جانور کے نیوٹرل ہونے سے انسان کیوں گھبرا رہا ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ جانور کے نیوٹرل ہو جانے کے بعد انسان نے گھبرانا شروع کر دیا ہے کیونکہ ماضی میں تو جانور اپنی وفاداری کے اظہار کے لیے ڈٹ کر انسان کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔
اپنی تازہ ترین استعاراتی تحریر میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جانوروں کو نیوٹرل قرار دینے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی جس کے بعد ملک بھر کے جانوروں نے اکٹھے ہو کر ایک مراسلے کے ذریعے ان سے اپنے نیتعال والے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے ایک غیر معمولی اجلاس میں جنگلی جانوروں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ انسانوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی میں آخر جانوروں کی اصطلاح کیوں استعمال ہورہی ہے مثلاً ’ہارس ٹریڈنگ‘ یا تین چوہے جو بقول کپتان کے ان کا شکار کرنے نکلے ہیں۔ جانوروں کے سردار ببر شیر نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سیاست دانوں کو وارننگ دی کہ اگر ان کے ساتھ یہ مذاق بند نہ ہوا تو وہ احتجاج کا ہر آپشن استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ وہ ’جنگل سے ڈی چوک‘ تک لانگ مارچ بھی کر سکتے ہیں اور اگر انہیں زور زبردستی سے روکنے کی کوشش کی گئی تو وہ جوابی حملوں کا آپشن بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
بقول مظہر عباس مختلف اقسام کے جانوروں نے خاص طور پر جنہیں انسان اپنی حفاظت کے لیے رکھتا ہے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ تو ہمیشہ سے وفادار رہا ہے اور اب اسے نیوٹرل کہہ دیا گیا یے۔ جانوروں کے اجلاس میں طنز کرتے ہوئے کہا گیا کہ دوسری طرف انسانوں کی وفاداری دیکھنی ہو تو ’عدم اعتماد‘ کی تحریک پر ووٹنگ میں سامنے آ جائے گی۔ تاہم اجلاس میں تب کشیدگی پیدا ہو گئی جب کچھ جانوروں نے خود سردار کی صدارت پر سوال اٹھا دیا اور کہا کہ وہ ہر مشکل وقت میں جنگل سے فرار ہو کر بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ سب نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اگر یہ الفاظ حکومتی سطح پر واپس نہیں لیے گئے تو ابتدائی طور پر شہروں سے ان تمام ’ساتھیوں‘ کو جنگل واپس بلا لیا جائے گا جو ابتک انسانوں کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیتے رہے ہیں۔ کچھ نے تو مثال دی کے ہمارے ایک ساتھی نے مرتے دم تک حکمرانوں سے وفاداری کا ثبوت دیا۔ اگر وہ غیر جانبدار ہوتا تو مالک بدل دیتا، جیسا کہ انسان کرتے ہیں خاص طور پرسیاست دان۔
مظہر عباس اپنے استعاراتی کالم میں مزید لکھتے ہیں کہ دوسری طرف جنگل کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر وزرات داخلہ اور جنگلات نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پہاڑوں اور جنگلات میں دفعہ 144 لگادی ہے اور ڈی چوک جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔
خلاف ورزی کرنے والے کو گولی مارنے کا حکم ہے جس پر جانوروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہروں میں ویسے ہی ان کے ساتھیوں کو انسانوں کو کاٹنے کے الزام میں ماورائے عدالت ماردیا جاتا ہے۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر آئے دن پائے جانے والے ایک مخصوص جانور کو حکومتی تحویل میں لینے کا فیصلہ ہوا ہے ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے قریبی ’چڑیا گھر میں نئے پنجرے، بھی تیار کر لیے گئے ہیں۔
