عادل راجہ اور شہزاد اکبر کی آسانی سے حوالگی ممکن کیوں نہیں؟

حکومتِ پاکستان نے تحریک انصاف سے وابستہ میجر عادل فاروق راجہ اور سابق مشیرِ احتساب مرزا شہزاد اکبر کی فیک نیوز، اشتعال انگیزی اور ریاست مخالف پراپیگنڈا کے الزامات پر برطانیہ سے باضابطہ حوالگی کا مطالبہ تو کر دیا ہے، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق ایسا ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی عدالت میں یہ ثابت کرنا کہ فیک نیوز یا پراپیگنڈا برطانوی فوجداری قانون کے تحت جرم ہے، خود پاکستانی حکام کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہو گا، کیونکہ برطانیہ میں فوجداری نوعیت کی ہتکِ عزت یا اظہارِ رائے کی سخت صورتوں کو بھی عام طور پر جرم نہیں سمجھا جاتا۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کو راجہ اور شہزاد کی حوالگی کے لیے کیس بمعہ ثبوت پیش کیا۔ حکومتِ نے ان الزامات کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکام کو پراپیگنڈا اور غلط معلومات پھیلانے کے حوالے سے شواہد دیے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ آزادی اظہار پر ہمارا مکمل یقین ہے، مگر فیک نیوز ہر ملک کے لیے چیلنج ہے اور کوئی بھی ریاست بیرونِ ملک بیٹھ کر اپنے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی برداشت نہیں کرتی۔
یاد رہے کہ عمرانڈو قرار پانے والے میجر ریٹائرڈ عادل فاروق راجہ پاکستانی فوج میں میجر کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ نومبر 2023 میں ان کا کورٹ مارشل کیا گیا اور انہیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حاضر سروس فوجی اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں 14 سال قیدِ با مشقت اور عہدہ ضبطی کی سزا سنائی گئی۔ یہ سزا انہیں عدم موجودگی میں دی گئی کیونکہ موصوف برطانیہ فرار ہو چکے تھے۔
عادل راجہ دراصل عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے کچھ ہی روز بعد برطانیہ نکل گئے تھے جہاں سے وہ یوٹیوب اور ایکس پر وی لاگز کے ذریعے فوجی قیادت، انٹیلیجنس اداروں اور نئی حکومت پر سخت تنقید کرتے رہے۔ اپنے بیانات میں وہ فوج پر سیاست میں مداخلت کے الزامات عائد کرنے کے علاوہ مختلف فوجی افسران کے کردار پر سوالات اٹھاتے تھے، جنہیں ہمیشہ بے بنیاد قرار دیا گیا۔ اسی نوعیت کی سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستان میں ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے، جن میں ریاست اور فوج کے خلاف اکسانے کے الزامات شامل تھے۔
برطانیہ میں بھی انہیں ایک ہتکِ عزت مقدمے میں 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے جب انہوں نے آئی ایس آئی سے وابستہ ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر راشد نصیر کے خلاف الیکشن 2024 میں دھاندلی کروانے کے الزامات عائد کیے تھے جو عدالت میں غلط ثابت ہوئے۔
دوسری جانب زبوٹا جن کہلانے والے بدنام زمانہ مرزا شہزاد اکبر عمران خان کے دور میں مشیرِ احتساب و داخلہ رہے۔ حکومت کے خاتمے کے بعد وہ مختلف مقدمات کے باعث عدالتوں میں پیش ہوتے رہے، تاہم ایک عدالتی حکم کے بعد ای سی ایل سے نام نکلنے پر وہ اپریل 2022 میں برطانیہ چلے گئے۔ شہزاد اکبر بھی گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا پر حکومت، فوجی قیادت اور احتساب کے نظام کے خلاف سخت نوعیت کے بیانات دیتے رہے ہیں۔ وہ یوٹیوب، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر ویڈیوز کے ذریعے موجودہ حکومتی اقدامات، ذمہ دار اداروں کے فیصلوں اور فوج کے بعض سینئر فوجی افسران کی پالیسیوں پر مسلسل تنقید کرتے آئے ہیں، جنہیں حکومتی حلقے اشتعال انگیز اور گمراہ کن قرار دیتے رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں ان کے اہلخانہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ نومبر 2023 میں انہوں نے برطانیہ میں خود پر ایک تیزاب حملے کا الزام بھی عائد کیا۔
حکومت کی پاکستان کی جانب سے حوالگی کی درخواست کے بعد دونوں افراد نے الزامات کی تردید کی ہے۔ عادل راجہ نے کہا کہ برطانوی ہائی کمشنر کو بلا کر انکی شکایت کرنا برطانوی قوانین کے تحت قابلِ اعتراض ہے کیونکہ میں نے کسی قسم کا کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا۔
مرزا شہزاد اکبر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ برطانوی حکومت قانون، انسانی حقوق اور شفافیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے برطانوی حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ پاکستان میں ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
ذہنی مریض کی سیاست اور بیانیہ قومی سلامتی کےلیے خطرہ بن چکا : ڈی جی آئی ایس پی آر
برطانوی بیرسٹر ٹوبی کیڈمین کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے درمیان افراد کی واپسی کا ایک انتظامی معاہدہ تو موجود ہے لیکن باقاعدہ کوئی حوالگی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق حوالگی کے لیے ضروری ہے کہ جس جرم پر حوالگی مانگی گئی ہو وہ برطانیہ میں بھی جرم تصور ہو اور برطانوی قانون کے مطابق کم از کم 12 ماہ قید کی سزا رکھتا ہو، اس کے علاوہ جرم سیاسی نوعیت کا نہیں ہونا چاہیے چونکہ فیک نیوز یا سخت بیانات برطانوی قانون میں فوجداری جرم نہیں سمجھے جاتے، اسلیے ان الزامات پر شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی پاکستان حوالگی کا امکان نہایت کم ہے۔
