مریم نواز پیپلز پارٹی کو دبانے کی کوشش کیوں کر رہی ہیں؟

وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے خلاف دھمکی آمیز بیانات پر معافی مانگنے سے انکار کے بعد دونوں اتحادی جماعتوں کے اختلافات میں شدت آ گئی ہے۔ مریم نواز پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور پیپلز پارٹی کو مزید دبانے کے موڈ میں نظر آتی ہیں۔
مریم نواز کی جانب سے پیپلز پارٹی پر تنقید کا سلسلہ رکنے کی بجائے طویل ہوتا جا رہا ہے۔ سیلاب متاثرین کی مالی مدد کے طریقہ کار پر اختلاف سے شروع ہونے والا معاملہ اب پانی اور وسائل کی تقسیم کی بحث میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے ایک بار پھر یہ موقف دہرایا کہ تمام صوبوں کو یکساں وسائل میسر ہیں مگر فرق یہ ہے کہ پنجاب کے وسائل اِس کے عوام پر لگتے ہیں جب کہ باقی صوبوں کو ملنے والا پیسہ ادھر ادھر ہو جاتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ پنجاب کے عوام کے حقوق کے لیے بات کرتی رہیں گی اور اس کے لیے کسی سے معافی نہیں مانگیں گی جیسا کہ مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی معاونت کرنے پر زور دیا تھا، ادھر مریم نواز کا اصرار ہے کہ پنجاب حکومت سیلاب زدگان کی مدد کے لیے کسی سے کوئی ڈکٹیشن نہیں لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم پورٹ پروگرام کے تحت صرف 10 ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں جبکہ میں سیلاب متاثرین کو 10 دس لاکھ روپے دینا چاہتی ہوں۔ انکا کہنا تھا کہ ہر مسئلے کا حل بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں۔
مریم نواز نے پیپلز پارٹی کی تجویز کو ’پنجاب کے اندرونی معاملات میں مداخلت‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پیپلزپارٹی اس معاملے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا دعویٰ تھا کہ پنجاب میں ’فوٹو سیشن‘ کے علاوہ سیلاب زدگان کے لیے کچھ نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو بے نظیر بھٹو کے نام سے چڑ ہے حالانکہ وہ صبح و شام بے نظیر بھٹو بننے کی ناکام کوشش میں مصروف رہتی ہیں۔
ادھر مریم نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی تنقید پر خاموش رہیں گی، تاہم پنجاب کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گی۔ مریم نواز نے چولستان میں نہریں نکالنے کے منصوبے کا بھی دوبارہ ذکر چھیڑ دیا اور کہا کہ یہ نہریں پنجاب کے پانی پر بننا تھیں اور کسی کو اِس کی مخالفت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی مخالفت کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے چولستان سے نہریں نکالنے کا منصوبہ ختم کر دیا تھا۔ مریم نے سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی پر اپنا غصہ نکالتے ہوئے مزید کہا کہ ہم پنجاب کے عوام کی جانب اُٹھنے والی ہر اُنگلی توڑ دیں گے۔
مریم نواز کے اس دھمکی آمیز بیان کی گونج پارلیمنٹ کے ایوانوں تک پہنچ گئی تھی، جہاں وفاق میں ن لیگ کی اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے مریم نواز سے اپنے اس بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیا تھا۔پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں اتحادی حکومت کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ جب تک مریم نواز انگلی توڑنے والے دھمکی امیز بیان پر معذرت نہیں کرتیں، پیپلز پارٹی کسی حکومتی قانون سازی میں اپنی سپورٹ نہیں دے گی۔
