مریم نواز تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو لیکچر کیوں دے رہی ہیں؟

9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث مجرموں کو فوجی عدالتوں کی جانب سے قید کی سزائیں سنائی جانے کے بعد سے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے بظاہر اپنی تمام تر توجہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان طلبہ و طالبات پر مرکوز کر دی ہے۔ بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کی جانب سے تعلیمی اداروں میں کی جائے جانے والی تقریروں پر غور کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مریم نوجوانوں کی سیاسی اصلاح کی کوشش کر رہی ہیں۔
کبھی وہ نوجوانوں کے لیے پنجاب میں کسی سکیم کا افتتاح کر رہی ہوتی ہیں تو کبھی عوامی خطابات میں نوجوانوں کو مخاطب کر قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے متحرک کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اپنی اس کوشش میں انھوں نے کئی بار نوجوانوں کو مخاطب کر کے 9 مئی 2023 کو عسکری تنصیبات پر حملوں کی یاد دہانی بھی کروائی ہے۔ 8 جنوری کو سرگودھا یونیورسٹی میں طالبہ کے لیے ‘ہونہار سکالرشپ پروگرام’ کی تقریب کے دوران مریم نواز نے کہا کہ ‘میرے بچو! آپ نے کسی شیطان کے بہکاوے میں نہیں آنا۔۔۔ جو بچے ابلیس بہکاوے میں آ گئے انھوں نے 9 مئی کو آگ لگا دی، گولیاں چلا دیں۔۔۔ آج وہ بچے جیلوں میں ہیں دوسروں کے بچے آرام سے بیٹھے ہیں۔’
مریم نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ ’وہ آپ کے ہمدرد نہیں۔‘مریم آجکل عموماً سرکاری تقاریب میں 9 مئی کے واقعے کو دہراتے ہوئے نوجوانوں کو تلقین کرتی ہیں کہ وہ نفرت کی سیاست کا حصہ نہ بنیں۔
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مریم نواز کسی نئی پالیسی کے تحت نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ایسے بیانات دے رہی ہیں یا وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کو دہرا رہی ہیں؟ خیال رہے کہ گذشتہ ماہ فوجی عدالتوں نے 9 مئی کے احتجاج کے دوران عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث مزید 60 ملزمان پر جرم ثابت ہونے کے بعد انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنائی تھیں۔ ان 60 افراد میں عمران خان کے بھانجے حسان نیازی بھی شامل ہیں جنھیں کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
مریم نواز نے حسان نیازی کی مثال دیتے ہوئے کہا ‘فوجی وردی کو ایک ڈنڈے پر ٹانگ کر اس کی اتنی تضحیک کی اور پوری دنیا کو اس نے تماشہ دکھایا۔ اس کو دس سال قید ہو گئی۔’ انھوں نے سوال کیا کہ ‘حسان نیازی کے والدین کے دل پر کیا گزرتی ہو گی؟’ ایسے میں یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا مریم نواز اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کو دہرا رہی ہیں؟ تجزیہ کار وجاہت مسعود کے لیے قابل غور بات یہ ہے کہ مریم نواز اسی بیانیے کو دہرا رہی ہیں جو ’اسٹیبلشمنٹ نے 9 مئی کے بعد سے اپنایا ہوا ہے۔’
یاد رہے کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈایریکٹر جنرل احمد شریف بھی اپنی پریس کانفرنسز میں 9 مئی پر بات کرتے ہوئے نوجوانوں پر پروپیگنڈے کے اثرات پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔
راولپندی میں میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو اداروں اور ریاست کے خلاف کھڑا کیا گیا۔‘ اپنی اسی پریس کانفرنس میں انھوں نے والدین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ ان کے بچوں کا کس طرح استحصال ہوا ہے۔ ’کچھ لوگ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھولتے ہیں۔’
