میثاق پارلیمنٹ حکومت اور اپوزیشن کا ایک پیچ کا ایک پیج پرآنا ممکن کیوں نہیں؟

پاکستان میں جہاں ایک جانب سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر ہے، وہیں حکمران اور اپوزیشن اتحاد نے میثاقِ پارلیمنٹ کے نام سے ایک معاہدہ کرنے کے لیے مل بیٹھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی، نون لیگ اور پیپلزپارٹی کا ایک پیج پر آنا ممکن ہے؟کیا حکومت اور اپوزیشن کے مابین سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق مفاہمت کروانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟کیا میثاق پارلیمنٹ کے بعد تحریک انصاف اس پر قائم رہ پائے گی؟ ۔مبصرین کے مطابق موجودہ سیاسی کشیدگی کے دوران حکومت اور اپوزیشن کا کسی بھی معاملے پر اتفاق بعید از قیاس ہے اس لئے پہلے پہل تو میثاق پارلیمنٹ ہوتا دکھائی نہیں دیتا تاہم اگر اس حوالے سے کوئی معاہدہ ہو بھی گیا تو موجودہ حالات میں اس پر عملدرآمد ناممکن ہے۔
خیال رہے کہ میثاق پارلیمنٹ کا مسودہ تیار کرنے کے لیے حکومتی اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ کی سربراہی میں حکمران اتحاد اور اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے سینئر اراکین پر مشتمل 33 رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس نے کام شروع کر دیا ہے۔تاہم۔مبصرین کے مطابق پارلیمنٹ میں ورکنگ ریلیشن اور اسے چلانے کے لیے آئین اور قواعد و ضوابط کی موجودگی میں کیا کسی معاہدے یا ’میثاق‘ کی گنجائش ہے؟ اس بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
عرصۂ دراز سے قانون ساز اداروں کی کارکردگی مانیٹر کرنے والے غیر سرکاری ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سے ارکان کی گرفتاریاں ہونے کے بعد میثاق پارلیمنٹ کے ڈرافٹ کی ضرورت محسوس کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ جب ایسے واقعات ہو جائیں اور آپ کے پاس ان کے ازالے کی طاقت نہ ہو تو صرف کچھ دکھانے کے لیے اس طرح کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ احمد بلال محبوب کے مطابق پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے لیے آئین اور رولز میں سب کچھ لکھا ہوا ہے۔ اسپیکر کے اختیارات بھی واضح ہیں۔ کس کی کیا ذمے داری ہے یہ بھی طے ہے۔ ان کے بقول دراصل مسئلہ رولز اور آئین پر عمل درآمد کا ہے۔پلڈاٹ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ میں موجود پارٹیاں سیاسی مفادات سے بالا تر ہوکر کام کریں تو کسی میثاق پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم اس معاہدے کی تیاری کے لیے کمیٹی کے قیام سے کم سے کم حکومت اور اپوزیشن ساتھ تو بیٹھی ہے۔
پارلیمنٹ کو مانیٹر کرنے والے ایک اور غیر سرکاری ادارے فافن کے نیشنل کو آرڈینیٹر رشید چودھری کا کہنا ہے کہ ایوان سے باہر ہونے والے اقدامات پارلیمنٹ کو بائی پاس کرتے ہیں۔ معاملات پر باہر اتفاق کر کے پارلیمنٹ کو صرف رپورٹنگ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میثاق پارلیمنٹ کے ڈرافٹ کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے۔ کمیٹیاں پارلیمنٹ کا حصہ اور ایکسٹینشن ہوتی ہیں مگر کمیٹی کی تجاویز پر ایوان میں مفصل بحث کرانے کے بعد انہیں حتمی شکل دینی چاہیے۔رشید چوہدری کا کہنا تھا کہ میثاق پارلیمنٹ کا مسودہ سامنے آنے کے بعد تجاویز پر بات کی جاسکتی ہے مگر سیاسی کشیدگی کے ماحول میں حکومت اور اپوزیشن کا مل بیٹھنا اچھی بات ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں تقریباً تین دہائی سے کام کرنے والے سابق ایڈیشنل سیکریٹری بھی ایوان کے قواعد و ضوابط کو اس کی کارروائی بہتر انداز میں چلانے کے لیے کافی قرار دیتے ہیں۔انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’میثاقِ پارلیمنٹ کا مسودہ اتفاق رائے سے تیار ہو بھی جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رولز اور آئین پر عمل درآمد نہ کرنے والے اس معاہدے پر کیسے عمل کریں گے۔‘‘سابق ایڈیشنل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ حکومت کو سکون سے کام نہ کرنے دیا جائے جب کہ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ اپوزیشن کو دبا کر رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سوچ کے ساتھ ارکان اجلاسوں میں آئیں گے تو پارلیمنٹ کا ماحول کیسے بہتر ہوگا۔ پارلیمنٹ کی عزت گالم گلوچ اور شور شرابے سے تو نہیں ہوگی۔ان کے بقول سیاسی پارٹیاں ایوان میں باہر کی سیاست نہ لائیں اور یہاں آئین اور رولز کے تحت چلا جائے تو کسی میثاق پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں۔
