معافی کے باوجود بھگوڑے میجر عادل راجہ کی جان خلاصی ناممکن کیوں؟

تحریک انصاف سے وابستہ یوٹیوبر اور بھگوڑے میجر ریٹائرڈ عادل راجہ نے سابق فوجی افسر کے خلاف لگائے گئے الزامات تسلیم کرتے ہوئے بریگیڈیئر راشد نصیر سے باقاعدہ معافی مانگ لی۔ تاہم معافی مانگنے کے باوجود عادل راجہ کا ٹھکنا یقینی ہو گیا ہے کیونکہ لندن ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے جہاں عادل راجہ کو جھوٹا قرار دے دیا وہیں 22دسمبر تک ہرجانہ ادا نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی سمیت جرمانے اور ممکنہ قید کی وارننگ بھی دے دی ہے۔
یاد رہے کہ دو برس طویل عدالتی کارروائی کے بعد لندن ہائی کورٹ نے عادل راجہ کے تمام تر الزامات کو حتمی طور پر بے بنیاد، جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس پر 50 ہزار پاؤنڈز ہرجانہ اور مجموعی طور پر 3 لاکھ 10 ہزار پاؤنڈ جرمانے و عدالتی اخراجات کی ادائیگی لازم قرار دے دی ہے۔ مزید برآں عدالت نے عادل راجا کو آئی ایس آئی کے سابق بریگیڈیئر راشد نصیر سے باقاعدہ عوامی معافی مانگنے کا بھی حکم دے رکھا ہے۔ جس پر اب عادل راجہ نے سوشل میڈیا پر بریگیڈیئر راشد نصیر سے باقعدہ معافی مانگ لی ہے۔
عمرانڈو یوٹیوبر عادل راجہ نے لندن ہائی کورٹ میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کی جانب سے دائر ہتکِ عزت کیس کے فیصلے کے بعد تسلیم کرلیا ہے کہ انہوں نے سابق فوجی افسر کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے ہتک آمیز الزامات لگائے تھے جس پر عدالت نے انہیں معافی مانگنے، ہرجانہ اور قانونی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
لندن ہائی کورٹ میں پاک فوج کے سابق افسر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) راشد نصیر کی جانب سے دائر ہتکِ عزت کے مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد یوٹیوبر عادل راجہ نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے راشد نصیر سے متعلق وہ الزامات لگائے تھے جن کے دفاع میں ان کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ایکس پر اپنی پوسٹ میں عادل راجہ نے کیس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’9 اکتوبر کو لندن ہائی کورٹ نے مجھے راشد نصیر کو ان کے قانونی اخراجات کے علاوہ 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا‘۔انہوں نے کہا ہتکِ عزت کیس میں ان پر عائد الزامات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے 14 اور 29 جون 2022 کے درمیان راشد نصیر کے بارے میں متعدد ہتک آمیز الزامات لگائے اور میرے پاس ان الزامات کے دفاع کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا‘۔
عادل راجہ نے اپنی پوسٹ کے ساتھ برطانوی عدالت کے فیصلے کا لنک بھی شیئر کیا ہے۔ حکمنامے میں درج ہے کہ عادل راجا کی طرف سے جاری کردہ معافی نامہ ان کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویب سائٹ پر 28 دن تک موجود رہے گا،عادل راجہ نے لندن ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی جانب سے لگائے الزامات کا الزامات ان کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ انہوں نے ایکس، فیس بک، یوٹیوب اور ویب سائٹ پر بھی عدالتی فیصلے کا لنک بھی شائع کیا۔عدالت کے فیصلے کے مطابق معافی نامہ 28 دن تک عادل راجہ کے سوشل میڈیا اکاونٹس اور ویب سائٹ پررہے گی۔
یاد رہے کہ میجر (ر) عادل راجہ اپریل 2022 میں پاکستان سے مفرور ہو کر لندن پہنچا تھا جہاں اس نے سیاسی پناہ مانگ لی تھی، عادک راجہ وہاں سے اپنے یوٹیوب چینل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آئی ایس آئی پنجاب کے سابق سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کیخلاف سنگین الزامات لگاتے رہا۔ اس دوران راجہ نے یہ جھوٹا دعوی بھی کیا کہ بریگیڈیئر نصیر نے اُسکے قتل کی سازش تیار کی، لاہور ہائی کورٹ میں اپنے من پسند ججز تعینات کروائے اور 2024 کے الیکشن میں دھاندلی کی منصوبہ بندی کی۔ عادل راجا نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ آئی ایس آئی افسر نے آصف زرداری سے خفیہ ملاقاتیں کر کے انتخابی عمل کو متاثر کیا۔
لندن ہائی کورٹ کے عدالتی کاغذات کے مطابق عادل راجہ نے 14 جون 2022 کو راشد نصیر کے خلاف سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا۔ اس کے بعد 19 جون کو اس نے مزید الزامات گھڑے اور دعویٰ کیا کہ الیکشن میں ہیرا پھیری آئی ایس آئی کی نگرانی میں کی گئی۔ اسی دوران اس نے سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق بھی سنگین دعویٰ کیا کہ وہ پاکستانی خفیہ اداروں کے کہنے پر قتل کروائے گے۔ عدالت نے ان تمام دعوؤں کا تفصیلی سے جائزہ لیا اور انہیں غیر معتبر، مبالغہ آمیز اور مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی قرار دے دیا۔
تاہم اب لندن ہائی کورٹ نے سابق بریگیڈیئر راشد نصیر کی جانب سے دائر کیے گئے ہتکِ عزت کے مقدمے میں یوٹیوبر اور سابق میجر عادل راجہ کے خلاف تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر عادل راجہ نے فیصلے پر عمل نہ کیا تو ان پر توہینِ عدالت، جرمانہ اور ممکنہ جیل کی کارروائی ہو سکتی ہے،عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ عادل راجہ نے جون 2022 میں جو الزامات عائد کیے تھے، ان کے حق میں کوئی قابلِ قبول ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور یہ تمام دعوے محض بہتان اور شخصیت کشی پر مبنی تھے۔
فیصلے کے مطابق لندن ہائی کورٹ نے عادل راجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بریگیڈئیر راشد نصیر کو 50ہزار پاؤنڈ یعنی ایک کڑور ستاسی لاکھ ہرجانے کی ادائیگی کریں جبکہ بھاری قانونی اخراجات بھی ادا کریں۔عدالت نے انہیں 2لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ یعنی 9کروڑ 72 لاکھ روپے بطور عبوری اخراجات فوری طور پر ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت کے مطابق تمام مالی واجبات 22 دسمبر 2025 تک ادا کرنا لازمی ہوں گے۔ عدالت نے حکم دیا کہ عادل راجہ اپنے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فیصلے کا خلاصہ 28 دن تک نمایاں طور پر آویزاں کرنے کے پابند ہوں گے۔ مزید یہ کہ عدالت نے مستقبل میں جھوٹے الزامات دہرانے سے روکنے کے لیے سخت حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔عدالتی حکم کے مطابق اگر انہوں نے فیصلے پر عمل نہ کیا تو ان پر توہینِ عدالت، جرمانہ اور ممکنہ جیل کی کارروائی ہو سکتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ پنجاب الیکشن، مبینہ ملاقاتوں اور ’’رجیم چینج‘‘ سے متعلق تمام بیانیے بے بنیاد تھے اور حقائق سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ان الزامات نے بریگیڈیئر راشد نصیر کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جو مکمل طور پر غلط ثابت ہوئی۔ عدالت نے متعدد ’’حساس الزامات‘‘ کو کلی طور پر ممنوع قرار دیتے ہوئے ان کے دوبارہ تذکرے کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