اجلاس کے دوران کچھ جانوروں نے پلے کارڈ اور بینر بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا’’ جانور وفادار ہے، انسان غیر جانبدار ہے‘‘۔ انہوں نےیہ بھی کہا کہ اگر انہیں اچھے برے کی تمیز نہ ہوتی تو وہ مالک کواس کی خوشبو سے کیسے پہچانتے۔ وہ توسونگھ کربتا دیتے ہیں کہ یہ انسان وفادار ہے کہ غدار، اسکی گاڑی میں اسلحہ ہے یا چرس۔ انسان کو تو ممنوعہ اشیا اور ‘’شہد کی بوتل‘ کی بھی پہچان نہیں۔ یہاں تو انسانوں کو وفاداری تبدیل کرنے پر کروڑوں روپے ملتے ہیں اور اگر جانور وفاداری تبدیل کرلے تو اسے بے وفا کہا جاتا ہے۔
بقول مظہر عباس آخر میں جنگل میں ہونے والے اجلاس کے دوران جانور کو نیوٹرل کہنے کے خلاف احتجاج کو بین الاقوامی سطح تک پھیلانے کا فیصلہ ہوا۔ جانوروں نے اپنے غیر ملکی ساتھیوں کے لیے ایک ٹریول وارننگ بھی جاری کی ہے کہ وہ موجودہ صورت حال میں اپنے مالکوں کے ساتھ پاکستان آنے سے پہلے سردار کو مطلع کریں۔ گوکہ جلسے میں دیے گئے ان واضح ریمارکس کے بعد مسلسل وضاحتیں پیش کی جارہی ہیں مگر کچھ ممالک نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ نے ایک مراسلے میں واضح کیا ہے کہ ان کے ملک میں دونوں بڑی جماعتوں کے انتخابی نشان جانوروں پر ہیں اور اس طرح کی باتوں کو ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھاکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ انسان پھر دغا دے جاتا ہے مگر جانور مالک کی مرضی کے بغیر کسی سے بدتمیزی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
آخر میں ایک قرارداد کے ذریعہ حکومت اور اپوزیشن سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے معاملات میں ان پر اس طرح کے ریمارکس دینے سے گریز کریں، خاص طور پر ایک ایسے موقع پر جب اسلام آباد میں سیاسی اور انسانی درجہ حرارت اوپر جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔
مظہر عباس بتاتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان حصول اقتدار کے لیے رسہ کشی جاری ہے اور تصادم کا بھی خطرہ ہے۔
جانوروں کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی سے بھی درخواست کی گئی کہ عدم اعتماد کی تحریک کے وقت ان پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ وہ یہ تو سونگھ کر بتا سکتے ہیں کہ کس کی گاڑی میں شہد ہے اور کس میں اسلحہ یا بم مگر وہ کسی ایم این اے کے بارے میں یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ ا اعتماد والا ہے یا عدم اعتماد والا۔ لہٰذا بہتر ہے کہ اس طرح کے انسانوں کے پھیلائے ہوئے گند سے جانوروں کو دور رکھا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ لوٹا کریسی انسانوں کے کام ہیں،
ہمارے نہیں۔ اسی دوران حکمرانوں کے ان ریمارکس کا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی نوٹس لیا ہے
شرمیلا فاروقی کو نادیہ خان کیس میں شرمندگی کا سامنا
اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ کل تک جو موصوف کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائر لانے کا کریڈٹ لیتے تھے اب انہوں نے یوٹرن لے کر نیوٹرل کو جانور قرار دے دیا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وزارت تعلیم لغت میں لفظ جانبدار اور غیر جانبدار کی نئی تشریح کرنے جارہی ہے۔ تاہم جنگل کے سردار نے اپنے تمام ساتھیوں کو متحد رہنے کی اپیل کی ہے اور انسانوں سے تب تک دور رہنے کا کہا ہے جب تک یہ فیصلہ نہیں ہو جاتا کہ کون کس کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان گھبرائے تو گھبرائے لیکن تم نے گھبرانا نہیں ہے۔