دوسری جانب 6 جنوری کو مریم نے ملتان کی بہاؤالدین یونیورسٹی میں تقریر کے دوران طالب علموں اور نوجوانوں کے لیے حکومت کے شروع کردہ منصوبے گنواتے ہوئے کہا کہ یہ سب آپ کے بہتر مستقبل کے لیے ہے۔ تاہم انھوں نے اپنے خطاب میں ان تمام منصوبوں کے بدلے میں نوجوانوں سے ایک عہد لینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’کبھی اپنے ملک کے خلاف نہیں جانا۔ جو آپ کو یہ کہے کہ ملک کو آگ لگا دو، سڑکیں بند کر دو، راستے روک دو، کاروبار بند کر دو، پیٹرول بم پھینک دو، گولیاں چلاؤ، پولیس والوں پر حملہ کر دو تو اس کے بہکاوے میں کبھی مت آنا۔’ گذشتہ سال بھی انھوں نے نوجوانوں کی کئی تقریبات میں اپنے سیاسی حریفوں کے بارے میں بالواسطہ طور پر بات کرتے ہوئے تنقید کے ساتھ ساتھ طالب علموں کو تلقین کی۔
دسمبر، ستمبر، اگست، جون، 2024 میں مختلف تقریبات میں مریم نے تقریر کرتے ہوئے بار بار ایک ہی بات دہرائی کہ ’وہ دور ہمشیہ کے لیے ختم ہو گیا ہے جس میں بچوں کو کیلوں والے ڈنڈے پکڑائے جاتے تھے، غنڈا گردی، دہشت گردی، جلاؤ گھیراؤ، شہداء کی یادگاریں جلائی جاتی تھیں۔‘ توجہ طلب بات یہ ہے کہ حال ہی میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی کئی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے دوروں کے دوران نوجوانوں کے ساتھ مختلف سیشن کیے گئے۔ ان میں سے چند کے متعلق آئی ایس پی آر نے پریس ریلیز جاری کی لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوئے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے ان تمام دوروں سے متعلق جاری کردہ ویڈیوز کے آخر میں طالب علموں کے رائے بھی شامل کی گئی جس میں تقریباً سب نے ایک بات کی کہ ‘ہمھیں بتایا گیا کہ کسی بھی بات پر یا خبر پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کرنا، سوشل میڈیا پر بتائی جانے والے ہر بات سچ نہیں ہوتی۔ ہماری بہت سی غلط فہمیوں کو دور کیا گیا۔’
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کار وجاہت مسود کا کہنا تھا کہ ‘آج کل ڈی جی آئی ایس پی آر فیفتھ جنریشن وار فئیر کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ اب ان کے خیال میں دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ سوشل میڈیا ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ فیصلہ سازوں نے ہمیشہ اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے ’ایک خاص ذہن تیار کیا ہے تاکہ پاکستان کی سیاست کو کنٹرول کر سکیں۔’
انھوں نے کہا کہ ‘آئی ایس پی آر کا کام نہیں ہے کہ وہ نوجوانوں کو ملک کی سیاسی سمت سے آگاہ کرے یا پھر انھیں سوشل میڈیا کے نقصانات یا افادیت کے بارے میں بتائیں۔‘ ان کا خیال ہے کہ مریم نواز بھی نوجوانوں کو بلاواسطہ طور پر ڈرا ہی رہی ہیں۔
اس الزام کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا دیکھ کر اگر یہ لگتا ہے کہ نوجوان عمران خان کے ساتھ ہیں تو یہ غلط فہمی ہے۔ جن تقریبات میں ہم جاتے ہیں وہاں نوجوان مریم نواز کو پسند کرتے ہیں۔ زیادہ تر بچے ایسے ہیں جو کسی فساد کا حصہ نہیں بننا چاہتے ہیں۔ یہی نہیں ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اگلے الیکشن میں ووٹ بھی ڈالیں گے۔ اس لیے میرے خیال میں اچھی پالسییوں کا اثر ضرور ہو گا۔’
یورپی پروازوں پر پابندی ہٹنے سے PIA کی نجکاری آسان ہونے کا امکان
ادھر تجزیہ نگار سلمان غنی اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘کسی واقعے کو جواز بنا کر تقاریر کے ذریعے مریم نواز نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ وہ عمران خان کی مقبولیت کم کرنے کی کوشش کے لیے سرگرم ہیں لیکن اب تک انھیں مطلوبہ نتائج نظر نہیں آرہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اصل سوال یہ ہے کہ نوجوانوں میں غصہ اور ردعمل کا مداوا ’کون اور کیسے کرے گا؟’
انھوں نے کہا کہ ملکی حالات کی وجہ سے نوجوان دوسرے ملکوں کا رخ کررہے ہیں اور اسی رحجان کا خوف ریاست اور حکومت پر طاری ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مریم نواز اور ریاست مل کر نوجوانوں کا غصہ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ انہیں اپنے مقصد میں کامیابی ملتی ہے یا نہیں؟۔
