بسنت کے تہوار کا خون خرابے کے بغیر ختم ہونا ممکن کیوں نہیں؟

18 برس تک پابندی کا شکار رہنے کے بعد بسنت کا تہوار ایک مرتبہ پھر سے بحال ہو چکا ہے۔ وہ تہوار جو کبھی لاہور شہر کی ہر گلی، چھت اور پارک کی پہچان ہوا کرتا تھا، دوبارہ لوٹ آیا ہے۔ بسنت کی واپسی ایک طرف لاہور کی ثقافتی شناخت کی بحالی قرار دی جا رہی ہے، تو دوسری جانب انسانی جانوں کے تحفظ سے جڑے خدشات بھی بدستور موجود ہیں۔ مریم نواز کی پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ درست ثابت ہوتا ہے یا نہیں، اس کا حتمی فیصلہ تبدیل ہو گا جب یہ تہوار کسی بڑے حادثے کے بغیر اختتام پذیر ہو جو کہ ممکن نہیں لگتا۔
بسنت صرف ایک موسم یا رنگوں کا نام نہیں بلکہ لاہور کی ثقافتی، سماجی اور کھیلوں کی تاریخ کا اہم باب ہے، جس کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں۔ پتنگ بازی پنجاب کی قدیم روایت ہے جسے خاص طور پر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت میں فروغ ملا، جب اسے بسنت پنچمی کی تقریبات سے جوڑ دیا گیا۔ وقت کے ساتھ بسنت اور پتنگ بازی ایک دوسرے کا مترادف بن گئے۔ یہ محض تفریح نہیں رہی بلکہ ایک باقاعدہ کھیل کی حیثیت اختیار کرگئی، جس کے اپنے اصول، اصطلاحات، استاد شاگرد کا نظام اور ایک مضبوط معاشی ڈھانچہ تھا، جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ رہا۔
لاہور کے لاری اڈے کے قریب، موجودہ گریٹر اقبال پارک کے شمال مغربی حصے میں کبھی گڈی گراؤنڈ ہوا کرتا تھا، جو پتنگ بازی کا سب سے مرکزی میدان سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں صرف ماہر اور استاد پتنگ باز ہی مقابلوں میں حصہ لینے کے اہل ہوتے تھے۔ یہاں ہونے والے مقابلے مہینوں جاری رہتے اور انہیں دیکھنے کے لیے سینکڑوں تماشائی جمع ہوتے۔ بسنت کے دنوں میں لاہور کی چھتیں زرد رنگ میں ڈھک جاتیں، ڈھول کی تھاپ، موسیقی اور پتنگوں سے آسمان بھر جاتا۔ جیت اور ہار کو کھیل کے جذبے کے تحت قبول کیا جاتا اور ہارنے والے بھی جیتنے والوں کے ساتھ جشن میں شریک ہوتے تھے۔
یہ تہوار رواداری، میل جول اور اجتماعی خوشی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ تاہم 1990 کی دہائی کے اواخر میں پتنگ بازی میں غیر صحت مند مسابقت نے جنم لیا۔ بسنت کا تہوار کمرشل ہو گیا اور اسے پیسہ بنانے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ اس دوران پتنگوں کا سائز بھی بڑھتا گیا اور انہیں سنبھالنے کے لیے موٹی، تیز دھار اور بعض اوقات دھاتی یا کیمیائی ڈور استعمال ہونے لگی۔ ان ڈوروں کے باعث کئی شہری، بچے اور موٹر سائیکل سوار گلے کٹنے جیسے المناک حادثات میں جان سے گئے، جس نے بسنت کو خوشی کے تہوار کے بجائے خوف کی علامت بنا دیا۔
ان واقعات کے بعد حکومتی سطح پر یہ مؤقف مضبوط ہوا کہ کوئی بھی تہوار انسانی جانوں سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ بسنت کے خلاف مذہبی نوعیت کے اعتراضات بھی سامنے آتے رہے، تاہم 2007 میں پنجاب حکومت کی جانب سے پتنگ بازی اور بسنت پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ وہ جان لیوا حادثات ہی تھے جن کا براہِ راست تعلق خطرناک ڈور کے استعمال سے تھا اور جو موٹر سائیکل سواروں کی گردنیں کاٹ رہے تھے۔ تاہم 2024 میں یہ خبر سامنے آئی کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم نواز کو بسنت کے تہوار سے پابندی اٹھانے کا ٹاسک دے دیا ہے۔ دسمبر 2025 میں پنجاب اسمبلی کی جانب سے ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کی منظوری کے بعد لاہور میں بسنت کی واپسی کا اعلان کیا گیا۔
گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا اعلان
مریم حکومت کے مطابق اس بار تہوار کو سخت قوانین اور نگرانی کے تحت منانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ ماضی جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔ نئے قوانین کے تحت پتنگ بازی صرف مخصوص دنوں اور منظور شدہ مقامات تک محدود ہوگی۔ دھاتی، کیمیائی، نائیلون یا کسی بھی قسم کی تیز دھار ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ بغیر اجازت پتنگ فروشی، ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی ڈور کی تیاری یا درآمد بھی جرم قرار دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانے، قید اور سامان کی ضبطی جیسی سزائیں دی جائیں گی، جبکہ انتظامیہ اور پولیس کو فوری کارروائی کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔
اس کے باوجود عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قوانین جتنے بھی سخت کیوں نہ ہوں، انکی خلاف ورزیاں تو ہو کر رہتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ چند افراد کی لاپرواہی یا ضد پورے شہر کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور بسنت بازی پر پابندی اٹھانے سے گردنیں کٹنے کے افسوسناک واقعات دوبارہ سے شروع ہو جائیں گے۔ ان حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگرچہ بسنت لاہور کی ثقافت کا حصہ رہی ہے، لیکن جن جان لیوا واقعات کی وجہ سے اس پر پابندی لگی تھی، ان کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ ان کے نزدیک بہتر یہی ہوتا کہ اس خونی تاریخ کے حامل تہوار کو دوبارہ منانے کا فیصلہ ہی نہ کیا جاتا
