مریم نواز مقبول پنجابی گانوں پرپابندی کیوں لگادی؟

پنجاب حکومت کی جانب سے ذو معنی اور غیر اخلاقی قرار دے کر 132 گانوں پر پابندی کا فیصلہ جتنا سخت ہے، اتنا ہی متنازع بھی بنتا جا رہا ہے، کیونکہ حکومتی جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پی ٹی آئی حلقوں میں معروف گلوکار ملکو کا مقبول گانا نک دا کوکا بھی پابندی کی زد میں آ گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ حیرت اور سوالات اس گانے کو پابندی کا شکار قرار دیے گئے گانوں کی فہرست میں شامل کیے جانے پر اٹھائے جا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ گلوکار ملکو نے گانا نک دا کوکا سنہ 2023 میں اپنے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کیا تھا اور اس کی مقبولیت کے سبب گلوکار نے اس میں مزید مختلف بول بھی شامل کیے تھے، جن میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا بھی ذکر تھا جس کے بعد ملکو کو مبینہ طور پر کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور جون 2024 میں انھیں لندن جانے والی ایک پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا تھا۔ یہی گانا رواں برس جنوری میں قوال فراز امجد خان نے پنجاب کے دارالحکومت میں ایک تقریب کے دوران گایا تو ان پر بھی مقدمہ درج کر دیا گیا تھاجبکہ اب پنجاب حکومت نے اس گانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے اس گانے کو ’غیر اخلاقی‘ گانوں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سخت تنقید دیکھنے میں آ رہی ہے، سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ نک دا کوکا کو ’ذو معنی‘ قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ یہ گانا نہ صرف ماضی میں مختلف تقریبات اور ثقافتی پروگرامز میں بجتا رہا ہے بلکہ فلمی اور عوامی سطح پر بھی اسے کبھی متنازع نہیں سمجھا گیا۔ صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہی گانے برسوں تک قابلِ قبول رہے تو اب اچانک ان پر پابندی کیوں عائد کی گئی۔
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کو یہ بتانا چاہیے اگر نک دا کوکا چلانے کی اجازت نہیں، تو پھر کون سا کوکا چلا سکتے ہیں؟ اویس حفیظ نامی ایک صارف نے لکھا کہ بتایا جائے نک دا کوکا پر پابندی لگانے کی وجہ کیا ہے؟‘ انھوں نے پنجاب حکومت کو ’برداشت‘ بڑھانے کا مشورہ بھی دیا۔محمد عمران نے لکھا: فہرست میں متعدد گانے فحش ہیں،ان پر ضرور پابندی ہونی چاہیے۔ لیکن اس فہرست میں کئی گانے ایسے ہیں جو فلموں کا حصہ رہے ہیں۔‘ ’سوال یہ ہے کہ تب فلم کے ساتھ یہ گانے سینما پر چلانا ٹھیک تھا تو اب ان گانوں میں کیا خرابی آگئی ہے؟‘ امتیار خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے فحش گانوں پر پابندی اچھا ایکشن ہے، ان گانوں کے گلوکاروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔‘ تاہم حکومت کو نک دا کوکا سمیت دیگر غیر متنازع گانوں کو فہرست سے نکال دینا چاہیے، تاکہ حکومت کا ایک اچھا فیصلہ تنقید کی زد میں نہ آئے۔
خیال رہے کہ پنجاب حکومت نے منجھی ایک تے جوانیاں دو، چکھ لے انگور پاویں چوپ لے توں امیبیاں اور اکھا نال لے پپیاں سمیت 132 ’غیر اخلاقی‘ اور ’ذو معنی‘ گانوں پر سٹیج اور تھیٹر پرفارمنس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد صوبے بھر میں 132 گانوں پر ہر قسم کی سٹیج اور تھیٹر پرفارمنسز، خواہ وہ نجی ہوں یا کمرشل پرمکمل پابندی ہو گی۔محکمہ اطلاعات و ثقافت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق ممنوع قرار دئیے گئے گانوں کے بول، اشعار اور دھنیں غیر اخلاقی، اشتعال انگیز، فحش اور دوہرے معنی رکھتی ہیں، جو تھیٹر پرفارمنس کے طے شدہ ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پابندی تاحکمِ ثانی نافذ رہے گی اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ پنجاب بھر کے تمام ڈویژنل اور ضلعی آرٹس کونسلز کے ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور نجی تھیٹرز کے مالکان و پروڈیوسرز کو سختی سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ ممنوعہ گانوں کی فہرست پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ۔محکمے نے خبردار کیا ہے کہ ذرا سی کوتاہی بھی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ تھیٹر انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے ۔
حکومتی فیصلے بارے وضاحت دیتے ہوئےوزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پابندی کا مقصد معاشرے میں اخلاقی اقدار کا تحفظ اور سٹیج و تھیٹر کے ماحول کو مہذب بنانا ہے۔ نوٹیفکیشن میں شامل گانوں کے بول فحش اور ذو معنی ہیں اس لئے ان پر مزید پرفارمنس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق بعض گانوں کی شاعری اس حد تک نامناسب ہے کہ انہیں میڈیا میں دہرانا بھی ممکن نہیں۔
بسنت پر گرفتاری سے بچنے کے لیے کیا احتیاط کرنا ضروری ہے
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی موقف کے باوجود پابندی کا معیار واضح نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق فہرست میں شامل کئی گانے ماضی میں فلموں کا حصہ رہے ہیں اور سینما گھروں میں باقاعدہ نمائش کے دوران چلتے رہے ہیں، جس پر اس وقت کسی قسم کا اعتراض سامنے نہیں آیا۔ تاہم اب انھی گانوں پر پابندی لگا دی گئی ہے ناقدین سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اگر یہی گانے اس وقت قابلِ قبول تھے تو اب ان میں ’غیر اخلاقی‘ ہونے کا عنصر کیسے پیدا ہو گیا۔ سیاسی اور سماجی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ محض ثقافتی مسئلہ نہیں بلکہ اظہارِ رائے، فن کی آزادی اور ریاستی نگرانی کے دائرہ کار سے جڑا ہوا معاملہ بھی ہے۔ اگر اخلاقیات کے نام پر فیصلے کیے جائیں تو ان کے لیے شفاف معیار اور یکساں اطلاق ناگزیر ہوتا ہے، بصورت دیگر ایسے اقدامات تنازع اور ابہام کو جنم دیتے ہیں۔مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ گانوں کی فہرست میں نک دا کوکا سمیت کئی ایسے گانے بھی شامل کر دیے گئے ہیں جنہیں کسی صورت ذو معنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق حکومت کو اس فہرست پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنی چاہیے تاکہ اس فیصلے کو سیاسی انتقامی کارروائی کے طور پر دیکھے جانے کا تاثر پیدا نہ ہو۔
