محبت کی شادی کرنے والوں کو مارنے والے BLA سے مختلف کیوں نہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ایک جرگے کے حکم پر پسند کی شادی کرنے والی عورت اور مرد کو سرعام گولیاں مارنے والے بلوچی بھی بلوچستان لبریشن آرمی کے دہشتگردوں سے مختلف نہیں۔ انکا کہنا یے کہ بلوچ بہت بہادر ہیں، بہت غیور ہیں، بہت مہمان ںواز ہیں، اور اعلیٰ ظرف بھی، لیکن سب بلوچ ایسے نہیں۔ بدقسمتی سے بلوچوں کی نشانی وہ لوگ بن گئے ہیں جو نفرتوں کو فروغ دیتے ہیں، اور جو لوگ امن اور محبت کا فروغ چاہتے ہیں، وہ بلوچستان میں پس منظر میں چلے گے ہیں۔ جو بلوچ تخریب کی جانب مائل ہیں وہ دندناتے پھرتے ہیں اور جو امن پسند ہیں وہ اپنی جانیں بچاتے پھرتے ہیں۔ جہالت کے یہ مناظر بلوچستان کی بدقسمتی ہیں۔ بلوچستان کے عوام کی بدقسمتی ہیں۔ بلوچ عورتوں کی بدقسمتی ہیں۔

عمار مسعود اپنی تازہ تحریر میں لکھتے ہیں کہ نہ تو یہ پہلی گولی تھی اور نہ یہ پہلی لڑکی تھی، نہ یہ کوئی نیا واقعہ تھا اور نہ ہی یہ کوئی سانحہ نیا تھا۔ نہ اس کہانی کو خلق خدا نے پہلی مرتبہ سنا تھا اور نہ اس داستان کا انجام کسی کے لیے نیا تھا۔ یہ دلخراش مناظر پاکستان  میں کئی مرتبہ دہرائے جا چکے ہیں۔ کئی بار محبت کرنے والوں کو اسی انجام سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ کئی بار گولیاں برسیں اور  کئی بار محبتوں نے دم توڑا۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ بہت سے جاہل سماج اب بھی عورت کو سب کچھ سمجھتے ہیں، ملکیت بھی، ضرورت بھی، حاجت بھی اور نجاست بھی، خباثت بھی، عداوت بھی، ندامت بھی اور بغاوت بھی۔ وہ نہیں سمجھتے تو اسے انسان نہیں سمجھتے۔ انسانی بنیادوں پر کسی عورت کو پرکھنے سے ان کی مردانگی کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس سے ان کی غیرت مجروح ہوتی ہے۔ اس سے انا شکست کھاتی ہے، اس سے برابری کا شائبہ ملتا ہے۔ یہ انہی سوچوں اور سماجوں کا قصہ ہے جہاں وقت بیل گاڑی پر بیٹھ چکا ہے۔ جہاں موبائل تو پہنچ گیا مگر ذہنوں نے ترقی نہِیں کی۔ جہاں لڑکیاں ٹک ٹاک بناتی ہیں تو قتل کر دی جاتی ہیں۔ جہاں تعلیم ان کے لیے شجرِ ممنوع ہے۔ جہاں پسند کی شادی سے بڑا گناہ اور کوئی نہیں۔ جہاں مردانہ غیرت سے بڑا فلسفہ کوئی اور نہیں۔

عمار مسعود کے بقول بلوچستان  ویسے تو محبت کرنے والوں کی سر زمیں ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں صدیوں سے وہ سوچ قابض ہے جس کا خمیر جہالت سے اٹھتا ہے۔ محبتوں کی اس سرزمیں پر وہ بھی ہیں جو عورت کو کوئی مقام دینے کو تیار نہیں  اور وہ بھی جو  عورتوں کو صرف تخریب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں ایک طبقہ محبت کی شادی نہیں کرنے دیتا تو دوسرا طبقہ وطن سے محبت نہیں کرنے دیتا۔ ایک جانب عورتوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو دوسری جانب وہ عورتیں ہیں جو اپنے ہم وطنوں پر برستی گولیوں پر خاموش رہتی ہیں۔ ایک جانب بے بسی ہے دوسری جانب سازش ہے۔ ایک جانب محبت کا قتل ہے اور دوسری جانب صرف نفرت کا عمل ہے۔ وہ لوگ جو قبائلی رسم و رواج کے گن گاتے ہیں، ان  رسوم پر زک آنے کے خوف سے گولیاں برساتے ہیں۔ ان جاہلوں کو کوئی گریبان سے پکڑے اور پوچھے کہ کیا یہ ہیں تمہارے رسم و رواج؟ کیا یہ ہے تمہاری غیرت؟ کیا یہ ہیں تمہارے اعمال؟ اور کیا یہ ہے تمہاری زنگ آلود اور بوسیدہ سوچ۔  کیا اس جہالت کو تم رسم و رواج کا نام دیتے ہو؟ کیا اس جہالت کو تم اپنے عائلی قوانین بتاتے ہو؟ کیا اس نفرت کو تم اپنا طرہ امتیاز بناتے ہو؟

