فیصل واوڈا جیسے ٹٹو بنانے والوں کا احتساب کیوں ضروری ہے؟

معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے اسٹیبلشمنٹ کے ماؤتھ پیس سینیٹر فیصل واوڈا کی جانب سے پاکستان کی بقا کی خاطر پانچ ہزار لوگوں کو مار کر ٹانگنے کی تجویز کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزاروں سیاستدانوں کو ٹھوکنے کی بجائے صرف ان چند سیاسی انجینیئرز کو ٹھوکنے سے پاکستان سیدھے راستے پر چل پڑے گا جو 75 برس سے واوڈا جیسے ٹٹو ٹائپ سیاستدان پیدا کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہو جائے تو نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔
حفیظ اللہ نیازی نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں کہا ہے کہ کسی بھی ریاست کے بنیادی اجزاء صرف تین ہوتے ہیں: عوام الناس، خزانہ اور لشکر۔ ان کے مطابق حقیقی اور جائز حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ یہ تینوں عناصر مکمل طور پر ایک ہی حکومت کے پاس ہوں، مگر پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ شاذ و نادر ہی ایسا ممکن ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک اپنی تاریخ کی بدترین سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف عمران خان ہیں اور دوسری جانب حکومت اور طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ، اس کے نتیجے میں ہونے والی کشمکش نے پورے ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کے بقول موجودہ صورتحال میں حکومت کے پاس خزانے کی چابیاں اور فوج کی کمان تو ہے، لیکن عوام کی بڑی تعداد عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاش عوام، خزانہ اور لشکر ایک ہی سمت میں ہوتے تو ملک کو اس نہج پر نہ پہنچنا پڑتا۔
انہوں نے موجودہ صورت حال کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 2018 کے انتخابات میں عمران کو جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی اسٹیبلشمنٹ اقتدار میں لائی۔ تب کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی قیادت میں اسٹیبلشمنٹ نے انتخابی عمل پر اثر انداز ہو کر انہیں وزیر اعظم بنوایا۔ نیازی کے بقول اس سے پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان میثاقِ جمہوریت طے پا چکا تھا، جس کے تحت ان دونوں جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایکدوسرے کے خلاف کسی فوجی سازش کا حصہ نہیں بنیں گی اور جمہوری عمل کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ اسی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی صورت میں ایک متبادل سیاسی قیادت کو آگے لانے کا فیصلہ کیا۔
حفیظ اللہ نیازی نے کہتے ہیں کہ بطور وزیراعظم مکمل طور پر ناکام ہو جانے کے بعد مارچ 2021 میں بھائی لوگوں نے “پراجیکٹ عمران خان” کو ریورس کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسٹیبلشمنٹ کا خیال تھا کہ چونکہ عمران خان اس کی اپنی پیداوار ہیلے لہذا اسے سیاسی منظرنامے سے بھی آسانی کے ساتھ ہٹایا جا سکتا ہے، مگر حالات اسٹیبلشمنٹ کی توقعات کے برعکس نکلے۔ 10 اپریل 2022 کو اقتدار سے علیحدگی کے بعد عمران خان کو اداروں پر سخت تنقید اور دباؤ بڑھانے کا موقع ملا۔ حفیظ نیازی کا کہنا ہے کہ پاکستانی تاریخ میں کبھی کسی لیڈر کو جلسوں میں آرمی چیف پر اس انداز میں کھلی تنقید کرنے کی ایسی آزادی پہلے نہیں ملی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2022 کے دوران کئی جلسوں اور ریلیوں میں فوج کے خلاف بدزبانی کی گئی جسے بعض حلقوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی۔
انہوں نے ستمبر 2022 میں عمران خان کی جانب سے جی ایچ کیو پر چڑھائی کے اعلان کو نہایت سنگین قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے جہادِ اکبر کا نام دیا گیا اور لوگوں سے عہد و پیمان بھی لیے گئے۔ یہ حرکت 9 مئی کے سانحے سے بھی زیادہ خطرناک تھی کیونکہ فوج کے اندر سے بھی اس کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ حفیظ نیازی کا کہنا تھا کہ نومبر 2022 کے بعد حالات میں تبدیلی ضرور آئی مگر اس وقت تک عمران خان عوام کے دلوں میں جگہ بنا چکے تھے اور انکے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کی حمایت میں کھڑی ہو چکی تھی۔ گزشتہ تقریباً تین برس سے انہیں سیاسی طور پر محدود کرنے کی کوشش جاری ہے لیکن ابھی تک مکمل طور پر کامیابی حاصل نہیں ہو سکی
حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ اگر عمران خان بہتر سیاسی مہارت دکھاتے تو اپنی عوامی قوت کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کر سکتے تھے۔ تاہم عمران خان اور ان کے مخالفین دونوں میں کچھ منفی چیزیں مشترک ہیں، جن میں جھوٹ، بدنیتی، نا انصافی اور نااہلی نمایاں ہیں۔ ان کے بقول دونوں اطراف اپنی اپنی دنیا میں مگن ایکدوسرے کی کمزوریوں پر سیاست کر رہے ہیں کیونکہ ان کی اولین ترجیح اپنی ذات ہے، پاکستان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس باہمی کشمکش نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے 1971 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کو دو لخت ہوتے دیکھ چکے ہیں اور اب ایسے کسی نئے سانحے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ ذاتی انا کو بالائے طاق رکھ کر ریاست کو بچانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔
فوج سے پنگا لیتے ہوئے عمران اپنی اوقات کیوں بھول گئے؟
حفیظ نیازی نے حالیہ سیاسی رابطوں کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کی وزیر اعظم سے ملاقات، کور کمانڈر کی ن لیگ کے وزراء اور محسن نقوی سے ملاقات، جبکہ محمود خان اچکزئی اور وزیر اعظم کے درمیان ممکنہ ملاقاتیں محض اتفاق نہیں ہو سکتیں۔ ان کے مطابق قومی حکومت کے قیام کی باتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ مفاہمت کی کوئی صورت زیر غور ہے اور ممکن ہے کہ عمران خان کو بھی اس عمل میں اعتماد میں لیا گیا ہو۔
حفیظ نیازی نے بتایا کہ ان کی حال ہی میں ایک اہم فوجی شخصیت سے ملاقات ہوئی جس کے لب و لہجے اور سوچ میں واضح تبدیلی محسوس ہوئی۔ ان کے مطابق ریاستی حلقوں میں بھی یہ احساس ابھر رہا ہے کہ ملک کو کسی مشترکہ اور متفقہ سیاسی حل کی ضرورت ہے تاکہ عوام، خزانہ اور لشکر ایک ہی سمت میں آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اس سلسلے میں تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں اور شاید اداروں کے اندر بھی اس حوالے سے سوچ پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر فیصلہ سازوں اور تحریک انصاف کے مابین سنجیدہ مفاہمت ہو جائے تو پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔
