عطاالحق قاسمی کی نظر میں نواز شریف اعلی پائے کے لیڈر کیوں ہیں؟

معروف لکھاری اور کالم نگار عطاالحق قاسمی نے کہا ہے کہ اس وقت میاں نواز شریف کے قد کاٹھ کا کوئی اور لیڈر ہمارے درمیان موجود نہیں ہے۔ انہوں نے قید تنہائی کاٹی، اور وہ بھی جیل کے ایسے سیل میں جہاں کسی طرف سے روشنی کا گزر نہیں تھا، نہ دن کا پتہ چلتا تھا اور نہ رات کا۔

روزنامہ جنگ کیلئے اپنی تحریر میں عطااللہ قاسمی کہتے ہیں کہ دوران قید نواز شریف کو جہاز میں ہتھکڑیاں لگا کر لایا بٹھایا جاتا تھا، ان کی بیوی زندگی کے آخری سانس لے رہی تھی لیکن انہیں اسے دیکھنے کی اجازت نہ ملی۔ انکی بیٹی مریم نواز کو باپ کے سامنے گرفتار کیا گیا، زندگی کے بہت سارے قیمتی سال انہیں پردیس میں گزارنا پڑے۔ ہائی جیکنگ کے مضحکہ خیز الزام میں انہیں گرفتار کیا گیا جس کی سزا موت تھی۔ یہ شخص اپنے اصولوں کی خاطر وزارتِ عظمیٰ سے محرومی کو خاطر میں نہ لایا اور وہی کہا اور کیا جو اس کے ضمیر کی آواز تھی۔ اس کی ایک ہاں سے اس کے سارے ’’گناہ‘‘ معاف ہوسکتے تھے مگر یہ چیز اس کے خون میں شامل نہیں تھی۔

طا الحق قاسمی کہتے ہیں کہ نواز شریف کی بہادری اور جراتِ رندانہ کے علاوہ ایک صفت ایسی ہے جو کم کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ وہ ایک اعلیٰ درجے کے انسان ہیں، غرور اور تکبر ان کے قریب سے نہیں گزرا۔ وہ اللہ کے عاجز بندے ہیں اور مجھے اس حوالے سے اتنے واقعات یاد ہیں کہ وہی بیان کروں تو ختم ہونے میں نہ آئیں، وہ بتاتے ہیں کہ میاں نواز شریف سے میری محبت کا سلسلہ تب شروع ہوا، جب وہ جنرل ضیاء الحق کے ’’سایۂ رحمت‘‘ سے نکل آئے کیونکہ میں نے کبھی کسی آمر کی حمایت نہیں کی، میں نے نہ صرف یہ کہ ان کے خلاف قلمی جہاد کیا بلکہ دورِ جوانی میں ان کے خلاف جلسے جلوسوں میں بھی شرکت کی۔ اسی لیے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ناپسندیدہ فہرست میں شامل ہوں۔

قاسمی کہتے ہیں کہ نواز شریف سے میری محبت کو نصف صدی ہو چلی ہے۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں، سب سے بڑی وجہ یہ کہ وہ بہت بہادر انسان ہیں۔ دو پستول بردار جرنیل ان سے استعفیٰ لینے کیلئے گئے تھے، جس کا جواب نواز شریف نے یہ دیا تھا کہ آپ یہ استعفیٰ ’’اوور مائی ڈیڈ باڈی‘‘ ہی لے سکتے ہیں۔ نواز شریف چاہتے تھے کہ ہر ادارے کو اپنے مخصوص دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے، کارگل کا ایڈونچر میاں صاحب کو بے خبر رکھ کر کیا گیا جسکے نتیجے میں امریکہ کی خفگی دور کرنے کیلئے امریکہ کا دورہ کیا۔ بے نظیر بھٹو کو جب شہید کیا گیا، فطری طور پر کارکن سخت طیش کے عالم میں تھے، نواز شریف اس مشتعل مجمع میں پہنچ گئے اور بے نظیر کی شہادت کے سوگ میں شریک ہوئے۔ یہ بہت خطرناک فیصلہ لگا مگر نواز شریف خطرات سے ٹکرانے میں کبھی تامل سے کام لیتے نظر نہیں آتے۔نواز شریف کے ذہن میں پاکستان کی ترقی کا پورا روڈ میپ ہے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ کشمیر سے دستبرداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر ملک کے مفاد میں ہے کہ دشمن کی دشمنی کو تجارتی تعلقات سے نارمل کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں وزیراعظم ہندوستان واجپائی بس میں سوار ہو کر آئے اور مینارِ پاکستان پر کھڑے ہو کر اکھنڈ بھارت کی خواہش کو یہ کہہ کر خاک میں ملا دیا کہ ہم پاکستان کی خودمختاری اور اس کی سلامتی کے قائل ہیں۔

عطااللہ قاسمی کہتے ہیں کہ نواز شریف کو تین مرتبہ وزارت عظمی سے بے دخل کیا گیا، ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اپنے اصولوں پر کمپرومائز کرتا اور ساری عمر چین کی بانسری بجاتا۔ جب انڈیا نے ایٹمی دھماکے کیے اور اس کے ساتھ ہی اس نے پاکستان کو حقیر سمجھ کر آئے روز ذلت آمیز دھمکیاں دینا شروع کیں تو پاکستان نے بھی ایٹمی دھماکوں کا پروگرام بنایا۔ اس معاملے میں اختلاف کرنے والے بھی موجود تھے مگر اس کے حق میں سب سے بلند آہنگ آواز نواز شریف کی تھی۔  امریکہ نے انہیں انڈر ہینڈ ارب ہا ڈالرز کی پیشکش کی، یہ رقم پاکستان کو نہیں نواز شریف کو بطور رشوت پیش کی جا رہی تھی۔ مگر نواز شریف نے یہ آفر حقارت سے ٹھکرا دی اور پانچ کی جگہ چھ دھماکے کرائے۔ لہذا میں نواز شریف کو بطور لیڈر اور بطور انسان ایک اعلی مقام پر فائز دیکھتا ہوں۔

Back to top button