلہ قادری جیسے لوگوں کو اقوام متحدہ میں سہولت فراہم کرنا بھی مذموم بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کا حصہ ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ بیرونی عناصر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے۔ اگرچہ مغربی طاقتیں پاکستان میں چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اور فوجی سرمایہ کاری سے بھارت کی طرح پریشان ہوسکتی ہیں لیکن وہ ممکنہ طور پر نہیں چاہتے کہ پاکستان مکمل طور پر ختم ہو جائے کیونکہ اس طرح اس کے جوہری ہتھیاروں کا ممکنہ طور پر غلط ہاتھوں میں جانے کا خطرہ ہوگا۔ لہٰذا یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو غیرمستحکم رکھنے کا خیال چین کو اسلام آباد سے دور رکھنے کے لیے ہے۔ بھارت نے بلوچ اور طالبان عسکریت پسندوں کو فنڈز، ہتھیار اور تربیت فراہم کرکے ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔ نتیجتاً بھارتی حمایت یافتہ طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ بلوچ علیحدگی پسند بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیار بن چکے ہیں۔
