نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کو مسٹر الائچی کیوں کہا جاتا ہے؟

 

 

 

نیویارک کے میئر کا مشکل ترین الیکشن جیتنے والے ظہران ممدانی چند ماہ پہلے تک ایک گمنام شخص تھے۔ ان کا ایک ہپ ہاپ آرٹسٹ سے نیو یارک سٹیٹ اسمبلی کے رکن بننے اور پھر سب سے بڑے امریکی شہر کا میئر بننے تک کا سفر یقیناً متاثر کن ہے۔ ان کا پورا نام ظہران کوامے ممدانی ہے جو 1991 میں یوگنڈا میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد محمود ممدانی ایک یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر تھے۔ ظہران کی والدہ میرا نائر بالی وڈ اور ہالی وڈ کی معروف فلمساز ہیں جنہوں نے Monsoon Wedding  مون سون ویڈنگ اور The Name Sake دی نیم سیک جیسی اہم فلمیں بنائی ہیں۔

 

ظہران اپنی خاندان کے ساتھ جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں بھی رہے ہیں لیکن جب وہ سات سال کے تھے تو خاندان کے ساتھ نیو یارک آ گئے۔ انھوں نے نیو یارک کے برونکس علاقے میں پرورش پائی جو کہ ایک ورکنگ کلاس اور ثقافتی تنوع سے بھرپور علاقہ ہے۔ انھوں نے ‘افریقانا سٹڈیز’ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ سنہ 2024 میں ان کی شادی شامی نژاد امریکی آرٹسٹ راما دعاجی سے ہوئی۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ظہران ممدانی نے بطور کونسلر کام کیا جس کا مطلب ایک ایسا مشیر ہے جو غریب خاندانوں کو قرض کی عدم ادائیگی وجہ سے جبری بے دخلی سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

 

میدان سیاست کا رخ کرنے سے پہلے ممدانی نے بطور آرٹسٹ بھی اپنی قسمت آزمانے تھی۔

وہ ’مسٹر کارڈیمم‘ Mr Cardamom یعنی مسٹر الائچی کے نام سے ریپ گانا گایا کرتے تھے۔ 2019 میں ان کا گانا ’نانی‘ خاصا زیر بحث رہا، جس میں عالمی شہرت یافتہ مصنفہ مدھور جعفری نے ایک بے باک نانی کا کردار ادا کیا۔ ان کے ایک ریپ گانے میں پاکستانی گلوکار علی سیٹھی نے بھی حصہ لیا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ نجم سیٹھی کے صاحبزادے علی سیٹھی نے ممدانی کی حالیہ انتخابی مہم میں بھی متحرک کردار ادا کیا۔

 

ایک انٹرویو میں اپنے ریپ گانوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ظہران ممدانی نے بتایا کہ ’فنکار اس دنیا کے کہانی نگار ہوتے ہیں، لہٰذا ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ وہ صرف برائے نام ہمارے ساتھ نہ ہوں بلکہ ہم ان کے شانہ بشانہ ساتھ چل رہے ہوں۔ سال 2020 میں انھوں نے نیویارک سٹیٹ اسمبلی کے لیے انتخاب لڑا اور دس سال تک جیتنے والے رکن کو شکست دے دی۔ وہ ریاستی اسمبلی میں منتخب ہونے والے پہلے جنوبی ایشیائی مرد، پہلے یوگنڈا نژاد اور صرف تیسرے مسلمان بنے۔

ان کی الیکشن مہم میں لوگوں کو کافی دلچسپی تھی کیونکہ انھوں نے ایسے مسائل اٹھائے جو کہ نیو یارک جیسے مہنگے شہر کے عام لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔

ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود ممدانی نیویارک کا مئیر کیسے بنا؟

ممدانی نے اپنی میئرشپ کی الیکشن مہم میں بنیادی طور پر ایک سوشلسٹ ایجنڈا پیش کیا۔ انھوں نے شہر میں رہائش، نقل و حمل اور کھانے کی سہولیات کو زیادہ سے ذیادہ سستا اور منصفانہ بنانے کا وعدہ کیا ہے حالانکہ انکے ناقدین کے مطابق یہ وعدے قابل عمل نہیں ہیں۔ان کی انتخابی مہم اس لیے دلچسپ رہی کہ ان  کی سوشل میڈیا ویڈیوز بالی وڈ کے گانوں کے ساتھ سماجی انصاف کے پیغامات سے بھری ہوتی تھیں۔

ظہران ممدانی کے حامیوں میں نوجوان ووٹرز، تارکینِ وطن اور ترقی پسند طبقات شامل ہیں۔

 

نیو یارک شہر کے جیکسن ہائٹس جیسے محلوں میں، جہاں جنوبی ایشیائی، لاطینی امریکی، اور مشرقی ایشیائی کمیونٹیز آباد ہیں، ممدانی کی الیکشن مہم ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ ان کے لیے کام کرنے والے رضاکار انگریزی کے علاوہ ہندی، اردو، بنگلہ اور ہسپانوی زبانوں میں میں گھر گھر جا کر ان کے حمایت میں مہم چلا رہے تھے۔

انکے حامیوں نے نیویارک شہر کی تاریخ کے سب سے بڑا الیکشن فیلڈ آپریشن کیا، جو تقریباً 40,000 رضاکاروں پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ 10 لاکھ سے زیادہ گھروں تک پہنچے اور ممدانی کے لیے ووٹ مانگے۔

 

ظہران ممدانی وائرل ویڈیوز اور پوڈکاسٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے ان ووٹروں تک پہنچے جو کہ ڈیموکریٹ پارٹی سے مایوس تھے، انھوں نے ایک ایسے وقت میں نیویارک کے میئر کا الیکشن جیتا ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی کے اپنے ارکان کا اعتماد کم ترین سطح پر ہے۔

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ٹرمپ انتظامیہ کی مخالفت کے باوجود اپنے انتخابی وعدے پورے کر پائیں گے جبکہ ان کے پاس ماضی کا کوئی انتظامی تجربہ بھی نہیں ہے۔ ان کا اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ تعلق بھی پیچیدہ ہے کیونکہ وہ بائیں بازو کے ڈیموکریٹس کے لیے قومی سطح پر نمایاں شخصیت بن چکے ہیں جسے حسد کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

 

ظہران ممدانی خود کو جمہوری سوشلسٹ کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بجائے غریب کارکنوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔ لہذا دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اپنی انتخابی مہم میں اعلان کردہ ایجنڈے پر عمل درآمد کر پائیں گے یا نہیں؟

Back to top button