اس بیان بازی کے بیچ بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا ماضی میں مختلف مواقع پر اتحادی رہنے والی مسلم لیگ ن اور پپپلزپارٹی کے درمیان ایک بار پھر دُوریاں بڑھ رہی ہیں؟ کیا مریم نواز کو اپنے والد نواز شریف کی بھی آشیر باد حاصل ہے؟ کیا پیپلز پارٹی حکومتی حمایت سے پیچھے ہٹ سکتی ہے؟ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان کوئی بڑی دراڑ پڑنے کا امکان نہیں ہے۔
سینیئر تجزیہ کار سہیل ورائچ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اِس وقت سسٹم سے الگ تھلگ رہنے کی متحمل نہیں ہو سکتی، اور اسی لیے فی الحال کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ اُن کے بقول اس وقت تحریک انصاف دبی ہوئی ہے، اس لیے اکیلی پیپلز پارٹی نہیں لڑ سکتی۔ لیکن کل کو اگر صورتحال میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو پھر گراؤنڈ تیار ہو گا اور پیپلزپارٹی کے لیے مسلم لیگ ن کو چھوڑنا بھی آسان ہو گا۔‘
سہیل وڑائچ کے بقول دونوں جماعتیں چونکہ صوبائی سطح پر اپنے کشیدہ معاملات طے نہیں کر پا رہیں، لہذا آنے والے دنوں میں اِن کے درمیان کسی حد تک گڑبڑ ہو سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو یہ گلہ ہے کہ اُنھیں پنجاب میں جگہ نہیں دی جا رہی ہے جبکہ اُنھیں یہ بھی پتا ہے کہ جب تک پنجاب میں اُن کی جگہ نہیں بنتی تو وہ وفاق میں نہیں آ سکتے۔ لہذِا اگر سسٹم سے اُن کا یہ گلہ مزید بڑھ گیا تو پھر وہ اپنے کارڈز شو کریں گے۔ سہیل وڑائچ کے بقول مریم نواز یہ سمجھتی ہیں کہ اگر وہ پیپلز پارٹی کو دبائیں گی تو انھیں پنجاب میں مقبولیت ملے گی۔
انھوں نے کہا کہ جہاں تک صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا معاملہ یا قومی مالیاتی ایوارڈ کی بات ہے تو یہ معاملات پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ طے کرواتی ہے اور آئندہ بھی کرواتی رہے گی۔
پنجاب کی سیاسی صورتحال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار ماجد نظامی کہتے ہیں کہ تسلسل سے اس نوعیت کے بیانات دے کر مریم نواز مستقبل کی سیاسی پیش بندی کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ دریائے سندھ سے نہریں نکال کر چولستان کو آباد کرنے کا منصوبہ دراصل اسٹیبلشمنٹ کا ہے، لیکن اب مریم نواز بھی اس کی کُھل کر حمایت کر رہی ہیں۔
ماجد نظامی کے بقول بظاہر مریم نواز کو لگتا ہے کہ اب یہی نظام تسلسل کے ساتھ آگے بڑھے گا، لہذِا اس نظام میں اپنی جگہ مستحکم کرنے اور پنجاب میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کے لیے وہ ایسے بیانات دے رہی ہیں۔ اُن کے بقول پیپلزپارٹی بلوچستان چولستان کینال منصوبے کی مخالف ہے، لہذِا اس منصوبے کی حمایت کر کے مریم نواز اسٹیبلشمنٹ سے اپنے تعلقات مزید بہتر بنانا چاہتی ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ مریم نواز ’پنجاب اور پنجابیت‘ کی بات سنجیدگی سے کر رہی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے والد نواز نے بھی ’پنجابیت‘ کے نعرے پر ہی اپنی سیاست کو آگے بڑھایا تھا۔ اُن کے بقول ’جاگ پنجابی جاگ، تری پگ نوں لگ گیا داغ‘ کا نعرہ ریکارڈ پر ہے۔ اب بھی مریم پنجاب کو اپنا قلعہ بنانا چاہتی ہیں اور پیپلز پارٹی کو یہاں اپنی بحالی کا چیلنج درپیش ہے۔ سلمان غنی کہتے ہیں کہ وفاق میں شہباز حکومت پیپلز پارٹی کے سہارے پر کھڑی ہے۔ اسلیے وہاں دونوں جماعتوں کے تعلقات بہتر ہیں۔ لیکن جہاں تک پنجاب کی بات ہے تو یہاں مسلم لیگ نواز سولو پرواز پر ہے اور کسی کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
اُن کے بقول جہاں تک معافی کا مطالبہ ہے تو مریم نواز کا جو طرز عمل ہے، اس میں معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
