کراچی کے لیاری کو ’’منی برازیل‘‘ کیوں کہا جاتا ہے؟

پاکستان میں کرکٹ کے مقبول ترین کھیل ہونے کے باوجود کراچی میں نوجوان نسل فٹ بال سے کافی لگائو رکھتی ہے، فٹ بال سے جنون کی حد تک لگائو کی وجہ سے ہی کراچی کے علاقے لیاری کو منی برازیل کہا جاتا ہے۔
لیاری کا بچہ بچہ فٹ بال سے اس حد تک لگائو رکھتا ہے کہ اس کھیل سے وابستہ تمام فٹ بالرز کی نام، تصاویر، ان کے مشاغل تک جانتے ہیں، لیاری میں لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی اس کھیل میں مصروف دکھائی دیتی ہیں، 11 سے 17 سال کے بچے باقاعدہ فٹ بال کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

لیاری کے بارے میں مشہور ہے کہ اس علاقے کا شاید ہی کوئی فٹ بالر ایسا ہو جس نے جوانی میں اپنی فٹ بال ’’کرمچ‘‘ کی گیند سے ننگے پاؤں شروع نہ کی ہو، لیاری کی مشہور گنجی گراؤنڈ اب صرف یادوں میں زندہ ہے۔ کسی زمانے میں جس جگہ یہ گرائنڈ ہوا کرتی تھا وہاں پیپلز پلے گراؤنڈ بن چکا ہے جو ایک طویل عرصے تک قانون نافذ کرنے والوں کے زیراستعمال رہا اور اس کے اصل مالک یعنی فٹبالرز اس میں کھیلنے کو ترستے رہے۔

لیاری کی فٹ بال دوستی کی ایک بہت ہی پرانی مثال 60 کے عشرے میں امریکی اور برطانوی قونصل خانوں کی جانب سے اس علاقے میں دکھائی جانے والی فٹ بال کی فلمیں تھیں۔ اس زمانے میں ان قونصل خانوں کی گاڑیاں مقررہ تاریخ پر رات کے وقت لیاری آتی تھی اور پروجیکٹر کے ذریعے اس دور کے بڑے کھلاڑیوں مثلاً جارج بیسٹ۔، یوسے بیو اور برازیلین کھلاڑیوں کے میچوں کی بلیک اینڈ وائٹ فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو 5 وکٹوں‌ سے ہرا دیا

لیاری منی برازیل یا لٹل برازیل کے نام سے مشہور ہے، اس کا بھی ایک خاص پس منظر ہے، لیاری کے لوگ عام طور پر افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ہم رنگ لوگوں سے بہت ملتے جلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ فٹ بال کے میدان میں بھی ان کی پسندیدگی اپنے ہم رنگ کھلاڑیوں سے رہی ہے جن کے لیے وہ خاص قسم کے جذبات رکھتے ہیں۔

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ لیاری کے کئی کھلاڑی برازیل اور لاطینی امریکہ کے کھلاڑیوں سے بہت مماثلت رکھتے ہیں، مثلاً ماضی کے ایک مشہور فٹ بالر غفور مجنا برازیل کے رابرٹو کارلوس سے بہت ملتے جلتے تھے اور دونوں کا کھیلنے کا انداز بھی ایک جیسا ہی تھا۔

کراچی میں جب ٹی وی آیا تو لیاری میں بھی ورلڈ کپ کے موقع پر ٹی وی پر میچز دیکھنے کا سلسلہ شروع ہوا، لیاری کے فٹ بالرز جہاں جہاں کھیلنے گئے اپنی دھاک بٹھائی، ان کے کارناموں کی گونج کلکتہ اور ڈھاکہ میں سنی جاتی رہی ہے، ترکی کی قومی ٹیم پاکستان آئی تو جبار اور مولابخش گوٹائی کی صلاحیتوں سے اس قدر متاثر ہوئی کہ انہیں اپنے ساتھ لے گئی جنہوں نے انقرہ میں چھ ماہ فٹ بال کھیلی۔

Back to top button