حکومت اور PTI مذاکرات سے بھی عمران کی رہائی ممکن کیوں نہیں؟

عمران خان کے جارحانہ طرز عمل پر مبنی تمام کارڈز ناکام ہونے کےبعد پی ٹی آئی کی جانب سے اختیار کی گئی منتوں ترلوں کی پالیسی جزوی کامیاب ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یوتھیے رہنماؤں کی جانب سے مسلسل تابعداری کی یقین دہانیوں کے بعد جہاں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تحریک انصاف کو مذاکرات کیلئے ثالثی کی پیشکش کر دی ہے وہیں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بامعنی مذاکرات کیلئے پس پردہ یعنی بیک چینل رابطے ایک بار پھر فعال ہو گئے ہیں۔ تاہم تاحال دونوں اطراف سے اعتماد سازی کا فقدان موجود ہے اور لیگی رہنما عمران خان کی یوٹرن پالیسی کی وجہ سے ان پر قطعا اعتبار کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔ مبصرین کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف میں مذاکرات ہو سکتے ہیں تاہم ان مذاکرات کے نتیجے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں کیونکہ بڑی مشکل سے ملکی معیشت اپنی ڈگر پر آئی ہے۔ اس وقت حکومت اور مقتدر قوتیں سیاسی عدم استحکام کے خدشات کے پیس نظر عمران خان کی رہائی کا رسک لینے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتیں۔ اس لئے یوتھیے رہنماؤں کی تابعداری کے باوجود عمران خان کی جیل سے رہائی ممکن نظر نہیں آتی۔
سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ نون لیگ اور پی ٹی آئی میں باقاعدہ رابطے جلد ہی قائم ہو جائیں گے جن سے کچھ مثبت نتائج برآمد ہو سکیں گے۔ تاہم یہ رابطے اُن رابطوں سے مختلف ہیں جو حکومت اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کیلئے عمران خان کی 7؍ رکنی کمیٹی کے حوالے سے عوام میں زیر بحث ہیں۔
انصار عباسی کے مطابق یہ بیک چینل رابطے وہی ہیں جو گزشتہ ماہ ہونے والی پس پردہ غیر رسمی بات چیت میں شامل تھے جب تحریک انصاف کے احتجاجی مارچ کو ڈی چوک تک پہنچنے سے روکنے کیلئے بات چیت ہو رہی تھی۔ عمران خان کو معلوم تھا کہ اُن کی جماعت کے رہنماؤں سے حکومت کی کون سی شخصیات بات چیت میں مصروف ہیں تاہم، میڈیا کے پوچھنے پر ان کے نام بتانے سے اجتناب کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر احتجاجی مارچ ختم کرنے کیلئے عمران خان نے اپنی رہائی کی پیشگی شرط رکھی تھی، تاہم حکومتی ارکان نے اس سے اتفاق نہیں کیا تھا۔
انصار عباسی کے بقول بعد میں انہی پس پردہ رابطوں کے نتیجے میں، تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان اسلام آباد کے نواحی علاقے سنگجانی میں دھرنا دینے کے حوالے سے مفاہمت ہو گئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور تحریک انصاف کے چیئرمین بیریسٹر گوہر کو جیل میں پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ تاہم، عمران خان کی جانب سے سنگجانی میں احتجاجی مارچ روکنے کی ہدایت کے باوجود بشریٰ بی بی احتجاجی مارچ کو اپنی قیادت میں ڈی چوک تک لے گئی تھیں۔ جس کے بعد جہاں پی ٹی آئی رہنماؤں نے بشری بی بی کی جانب سے عمران خان کے احکامات اور ہدایات نظر انداز کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا وہیں پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین قائم بیک ڈور رابطے بھی ختم ہو گئے تھے۔ تاہم اب ایک بار پھر یہ رابطے فعال ہو رہے ہیں۔ مبصرین پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکراتی عمل کیلئے ان بیک ڈور رابطوں کو اہم قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی اور حکومت دونوں مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں ہیں تاہم اعتماد سازی کے فقدان کی وجہ سے اس حوالے سے پیشرفت سامنے نہیں آ رہی۔ مذاکراتی عمل بارے وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان بامعنی مذاکرات کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ مذاکرات کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں، سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ اپنی پالیسی واضح کر چکی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے مزیدکہا کہ عمران خان ماضی میں سیاسی مذاکرات کے حق میں تھے اور نہ اب دلچسپی رکھتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کے نزدیک بامقصد مذاکرات اہم ہیں اور اس کی جانب آگے بڑھنا چاہئے لیکن مذاکرات کے راستے میں عمران خان سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی دوسرے درجے کی قیادت حکومت کے ساتھ بات چیت کے حق میں ہے لیکن ان کے اس طرح کے مذاکرات کی خواہش کے باوجود عمران خان نے ان سب کو مسترد کر دیا جس کا نتیجہ 26؍ نومبر جیسے واقعات کی صورت میں سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت سے رابطے میں ہے لیکن یہ لوگ بے بس ہیں اور پارٹی کے بانی چیئرمین کی جانب سے انہیں ویٹو کیے جانے کی وجہ سے یہ لوگ کچھ نہیں کر سکتے۔ رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے جو مطالبات ہیں اُن پر اتوار تک تو کوئی پیشرفت نہیں ہوسکتی، پھر بھی اگر جلد بازی میں سول نافرمانی کی تحریک کا شوق ہے تو تحریک انصاف اُسے پورا کرلے کیونکہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور یہ تحریک بری طرح سے ناکام ہوگی۔
کچھ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ حکومت کے ساتھ با معنی مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کو فوج اور اس کی سابقہ و موجودہ اعلیٰ قیادت کے ساتھ براہِ راست تنازع کی گزشتہ دو سالہ پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف کی مذاکرات کی پیشکش اور اسپیکر کی ثالثی کی آفر کے بعد دونوں اطراف میں جمود ٹوٹے گا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کارسہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اس وقت مقتدرہ مذاکرات کے موڈ میں نہیں لگتی نہ پی ٹی آئی کسی بارگین کی پوزیشن میں ہے کیونکہ پی ٹی آئی اپنے تمام کارڈز آزما چکی ہے جن میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ اب تحریک انصاف کے پاس آخری سول نافرمانی کا کارڈ باقی بچا ہے تاہم اگر پی ٹی آئی نے یہ کارڈ آزمانے کی کوشش کی تو اسے کسی فائدے کی بجائے بڑا سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کارعمر چیمہ کے مطابق حکومت عمران خان کے مطالبات پورے کرنے کو تیار نظر نہیں آتی کیونکہ پی ٹی آئی کے اب تک سامنے آنے والے مطالبات کو پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اقتدار عمران خان کے حوالےکر کے خاموشی سے گھر چلی جائے۔ ایسا بالکل بھی ممکن نہیں۔ عمر چیمہ کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت مذاکرات صرف ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان نہیں ہونے چاہئیں بلکہ اس میں دیگر سیاسی جماعتوں اوراسٹیبلشمنٹ کو بھی آن بورڈ لیا جانا چاہیے۔
تجزیہ کارسلیم صافی کا حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات بارے کہنا تھا کہ اگرسیاسی جماعتیں مل کر استحکام کاراستہ نکالتی ہیں تو اس میں اسٹیبلشمنٹ کو کوئی نقصان نہیں ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مذاکرات میں کوئی رکاوٹ آئے گی۔
