ملا ہیبت اللہ پاکستان میں دہشت گردی کیوں کروا رہا ہے؟

محمد عمر کے بعد امیرالمومنین کا منصب سنبھالنے والا ملا ہیبت اللہ اخونزادہ تحریک طالبان کی پشت پناہی کرتے ہوئے پاکستان میں بھی افغان طرز کی اسلامی امارات کے قیام کا خواہاں ہے اور اسی مقصد کے لیے ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ اگست 2021 میں امریکی افواج کے انخلاء کے بعد کابل میں قائم طالبان حکومت پر یہ الزام مسلسل عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان مخالف دہشت گرد نیٹ ورکس کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔
نامور صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انہی خدشات کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت کا طرزِ عمل نہ صرف خطے کے امن بلکہ پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے بھی سنجیدہ خطرات پیدا کر رہا ہے۔ نصرت کے مطابق، ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اگرچہ کابل میں باضابطہ حکومتی ڈھانچے میں نمایاں نظر نہیں آتے اور زیادہ تر قندھار میں قیام پذیر رہتے ہیں، تاہم ان کی منظوری کے بغیر طالبان حکومت کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔
ان کے بقول، ملا ہیبت کا کردار کسی حد تک ایران کے رہبرِ اعلیٰ جیسا ہے، اگرچہ ایران میں یہ اختیارات آئینی بنیادوں پر قائم ہیں جبکہ طالبان کے ہاں غیر منتخب شوریٰ کے ذریعے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ ملا ہیبت اللہ نے عیدالفطر کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں خطے کی بڑی جیوپولیٹیکل صورتحال، خصوصاً ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مبینہ دباؤ یا جنگی صورتحال کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ نصرت جاوید کے مطابق، ایک ایسے رہنما سے جو خود کو امیر۔المومنین کہتا ہے، توقع کی جاتی تھی کہ وہ امتِ مسلمہ کو درپیش بڑے مسائل پر رہنمائی فراہم کرے گا، تاہم ایسا نہیں ہوا۔
نصرت جاوید کے مطابق، پاکستان نے 1990ء کی دہائی میں بینظیر بھٹو کے دور سے لے کر نائن الیون کے بعد تک، شدید عالمی دباؤ کے باوجود افغان طالبان کی مالی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھی۔ اسی حمایت کے نتیجے میں طالبان 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان نے پاکستان کے لیے احسان مندی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ایک مختلف حکمت عملی اختیار کی۔ ان کے بقول، افغان طالبان کے نظریاتی حامیوں نے پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں اضافہ کیا اور حقیقی اسلام کے نفاذ کے نام پر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ نصرت کے مطابق افغانستان کی سرزمین پر ٹی ٹی پی کے ایسے ٹھکانے قائم کیے گئے جہاں سے پاکستان میں دراندازی اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ امریکی افواج کے چھوڑے گئے جدید ہتھیار بھی ان عناصر کو فراہم کیے گئے۔ پاکستان نے اس حوالے سے طالبان حکومت کو متعدد بار شواہد فراہم کیے اور سفارتی سطح پر قطر اور ترکی جیسے ممالک سے بھی مدد طلب کی، تاہم خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔
نصرت جاوید کے مطابق، طالبان حکومت نے پاکستان کے تحفظات دور کرنے کے بجائے اپنے وزیر خارجہ کو بھارت بھیج کر اپنی سفارتی ترجیحات کا عندیہ دیا۔ لیکن افغان طالبان کی پشت پناہی سے پاکستان میں تحریک طالبان کے دہشت گردوں کی جانب سے حملوں میں تیزی آنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ سرحد پار افغانستان میں موجود دہشت گردی گئے مراکز کو تباہ کر دیا جائے۔ اب اسی مقصد کے تحت پچھلے چند ہفتوں سے افغانستان میں پاکستانی فضائیہ مسلسل بمباری کر رہی ہے۔
ایران پر حملے نے ٹرمپ کی صدارت خطرے میں کیوں ڈال دی؟
نصرت جاوید کے مطابق، افغانستان میں طالبان حکومت کے طرزِ حکمرانی اور اس کی علاقائی پالیسیوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا دیا تھا۔ لہذا ضروری تھا کہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے ایک موثر فوجی کارروائی کی جائے۔
