جاتی امرا میں مقیم نواز شریف آخر خاموش کیوں ہیں؟

 

 

 

سیاسی محاذ پر میاں نواز شریف نے طویل عرصے سے خاموشی کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ نواز شریف کی یہ خاموشی، بدلا ہوا طرزِ سیاست اور بظاہر سیاسی گوشہ نشینی سیاسی حلقوں میں مسلسل قیاس آرائیوں اور تنقید کی زد میں ہے۔نواز شریف کی ملک واپسی کو دو برس گزر چکے، نہ ملک گیر جلسوں کی بازگشت سنائی دی، نہ کوئی نیا جارحانہ بیانیہ سامنے آیا۔ پارٹی صدارت سنبھالنے کے باوجود وہ سیاسی درجہ حرارت بڑھانے کی بجائے جاتی امرا تک محدود ہو چکے ہیں۔ ناقدین نواز شریف کی خاموشی کو عقب نشینی قرار دیتے ہیں، جبکہ مبصرین کا ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ وقتی طور پر چپ کا روزہ رکھنے والے نواز شریف درحقیقت نقصان میں نہیں بلکہ فائدے میں ہیں۔ لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے, نواز شریف خاموش کیوں ہیں؟ کیا یہ خاموشی مجبوری ہے، حکمتِ عملی ہے یا ایک سوچا سمجھا سیاسی وقفہ؟  کیا وہ واقعی خاموش ہیں یا پسِ پردہ نئی بساط بچھا رہے ہیں؟ کیا یہ سکوت اعتماد کا مظہر ہے کہ کارکردگی خود بولے گی، یا محتاط سیاست کی مجبوری؟ کیا یہ طوفان سے پہلے کا سکوت ہے یا بدلتی سیاسی بساط پر ایک سوچا سمجھا توقف؟ آنے والے مہینے طے کریں گے کہ یہ خاموشی دوراندیشی ثابت ہوتی ہے یا سیاسی رسک۔ تاہم  مبصرین کے مطابق سچ یہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں نواز شریف کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے اس کے بعد اب ان سے یہ سوال کرنا نہیں بنتا کہ وہ خاموش کیوں ہیں۔

 

خیال رہے کہ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے عمومی تاثر یہی ہے کہ تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف اب عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے جاتی امرا تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ 21 اکتوبر 2023 کو پاکستان واپسی کے بعد نواز شریف نے سیاست میں ایک نئی اننگ کا آغاز کیا جو کہ قانونی فتوحات، انتخابی مہمات اور اتحادی سیاست سے بھرپور تھی۔ تاہم، الیکشن 2024 میں تحریک انصاف کی یاسمین راشد کے مقابلے میں متنازع کامیابی حاصل کرنے کے بعد سے وہ عملی سیاست سے علیحدگی اختیار کیے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی سیاسی معاملات پر معنی خیز خاموشی نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ان کی سیاست اب صرف جاتی امرا تک محدود ہو چکی ہے؟ مبصرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں میاں نواز شریف کی خاموشی، طرز سیاست اور سیاسی گوشہ نشینی پر طرح طرح کی قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بیشتر ناقدین انھیں طنز یا تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں

 

تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف کا بنیادی فوکس گورننس اور عوامی بہبود پر ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عوام میں جانے سے پہلے ڈیلیور کرنا ناگزیر ہے، حکومت میں وہ کر پہلے 3 سے 4 سال کے دوران حکمرانی کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔ سیاسی سرگرمیاں صرف آخری ڈیڑھ سال تک محدود رہیں۔ ذرائع کے بقول نواز شریف اس وقت کوئی نیا بیانیہ بنانے کے موڈ میں نہیں ہیں، بلکہ گورننس کے نتائج کو ہی اپنی سیاسی طاقت کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں نواز شریف کا مضبوط ووٹ بینک موجود ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ ووٹرز کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر متاثر کیا جائے۔ نواز شریف کی واضح پالیسی یہ ہے: "پہلے کام کرو، پھر ووٹ مانگو”۔ 2024 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ ’خدمت کو ووٹ دو‘ تھا، جو ترقی اور عوامی خدمت پر مبنی تھا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف 2029 کے آئندہ انتخابات میں بھی اسی بیانیے کو بنیاد بنا کر چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف خود سیاسی سرگرمیوں سے گریز کر رہے ہیں بلکہ مریم نواز کو بھی یہی مشورہ دیتے ہیں کہ سیاست بعد میں کریں گے پہلے حکمرانی کا ماڈل مضبوط کرنے پر توجہ دیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی میں تنظیمی تبدیلیاں بھی اسی وقت ہوں گی جب گورننس کے نتائج عوام تک پہنچ جائیں۔ تب تک نواز شریف عوامی رابطہ مہم یا جلسوں سے گریز کرتے رہیں گے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ حقیقی کارکردگی ہی ووٹرز کو قائل کرے گی۔

 

شریف خاندان کے قریب خیال کیے جانے والے معروف تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق، نواز شریف کی واپسی پارٹی کی ضرورت تھی، لیکن ان کی مفاہمتی پالیسی نے انہیں اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں کبھی عمران خان کھڑے تھے۔ بنیادی وجہ یہ بنی کہ الیکشن 2024 سے پہلے ہی یہ طے ہو چکا تھا کہ مریم نواز پنجاب کی وزارت اعلی حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ دوسری جانب شہباز شریف پہلے ہی وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے، ایسے میں نواز شریف کی جگہ بنتی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ مزید مشکل یہ آن پڑی کہ نواز شریف کا الیکشن رزلٹ بھی متنازع ہو گیا جس کے بعد وہ وزارت عظمی کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔ جس کے بعد نواز شریف نے سیاسی گوشہ نشینی اختیار کر لی۔

 

تاہم سینیئر تجزیہ کار ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو یہاں تک تو قبول کرتی ہے کہ وہ ملک میں رہیں، پارٹی کی قیادت کریں، پارٹی کو ہدایات جاری کریں لیکن لیڈنگ رول کے لیے میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول نہیں ہیں۔ اسی لیے 8 فروری کے الیکشن کے بعد شہباز شریف اور مریم نواز کو آگے لایا گیا ہے، ہاؤس آف شریف میں نواز شریف کی جگہ نہیں بن پا رہی، نواز شریف اگر کوئی قائدانہ کردار ادا کرتے بھی ہیں تو انہیں اپنے گھر کے اندر سے مشکلات کا سامنا ہوگا، دوسرا انہیں ریاستی اداروں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ماجد نظامی کے بقول موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں میاں نواز شریف کی حیثیت خاندانی بزرگ کی ہے تاہم ملک میں رائج ہائبرڈ نظام میں نواز شریف کے سیاسی افکار کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نواز شریف کے پاس نہ تو انتظامی طور پر کوئی طاقت ہے، اور نہ ہی ان کے پاس ایسے کوئی اختیارات موجود ہیں جن کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ وہ پاکستانی سیاست میں کوئی کردار ادا کریں تو انہیں کہیں سے کوئی مثبت جواب ملے گا، مسئلہ سیاست میں کردار کا نہیں، مسئلہ ہائبرڈ نظام کا ہے۔‘ جونواز شریف کے سیاسی میدان میں کھل کر کھیلنے کے سخت خلاف ہے۔

ISPR نے سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی طبیعت سے متعلق اپڈیٹ جاری کر دی

ناقدین کے مطابق نواز شریف پاکستانی سیاست میں ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جاتی امرا تک محدود ہونا، ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے انحراف، اور عوامی رابطے کی کمی نے نواز شریف کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایسے میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا وہ پاکستانی سیاست میں دوبارہ فعال کردار ادا کر پائیں گے یا ان کی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ وقت ہی اس کا فیصلہ کرے گا۔

 

Back to top button