پاکستان میں سولر پینل سستےہونےکاامکان کیوں پیدا ہوگیا؟

آنے والے چند دنوں میں ایک بار پھر سولر پینلز کی مارکیٹ کریش ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے کسٹمز ویلیو میں کمی کے بعد درآمدی سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی کمی متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں توانائی بحران، بجلی کے بڑھتے نرخ اور غیر یقینی لوڈ شیڈنگ نے عام شہریوں کو متبادل ذرائع کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے میں سولر انرجی کو نہ صرف ماحول دوست بلکہ معیشت دوست حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے، درآمدی رکاوٹوں، اور ٹیکسوں کے باعث یہ آپشن بھی عام پاکستانی کے لیے ناقابلِ رسائی بنتا جا رہا تھا لیکن اب حکومت نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے درآمدی سولر پینلز کی کسٹمز ویلیو میں نمایاں کمی کر دی ہے، جسے مارکیٹ میں ممکنہ طور پر قیمتوں میں کمی کی نوید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کی جانب سے جاری رولنگ کے مطابق درآمدی سولر پینلز کی کسٹمز ویلیو 0.11 ڈالر فی واٹ سے کم کر کے 0.08 سے 0.09 ڈالر فی واٹ مقرر کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب متعدد درآمد کنندگان نے عالمی مارکیٹ کی قیمتوں کے تناظر میں موجودہ ویلیو کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے حکام سے نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت، بین الاقوامی قیمتوں کے تجزیے اور سابقہ تجارتی ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق کسٹمز حکام کی جانب سے یہ اقدام بنیادی طور پر عالمی منڈی میں سولر پینلز کی قیمتوں میں ہونے والی نمایاں کمی کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔ چین، جہاں سے پاکستان میں زیادہ تر سولر پینلز درآمد کیے جاتے ہیں، وہاں حالیہ مہینوں میں بڑی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی تعداد میں اضافہ اور پیداواری لاگت میں کمی کی وجہ سے نرخ نیچے آ گئے ہیں۔ چین میں سولر انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کے بقول چین میں اس وقت ٹیئر وَن
سرٹیفائیڈ کمپنیوں کی تعداد 60 سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث مسابقت میں اضافہ ہوا ہے اور قیمتوں میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی کسٹمز حکام نے بھی سولر پینلز کی ویلیو میں کمی کر دی ہے۔ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے اثرات فوری طور پر مقامی مارکیٹ میں ظاہر نہیں ہوں گے۔ چونکہ اس وقت مارکیٹ میں دستیاب سولر پینلز پرانی ویلیو پر درآمد کیے گئے تھے، اس لیے صارفین کو فی الفور سولر پینلز کی قیمت میں کوئی بڑی کمی نظر نہیں آئے گی۔ لیکن ایک سے دو ماہ کے اندر نئی درآمدات کی آمد کے ساتھ ممکنہ طور پر مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ نئی کسٹمز ویلیو کے ثمرات آہستہ آہستہ صارفین تک منتقل ہوں گے، بشرطیکہ مارکیٹ میں مسابقتی فضا قائم رہے اور درآمدی عمل میں کوئی نیا تعطل نہ آئے۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہاں ایک دلچسپ تضاد یہ ہے کہ جہاں درآمدی سولر پینلز کی قیمتوں میں کسٹمز سطح پر کمی کی گئی ہے، وہیں وفاقی حکومت نے حالیہ بجٹ 2025 میں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے سولر پینلز پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر رکھا ہے۔ یہ پالیسی ایک طرف درآمدات کو سستا کر رہی ہے تو دوسری طرف مقامی صنعت پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مقامی مینوفیکچررز دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں اور یہ اقدام ملک میں سولر ٹیکنالوجی کی مقامی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
بعض دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف کسٹمز ویلیو میں کمی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ ان کے خیال میں جب تک درآمدی ٹیکسز، بینکاری مسائل، اور ایل سی کھولنے کی مشکلات کا حل نہیں نکلتا، تب تک درآمدی سولر پینلز کی صرف کسٹمز ویلیو میں کمی سے عام صارف کو نمایاں فائدہ نہیں ملے گا۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کو سولر انڈسٹری کیلئے مکمل پالیسی فریم ورک تیار کرنا ہوگا جس میں مقامی پیداوار، درآمد، اور ریٹیل قیمت، تینوں کو ایک مربوط پالیسی کے تحت سامنے لایا جائے۔ صرف کسٹمز ویلیو میں کمی کا اقدام خوش آئند ضرور ہے لیکن مارکیٹ پر اس کے دیرپا اثرات تبھی ہوں گے جب حکومت دیگر رکاوٹیں بھی دور کرے۔ تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ درآمدی سولر پینلز کی کسٹمز ویلیو میں کمی ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے آنے والے وقت میں قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔ تاہم، یہ قدم صرف ایک جزوی ریلیف فراہم کر سکتا ہے جب تک کہ دیگر معاشی، مالیاتی اور پالیسی سطح کی رکاوٹیں دور نہ کی جائیں۔ اگر حکومت اس موقع کو مربوط اصلاحات کے لیے استعمال کرے، تو نہ صرف عام صارف کو ریلیف ملے گا بلکہ پاکستان میں متبادل توانائی کے شعبے کو بھی نئی زندگی مل سکتی ہے۔