عمار مسعود کہتے ہیں کہ کوئی تو ان غیرت کے خود ساختہ آقاؤں سے پوچھے کہ کیا ان خونریز داستانوں سے تمہیں اتنا لطف آتا ہے کہ تم بچوں کو تعلیم نہیں حاصل کرنے دیتے؟ کیا ان برستی گولیوں سے چھلنی جسموں کو خاک ہوتے دیکھنے میں تم کو اتنا مزا آتا ہے کہ تم ان لوگوں کو اس عائلی جور ستم کے خلاف آواز اٹھانے نہیں دیتے۔ تمہارے خوف محبت کی ہر داستان سے کیوں جڑے ہوئے ہیں؟ تمہاری غیرت کی تسکین بے بسوں پر گولیاں برسا کر کیوں ہوتی ہے؟ تمہارے دلوں کو صرف محبت کرنے والوں کو خون میں نہلا کر کیوں طمانیت حاصل ہوتی ہے؟ عمار مسعود کے بقول یہ سوال ہر بلوچ عورت بلوچستان کے مردوں سے یہ کرنا چاہتی ہے۔ یہ سوال بلوچستان میں محبت کی ہر داستان کرتی ہے۔ اس سوال کا جواب اس سماج کے پاس نہیں ہے۔ اس سوال کا جواب تہ تو ہمارے عائلی قوانین میں ہے اور نہ ہی زنگ آلود رسم و رواج میں۔

عمار مسعود کا کہنا ہے کہ یہ سوال کتنی ہی مرتبہ اٹھائے گئے ہیں لیکن یہ سوال پھر بھی تشنہ ہیں۔ ایسے سوال آج پھر جواب مانگتے ہیں۔ یہ سوال اس ساری سوچ کے منہ پر طمانچہ ہیں جو کسی کو سانس لینے نہیں دیتی، جو کسی اور نقطہ نظر کو برداشت نہیں کرتی، جو محبت کے ہر  پیغام کو  رد کرتی ہے۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ کوئی ان سے پوچھے کہ کیا بلوچستان میں پہلے خون ریزی کم ہے جو اس طرح کسی عورت اور مرد کو قتل کرنے کی ضرورت پڑی؟ کیا اس دھرتی پر خون ناحق کم بہا ہے کہ اس طرح کے جرائم کی ضرورت پڑی؟ کیا وہاں پہلے ہی نفرت کا کاروبار سرعام نہیں ہو رہا کہ ایسے کسی اور کی جان لینے کی ضرورت بھی پڑ گئی؟ کیا بلوچستان میں نفرت پھیلانے والوں کا قلع قمع ہو چکا کہ اب محبتوں کا خون بہانے کی ضرورت پڑی؟

عمار مسعود کہتے ہیں کہ یاد رکھیں! جب محبتوں کو خراج نہیں ملتا تو وہ نفرتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ جب زخموں پر مرہم نہیں رکھا جاتا تو وہ ناسور بن جاتے ہیں۔ جہاں انسانی جذبوں کا احترام نہیں کیا جاتا وہاں لوگ جانور بن جاتے ہیں اور اپنی تسکین کے لیے انسانوں کو لوٹتے، بھنبوڑتے، اور نوچتے ہیں۔ نہ وہ انسان ہیں جو پسند کی شادی پر عورتوں پر گولیاں برساتے  ہیں اور  ان کی لاشوں  پر فتح کا جشن مناتے ہیں۔ نہ ہی وہ انسان ہیں جو پنجابیوں پر گولیاں برساتے ہیں اور دشمن کے ایما پر بلوچستان کا نام خاک میں ملاتے ہیں۔ ان ظالموں سے مجھے یہی کہنا ہے کہ یہ داستان جہل لکھنا بند کرو۔ خدارا! بلوچستان میں محبتوں کو قتل مت کرو۔

Back to top button